دہری شہریت کے مقدمے میں دہرا معیار؟


مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ جناب چیف جسٹس صاحب نے کراچی میں عدالت لگانے کے بعد میئر کراچی وسیم اختر کو کمرائے عدالت میں طلب کر کے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ آپ کا کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے، میرے دوسرے وزٹ سے سے قبل اسے صاف ہو جانا چاہیے۔ کچرا اسی طرح اٹھتا رہا جو معمول تھا لیکن جب وہ چند دنوں کے بعد وزٹ پر آئے تو کراچی کی صفائی کی بہت تعریف کی اور کہا کہ اب کراچی کا سارا کچرا اٹھ چکا ہے اور کراچی بالکل صاف ستھرا ہو چکا ہے۔

اس صفائی کا سہرا میئر کراچی کی بجائے وزیر اعلیٰ سندھ جناب مراد علی شاہ کے سر باندھا گیا اور ان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ڈانٹ اور ہدایت میئر کراچی کے لئے اور تعریفیں وزیراعلیٰ کی، بجائے خود یہ ایک تعجب خیز بات تھی ہی لیکن حیرت اس بات پر تھی کہ سارا کراچی انھیں کچرے سے پاک اور لش پش کرتا کیسے نظر آنے لگا؟

امید تھی کہ تحریک انصاف کی کراچی میں شان دار فتح کے بعد کراچی کچرے اور آلودگی سے صاف ہو جائے گا لیکن شاید اس کی قسمت میں بد قسمتی لکھ ہی دی گئی ہے اور اب جب تک تقدیر لکھنے والا از خود اس کی قسمت نہیں بدلے گا اس وقت تک شاید حالات تبدیل ہی نہ ہوں۔

پاکستان بھی عجیب ملک ہے۔ جو بات کسی کے لئے زہرِ قاتل ہوتی ہے وہی بات کسی دوسرے کے لئے تریاق بن جاتی ہے۔ جس جرم میں منتخب ارکان اسمبلی اپنی نشستوں سے نا اہل قرار دے دیے جاتے ہیں اور سرکاری عہدے سرکاری افسران سے چھین لئے جاتے ہیں وہی جرم کسی کے لئے روپے پیسوں کی بارش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

خبر ہے کہ ”عدالت عظمیٰ نے برطانوی شہری ذوالفقار حسین عرف زلفی بخاری کو وزیر اعظم عمران خان کے بطور معاون خصوصی کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا بازی کے معاون خصوصی شجاعت عظیم کو دُہری شہریت رکھنے پر عہدے سے فارغ کر چکی ہے۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری برانچ میں سماعت کی۔ درخواست گذار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جس میں دہری شہریت کا حامل شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا تو ایسے شخص کو کابینہ کا رکن کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمین سے متعلق دہری شہریت کے بارے میں فیصلہ موجود ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’’اراکین پارلیمنٹ کی نا اہلی سے متعلق قوانین کا اطلاق زلفی بخاری پر نہیں ہوتا“۔

حقیت یہ ہے کہ عدالت کوئی کام بے دلیل و بلا جواز نہیں کیا کرتی، چناں چہ ”چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی قدر کرتی ہے، چوں کہ انھوں نے ڈیم کی تعمیر کے لیے قابل ذکر فنڈز دیے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی امور چلانے کی ذمے داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے، اس لیے معاون خصوصی تعینات کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے اور عدلیہ ان کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے درخواست گذار سے کہا کہ وہ ان کے کہنے پر زلفی بخاری کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹا سکتی، البتہ پارلیمنٹ کو اس بارے میں تجاویز دے سکتی ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران وقفہ کر دیا اور وقفے کے بعد زلفی بخاری کی تعیناتی کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’’اگر زلفی بخاری نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تو پھر عدالت اس معاملے کو دیکھے گی“۔

کہا گیا ہے کہ کیوں کہ انھوں نے ڈیم کی تعمیر میں فنڈز دیے ہیں، اس لئے قانون ان پر نرم کیا جا رہا ہے۔ اب کیا کہا جائے، اس کے معنیٰ تو یہ ہوئے کہ ڈیم نہ ہوا آئین و قانون میں ترمیم کا ایک ایسا سافٹ ویئر ہو گیا، کہ جو بھی اس میں رقم ڈالنے کے بعد مطلوبہ کمانڈ دے گا اس کا گناہ ثواب میں بدل جائے گا۔ پھر فرمایا جا رہا ہے، ”بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی قدر کرتی ہے، چوں کہ انھوں نے ڈیم کی تعمیر کے لیے قابل ذکر فنڈز دیے ہیں، تو وہ دُہری کیا اگر اکہری، یعنی پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان کی شہریت نہیں رکھتے، وہ بھی محض اس لئے قابل قدر ہیں، کہ وہ ڈیم کے لئے فنڈ دے رہیں۔ تبھی وہ قابل احترام محض ڈیم میں فنڈ دینے کی وجہ سے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تعمیر نو کے لئے ان کے جذبات قابل فخر و قدر ہیں لیکن کیا اس بات کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آئین اور قانون میں تبدیلی کر لی جاتی۔ دہری شہرت کے حامل افراد کو جب پاکستان کی سکیورٹی کے لئے خطرناک قرار دیا جارہا تھا اور ارکان اسمبلی اور سرکاری عہدے داروں کے لئے یہ بات مشروط کر دی گئی تھی کہ وہ غیر ملکی شہریت ختم کریں یا اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں تو اس وقت بھی یہ بات کہی جارہی تھی کہ ایسا نہ کہا جائے اور ان کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے تو یہ بات عدالت تسلیم کرنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوئی۔

ڈیم میں فنڈ میں شرکت پر اب ایسے سارے پاکستانی اچھے لگنے، پر مجھے اپنے اسکول کے زمانے میں اپنے کلاس ٹیچر کی ایک بات یاد آ گئی، وہ کہا کرتے تھے کہ پیسا دینے والا کتنا ہی بد صورت کیوں نہ ہو، وہ جب رقم آپ کو پکڑا تا ہے تو نہایت حسین نظر آنے لگتا ہے۔ کچھ ایسی ہی بات اب سامنے آ رہی ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی ایک فرد نا اہل و نا لائقِ عہدہ قرار پاتا ہے، مگر دوسرا فرد اس لئے خوب صورت لگنے لگتا ہے، کہ وہ ”پیسا“ آپ کی ہتھیلی پر رکھ رہا ہوتا ہے۔

ایک اور نہایت عجیب منطق یہ بھی بیان کی گئی کہ ”ملکی امور چلانے کی ذمے داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے، اس لیے معاون خصوصی تعینات کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے اور عدلیہ ان کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی“۔ کیا یہ طرزِ استدلال کچھ عجیب سا نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی امور چلانا وزیر اعظم ہی کا کام ہے، لیکن کیا وزیر اعظم قانون سے بالا تر ہے اور وہ ایسے فیصلوں کے خلاف بھی طرز عمل اختیار کر سکتا ہے، جس پر عدالت کئی افراد کو سزائیں سنا چکی ہو؟ اگر ملکی امور چلانے کی ذمے داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے، کو جواز بنا کر عدالت ایک قانون کو موجودہ وزیر اعظم کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتی تو کیا یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان نہیں تھے؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں عدالت کے کیے گئے فیصلوں پر رقم طرازی مناسب نہیں لیکن کیا عدالت کے لئے رائے دینا اور وہ بھی نیک نیتی کے ساتھ، پاکستان میں اس بات کی بھی اجازت نہیں؟

عدالت نے جس نکتے کو سامنے رکھ کر دُہری شہرت پر پا بندی لگائی تھی، اس میں وزن تھا۔ ایسا فرد جس کے پاس پاکستان کی شہریت ہو اور وہ کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف بھی اٹھا چکا ہو، پاکستان کے لئے بہرحال خطرہ ہی ہے، اس لئے کہ ایسے بہت سارے معاملات، فیصلے اور معاہدے جن کو خفیہ رکھا جانا، ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہو، وہ اگر کسی بھی ایسے فرد کے علم میں آ جائیں، جو حلفاً کسی اور ملک کا بھی وفادار ہو، کیا سلامتی کے لئے خطرہ نہیں؟

ایسے عالم میں وزیر اعظم کا مشیر ہونا جو ملکی امور چلانے کا ذمہ دار ہو، ہر اہم اور خفیہ ترین معاہدوں کا بھی امین ہو اور دفاعی اعتبار کے ہر قسم کے منصوبے اس کی نگاہ سے گزرتے ہوں اور ان تمام باتوں کی مشاورت میں دُہری شہریت رکھنے والا مشیر خاص بھی ہو تو معاملہ اتنا سہل نہیں جتنا سہل عدالت عظمیٰ نے سمجھ لیا ہے۔

ان ساری باتوں کوسامنے رکھ کر جس قسم کی اجازت عدالت عظمیٰ نے زلفی بخاری کو مشیر رکھنے کے سلسلے میں وزیر اعظم کو دی ہے، اس پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مان بھی لیا جائے کہ بخاری صاحب نہایت محب وطن ہیں اور ملک کے رازوں کے امین ثابت ہوں گے لیکن کیا آنے والے دوسرے وزیر اعظم کے لئے وہ دروازے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیے تھے، وہ کھول دیے گئے ہیں؟ نیز یہ کہ اگر بخاری صاحب اتنے ہی محب وطن ہیں تو وہ غیر ملکی شہریت کو ترک کیوں نہیں کر دیتے۔

امید ہے کہ چیف جسٹس صاحب اس اجازت کے ساتھ کہ زلفی بخاری وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر کام کر سکتے ہیں، بخاری صاحب کے لئے غیر ملکی شہریت ترک کرنے کا حکم بھی ضرور جاری کریں گے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی کے اخلاص کو پرکھا جا سکتا ہے اور ایسا کوئی حکم نہ تو کار وزارت عظمیٰ میں کوئی مداخلت سمجھا جائے گا اور نا ہی خلاف آئین و قانون ہو گا۔ امید ہے کہ ایک چھوٹے منہ سے بڑی بات کو قابل توجہ ضرور سمجھا جائے گا۔

Facebook Comments HS