شہید بے نظیر اور غریب عوام کی امیدیں


پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کو ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے جوڑا جائے، تو بات وہیں ختم ہو جاتی ہے کہ نامعلوم دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنایا ہے۔ لیکن بے نظیر کے قتل کو تاریخی تسلسل سے جوڑا جائے تو نتائج مختلف سامنے آتے ہیں۔ اور پھر عینی شاہدین کے بیانات، جنرل ہاسپیٹل کے سرجن ڈاکٹر مصدق کا ابتدائی بیان اور پھر بیانات کو بدلنا مزید شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کی پریس بریفنگ تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش اور قتل کا ملبا القاعدہ یا طالبان کے کھاتے ڈالنے اور بیت اللہ محسود اور مولوی صاحب کی آڈیو ٹیپ کا ذکر اور بے نظیر بھٹو کا قتل ان کی گاڑی کے سن روف لیور لگنے سے قرار دینا حکمرانوں کے ایسے تضادات ہیں کہ سانحہ دہشت گردی سے زیادہ سیاسی لگتا ہے اور قتل کے محرکات کی دھندلی سی تصویر نظر آتی ہے۔ اگر تاریخی حقائق اور تسلسل کا جائزہ لیں تو بے نظیر بھٹو کے باپ ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت عالمی قوتوں کے فیورٹ تھے اور ان کی شہرت چار عالم تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو جب سامراجی طبقات اور محنت کش طبقات میں مصالحت کرانے کی کوشش کرتے رہے اور سامراج کے مفادات کا تحفظ ان کی سیاست کا محور تھا۔ وہ سب کے لئے قابل قبول تھے لیکن جب وہی بھٹو محنت کشوں اور غریب عوام کے نمایندے کے طور پر سامنے آئے اور سامراج نے دیکھا کہ بھٹو محنت کشوں کے مسائل اور غریب عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں مخلص ہیں، تو انھیں موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ان کی موت کے رد عمل میں بھٹو کے بیٹوں مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو نے جلا وطنی اختیار کی۔ ایک نے عسکریت پسندی اور دوسرے نے سیاست کا راستہ اپناتے ہوئے پاکستان کو آمریت سے نجات دلانے کے لئے جد و جہد کا آغاز کیا تو سب سے پہلے میر شاہ نواز کو محض اس لئے صرف 27 سال کی عمر میں موت کی نیند سلا دیا، کیوں کہ ان کے پاس بھٹو کا وژن اور سیاسی فکر تھی۔

انھیں موقع ملتا جو کہ ملنا ہی تھا تو وہ یقیناً پانسا پلٹ سکتے تھے۔ جب کہ میر مرتضیٰ بھٹو کو چھوڑ دیا کہ کیوں کہ ان سے وہ خطرہ نہیں تھا بلکہ اس کوموقع پر فراہم کیا گیا اور پھر جب انھوں نے سیاسی دھارے میں شامل ہو کر وہ علَم اٹھایا جو اس کے باپ اور بھائی شاہ نواز سے چھین لیا گیا تھا تو اس کو کراچی کی سڑک پر دن دیہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ جب کہ اس کی بہن اس وقت ملک کی وزیر اعظم تھی۔ بے نظیر بھٹو نے 1988 ء کے انتخابات سے لے کر 1993ء اور 18 اکتوبر 2007ء سے قبل تک محنت کشوں کے مسائل اور پیپلزپارٹی کا بنیادی منشور اور بھٹو مرحوم کا وہ علَم جس کو اٹھانے سے اس کے 2 بھائی اور باپ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے کو بھلا دیا تھا اور وہ روٹی کپڑا مکان کے نعرے کو زبان پر بھی نہیں لاتی تھیں اور کبھی کہیں پیپلز پارٹی کی نچلی پرتوں میں روٹی کپڑا مکان یا روزگار کی آواز بلند بھی کی جاتی تو اسے سختی سے دبا دیا جاتا۔

دنیا نے دیکھا کہ 18 اکتوبر 2007ء کے بعد کی بے نظیر بھٹو ایک بدلی ہوئی سیاسی رہنما تھیں۔ پشاور، حیدر آباد اور راولپنڈی کے آخری جلسوں کے بے نظیر کے خطاب خالصتہََ نظریاتی تھے۔ بے نظیر ببانگ دُہل، روزگار، روٹی کپڑا مکان اور غریب عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے مخلصانہ وعدہ کر رہی تھیں۔ اس کے خلوص اور محبت کو دیکھ کر غریب عوام ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی طرف راغب ہو رہے تھے۔ غریب عوام پیپلز پارٹی کو دوبارہ اپنی امیدوں کا مرکز بنا چکے تھے۔

18 اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کی آمد پر لوگوں کا پر تپاک استقبال اور اس میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں جو ٹھہراؤ آیا تھا، بے نظیر بھٹو نے انھیں انقلابی تقاریر اور عوام کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم سے جوڑ کر ایک بار پھر ٹیمپو بنا لیا تھا اور عوام پیپلز پارٹی کے جلسوں کا رخ بلا خوف و خطر کررہے تھے۔ بے نظیر بھٹو ملکی ترقی اور خوش حالی کے سچے نعرے لگا رہی تھیں، جس کی سچائی ان کی تقریروں سے عیاں تھی۔ سامراج کے گماشتوں نے جب دیکھا کہ محترمہ سے جو توقعات ہیں وہ برسر اقتدار آ کر پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہیں اور وہ جو انتخابی وعدے اور نعرے لگا رہی ہیں وہ اس پر عمل در آمد بھی کرائیں گی، کیوں کہ اب کی بار پیپلز پارٹی کی بقا کا مسئلہ بھی ہے اور پیپلز پارٹی کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام میں دوبارہ زندہ کر سکے اور ایک بار پھر عوام کے اندر اپنی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔

بے نظیر بھٹو کے عوام سے یہی وعدے اور عوام کے لئے کچھ کرنے کا سچا جذبہ سامراج کے گماشتوں سے برداشت نہ ہو سکا اور انھوں نے راستے سے ہٹانے کے لئے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی امیدوں کو خون میں نہلا دیا۔ غریب کی امیدیں ایک بار پھر ٹوٹ گئیں۔ جس کا رد عمل پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کے کونے کونے میں ایک ایسا خود رو احتجاج ہوا کہ مسلسل تین دن مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیا جام رہا۔ مشتعل نوجوانوں نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کر کے اپنے غصہ کا اظہار کیا۔

ملک بھرمیں کہیں بھی عوام کے احتجاج کو کوئی رہنما لیڈ نہیں کررہا تھا۔ اور نہ پیپلز پارٹی کی طرف سے کسی رہنما نے آگ کو بھڑکایا تھا بلکہ عوام نے خود ہی اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا۔ بے نظیر بھٹو کے سوئم کے بعد بھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے کوئی واضح سیاسی لائحہ عمل عوام کے سامنے نہیں رکھا۔ اور نا ہی پارٹی نے بے نظیر بھٹو کی طرح واشگاف الفاظ میں پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کے مشن کو جاری رکھنے کا اعا دہ کیا، بلکہ آصف زرداری جو پارٹی کے شریک چیئر مین تھے، نے درمیانی راستہ اپنانے کا اشارہ دیا۔ یہی غلطی ذوالفقار علی بھٹو اور پھر بے نظیر بھٹو سے سرزد ہوئی تھی، کہ انھوں نے سامراج کے سانپ کا سر کچلنے کے بجائے سانپ کی دم پر پیر رکھا اور یہ توقع بھی کی کہ سانپ اسے کاٹنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا۔

پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کے سوا دوبارہ وہی راستہ اختیار کر رہی ہے، جس پر چلتے ہوئے پیپلز پارٹی چار بھٹوز کی قربانی دے چکی ہے۔ پارٹی قیادت کو یا توسانپ سے دوستی کرنا ہو گی اور یا پھر سانپ کا سر کچلنے کے لئے ننگا ہو کر میدان عمل میں آنا ہو گا۔ مصالحت کی پالیسی ترک کرنا ہو گی ورنہ قتل وغارت گری کا یہ سلسلہ شاید آگے بھی جاری رہے۔ بے نظیربھٹو کا قتل یہ چتاونی بھی ہے، کہ آیندہ کوئی رہنما محنت کشوں اور غریب عوام کو ایسی امیدیں نہیں دلائے گا اور صرف وہی راستہ اختیار کرے گا جو سامراج کی مرضی کا ہو گا۔

مصالحت، سامراج سے ٹکرائے بغیر اور سامراج کے سانپ کا سرکچلے بغیر کسی بھی پارٹی یا رہنما نے کبھی کوئی کچھ ایسا کیا تو اس کا انجام بھی بھٹوز سے مختلف نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کے یہی چلن رہے تو پھر عوام کی امیدوں، خواہشوں اور خوابوں کا قتل اسی طرح ہوتا رہے گا، جس طرح بے نظیر بھٹو کی شہادت کے ساتھ عوام کی امیدیں بھی قتل ہو گئیں۔

Facebook Comments HS