کیا زرداری صاحب کی گرفتاری پر سندھ کا رد عمل خطرناک ہوگا ؟


ایسا کچھ نہیں ہوگا اگر وزیر اعظم عمران خان واضح اعلان کریں کہ حکومت اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی کالا باغ ڈیم بنایا جائے گا۔ وزیر اعظم یہ اعلان کر کے سندھ کے کرپٹ لوگوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک سکتے ہیں، کیونکہ اب یہ ہی دو باتیں بچی ہیں جس کو استعمال کر کے سندھی قوم پرستی کا سہارا لے کر سندھ کو زرداری صاحب کی گرفتاری کی صورت میں احتجاج کے لئے کہا جا رہا ہے۔ کل بے نظیر صاحبہ کی برسی میں بھی پیپلز پارٹی کا بیانیہ یہ ہی تھا کہ کہ، زرداری صاحب ( اور حیرت ہے کہ ملک ریاض اور انورمجید ) کی گرفتاری اصل میں کالا باغ ڈیم بنانے کا راستہ ہموار کرنے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی سازش ہے ) ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب، اعلان کریں کہ حکومت اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی کالا باغ ڈیم بنایا جائے گا۔ اور کمپنی سرکار کے غبارے سے آخری ہوا بھی نکال دیں۔

پیپلز پارٹی قیادت، آصف علی زرداری صاحب، فریال ٹالپر صاحبہ اور بلاول صاحب سمیت سینکڑوں لوگوں کی انتہائی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسز میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر متوقعہ گرفتاری کے تناظر میں سندھ میں تین طرح کا رد عمل سامنے آ رہا ہے، پہلا یہ کہ ایک طبقہ بہت حیران ہے کہ کرپشن اتنے بڑے پیمانے پر ہوتی رہی، لوٹ مار ہوتی رہی تو ریاستی ادارے اس وقت کیا کرتے رہے، یہ ہی طبقہ اس حیرت کا اظہار بھی کررہا ہے اتنے بڑے پیمانے پر بھی کوئی لوٹ مار کر سکتا ہے؟ وہ بھی اس غریب صوبے کے عوام کے پینے کے پانی، دواؤں، اسپتالوں، خوراک اور روزگار کا پیسا جس نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا؟ اس کے جواب میں کچھ لوگ یہ جواب دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مک مکا پالیسی نے اس لوٹ مار کو کھلی چھٹی دے دی تھی۔

سندھ میں دوسرا خیال یہ ہے، کہ یہ سب جھوٹ ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ جھوٹی ہے اور پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ یہ بات کرنے والوں میں زیادہ تر پیپلز پارٹی کے ورکر، وہ صحافی جو ان سے براہ راست مسنلک ہیں اور وہ دانشور مرد و عورتیں جو براہ راست اس حکومت سے فاعدہ اٹھا رہے ہیں شامل ہیں۔

تیسرا خیال ان لوگوں کا ہے جو ماضی میں کرپٹ لوگوں کے ساتھ ریاست کا مک مکا دیکھ کر اس وقت بھی کہہ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا، کوئی این آر او آجائے گا، آپ خوامخواہ اپنا خون جلا رہے ہیں، اس طرح کی سوچ رکھنے والے بھی چاہتے ہیں کہ سندھ کی لوٹ مار کرنے والے سب کرپٹ لوگوں کو انتہائی سخت سزا دینی چاہیے مگر وہ ماضی میں ریاستی اداروں کی طرف سے کی کرپٹ لوگوں کے ساتھ ڈیل کرنے کی وجہ سے مایوس ہیں۔ ان ہی لوگوں کا یہ کہنا بھی ہے کہ کرپشن صرف زرداری نے نہیں کی، جج، جرنیل، جنرلسٹ سب کا احتساب ہونا چاہیے

چوتھا خیال سندھ میں عام لوگوں، سماجی رہنماؤں، چند صحافیوں اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کا ہے جو اس خیال کے ہیں کہ اب کی بار احتساب ضرور ہوگا اور کوئی نہیں بچے گا۔ اسی خیال کے لوگوں نے سوشل میڈیا اور اخبارات میں بھی کرپشن کے خلاف اپنے قلم کو تیز کر دیا ہے۔ اس خیال کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کالا باغ ڈیم اور اٹھارویں ترمیم کو ختم نھ کرنے کا واضح اعلان کر کے، کرپٹ کمپنی سرکار سے یہ آخری کارڈ بھی چھین لے۔

اب سوال یہ ہے کہ آصف علی زرداری صاحب، فریال ٹالپر صاحبہ اور بلاول صاحب اور ان کے ان ساتھ کیسز میں ملوث رفقاء کی گرفتاری پر سندھ میں رد عمل ہوگا؟ احتجاج ہوگا؟ کہ نہیں۔ اس کا جواب میری نظر میں یہ ہے ایسا کوئی احتجاج نہیں ہوگا جس کو عوامی رد عمل کہا جائے، ہاں پارٹی کے کچھ عہدیدار اور کارکن پریس کلبوں کے سامنے اور فیس بک پر ضرور آئیں گے مگر روڈ پر کوئی بڑا ایونٹ اس لئے نہیں ہوگا کہ سندھ کے لوگوں کو پتہ ہے سندھ کی ایک ایک گلی، ایک ایک اسپتال ایک ایک اسکول چیخ چیخ کر روز پکارتا ہے کہ اس کو کس نے لوٹا ہے۔

پیپلز پارٹی لاکھ کوشش کر رہی ہے کہ زرداری صاحب، فریال ٹالپر، انور مجید اور دیگرکو مظلوم کر کے پیش کریں اور ان کے خلاف ہونے والی کارروائی کو کالاباغ ڈیم اور اٹھارویں ترمیم کے ساتھ منسلک کیا جائے کہ زرداری صاحب اٹھارویں ترمیم اور کالا باغ ڈیم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہیں اس لئے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ عمران خان کو سندھ کے عوام کے ذہن میں بہرحال پیپلز پارٹی کی طرف سے ڈالے گئے اس خدشے کو ختم کرنے کے لئے واضح اعلان کرنا چاہیے کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی کالا باغ ڈیم بنایا جائے گا۔

احتجاج پُر اثر نہ ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کارکن جو نظریے کے لئے جان تک دے دیتے ہیں وہ کم از کم اقتداری سیاسی پارٹیوں میں تو اب نہیں بچے، پیپلز پارٹی میں نچلی سطح پر سب عہدیداروں نے اپنے لیڈران کی دیکھا دیکھی اپنی حیثیت کے مطابق کرپشن کی ہے اب وہ سب اپنی کھال بچانے کے جتن کر رہے ہیں، احتجاج کون کرے؟ آپ جائزہ لیں سندھ اسمبلی میں سو سے زیادہ پارٹی کے میمبر ہیں، پچاس کے قریب وزیر ہیں مگر دو تین کے سوا جو پریس میں آکر زرداری صاحب کا دفاع کرتے ہیں باقی سب خاموش ہیں کیونکہ ان کو اپنی فائل کھلنے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔

بہرحال سندھ کے خدشات دور کرنے کے لئے پی ٹی آئی حکومت کو سندھ کے عوام کے ساتھ دوری ختم کرنی ہوگی، سندھ کے گورنر صاحب کو بھی کراچی سے باہر باقی علاقوں کے مسائل حک کرنے چاہیے، ان کے ہر بیان میں صرف کراچی کے مسائل حل کرنے کی بات ہوتی ہے شاید وہ بھول گئے ہیں کہ وہ پورے سندھ کے گورنر ہیں نہ کہ ایک شہر کے، سیاسی طور پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی پوری توجہ کراچی پر ہے، سوائے حلیم عادل شیخ اور صوبائی نائب صدر میرے دوست الاھی بخش انیل بھٹی کے کوئی تحریک انصاف کا لیڈر نہ میڈیا میں نظر آ رہا ہے نہ فیلڈ میں، اگر اس طرح کا سیاسی واک آؤٹ ہی دینا ہے، سیاسی خلا قائم رکھنا ہے، سندھ کے مسائل حل نہیں کرنے ہیں، سندھ کے خدشات دور نہیں کرنے ہیں تو پھر ظاہر ہے میدان خالی ہوگا تو کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی اس خلا کو پُر تو کرے گی بھلے کرپٹ ہی کیوں نہ ہو اس لئے کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ سندھ کے لوگوں کے خدشات دور کرنے، ان کو روزگار اور ترقیاتی پیکج دینے اور ان کے ساتھ سیاسی دوری ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS