ریچل نیو ائیر نائٹ منانا چاہتی ہے
گھر کے دروازے پر سیاہ کار دیکھ کر میں چونک اٹھا۔ سہ پہر چار بجے کا وقت تھا۔ یہ کار ریچل کی تھی۔ میں گھر میں داخل ہوا تو اسے منتظر پایا۔ غالباً وقت گزاری کے لئے وہ ریڈ گریپس جوس وقفے وقفے سے ایک ایک گھونٹ لے کر پی رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو ایسا منہ بنا لیا جیسے جوس میں کڑواہٹ گھل گئی ہو۔
” یہ تمہارا ملازم بڑا گاؤدی ہے اسے تھوڑی سی انگلش سکھا دو؛ میں نے ڈرنک مانگی تو بولا کہ ہمارے صاحب ڈرنک نہیں کرتے وہ چیز آپ کو یہاں نہیں ملے گی۔ “ پھر کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا۔ ریچل نے ہونٹ چباتے ہوئے انگریزی زبان میں شکوہ کیا۔ میں نے فوراً ملازم کو ڈانٹ پلا کر وہاں سے بھگا دیا۔
” خیریت تو ہے، کیسے آنا ہوا؟ “ میں نے پوچھا۔ ریچل مسکرانے لگی۔ ”تمہیں کڈ نیپ کرنے آئی ہوں۔ چلو گاڑی میں بیٹھو، ہمیں کہیں جانا ہے۔ “
”اف یہ تمہاری پر اسراریت؛ کچھ تو گڑبڑ ہے؟ “ میں نے جھنجھلا کر کہا لیکن ساتھ ہی جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ریچل بھی مسکراتے ہوئے اٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد ہم اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے۔ ”اب تو بتا دو قصہ کیا ہے؟ “ میں نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا۔ سنو الکا یاگنک بھی سفارش کر رہی ہے۔ میں نے میوزک پلئیر کی طرف اشارہ کیا۔ گانا چل رہا تھا ’یہ قصے سبھی کو سناتے نہیں ہیں : مگر دوستوں سے چھپاتے نہیں ہیں‘
ریچل ہنس پڑی۔ مجھے کب سمجھ آ رہا ہے۔ اس سے تو بہتر ہے وہ لگا دو ’آئی ایم سو لونلی‘ ۔ وہ بولی۔ ”آئی سی“ میں نے سر ہلایا۔ ریچل کا تعلق انگلینڈ سے تھا وہ تقریباً ایک سال سے یہاں تھی۔ اردو سمجھنے لگی تھی۔ کچھ کچھ بول بھی لیتی تھی۔ گاڑی لیک ویو پوائنٹ سے آگے بڑھی تو ریچل نے کہا۔ سپر مارکیٹ لے چلو مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔
اوہ تو دسمبر کی اس ٹھٹھرتی شام میں تمہیں یہ کام کرنا تھا۔ میں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا۔ کہہ سکتے ہو یہ بھی ہے لیکن میں اداس بھی ہوں۔ سوچا تھوڑا باہر نکلوں گی تو شاید دل بھی بہل جائے گا۔ اس نے کہا۔
’ دل کے بہلانے کو ریچل یہ خیال اچھا ہے‘ میں نے غالب کے مصرعے پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔ ریچل غالباً سمجھ نہیں پائی یا شاید غالب کی فین نہیں تھی ورنہ تڑپ اٹھتی۔ سپر مارکیٹ میں گھومتے ہوئے ریچل کی توجہ کا مرکز سجاوٹ کی چیزیں تھیں۔ چراغاں کا سامان بھی خریدا گیا۔ اس کے بعد ہم سینٹورس مال میں آ گئے۔ گلوریا جینز میں کافی پیتے ہوئے میں نے ریچل سے اس کی اداسی کا سبب دریافت کیا تو وہ خلا میں گھورتے ہوئے کہیں کھو گئی۔ اگر میں اس وقت اپنے ملک میں ہوتی تو بہت انجوائے کرتی۔ لندن کی سڑکیں اور گھر سجے ہوتے۔ تفریح گاہوں میں رش ہوتا۔ نیو ائیرکے حوالے سے پارٹیاں چل رہی ہوتیں۔ ہر طرف روشنیاں، آتش بازی اور ہنستے کھیلتے لوگ نظر آتے۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔
ریچل ہمارے ہاں نیو ائیر نہیں منایا جاتا۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔ لیکن میں نیو ائیر منانا چاہتی ہوں۔ اس لئے میں نے شاپنگ کی ہے۔ میں اپنے گھر کو سجاؤں گی اور پارٹی رکھوں گی۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم اس خوبصورت دنیا میں زندہ ہیں۔ سال بھر ہم کتنی نعمتوں سے فیض یاب ہوئے۔ ناکامیاں بھی ملیں مگر مایوس نہیں ہوئے اور پھر کامیابیاں بھی سمیٹیں، پارٹی تو بنتی ہے۔ تم بھی آنا، سب دوستوں کو بلاؤں گی۔
میں نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا مگر کچھ کہہ نہ سکا۔ اسے کیسے کہتا کہ ہم اگر نیو ائیر منانا بھی چاہیں تو چھپ چھپ کر مناتے ہیں جیسے کوئی گناہ کر رہے ہوں۔ کتنی گالیاں اور ملامتیں سہنی پڑتی ہیں۔ کتنے لوگوں کی نفرت انگیز نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طعنے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ اتنا آسان نہیں ہے نیو ائیر منانا۔
کیا ہوا؟ تم چپ کیوں ہو گئے۔ ریچل نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔ کچھ نہیں میں زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے بہانہ بنایا۔ تمہارے نزدیک زندگی کیا ہے؟ اس نے پوچھا۔ ’غم کا دریا ہے‘ میں نے فوراً کہا۔ ”کیا مطلب؟ “ اس نے بھنویں اچکائیں۔ مطلب زندگی المیہ ہے لائف از اے ٹریجڈی۔ میں نے وضاحت کی۔
نہیں یوں کہو کہ لائف از اے ٹریجڈی فلڈ ود جوائے۔ ریچل نے پر خیال لہجے میں کہا۔ بہر حال تم پارٹی میں ضرور شامل ہونا۔
میں ایک بار پھر خاموش ہو گیا۔ اس کی زندہ دلی اپنی جگہ لیکن ہم جیسے مردہ دل کب ایسے جیتے ہیں۔ ہمیں تو ہر وقت یہ فکر ستاتی ہے کہ اگر ہم خوش ہوئے تو اس میں کیا کیا منفی پہلو پنہاں ہوں گے۔ ایک اور بات تو میں نے ریچل کو بتائی ہی نہیں کہ نیو ائیر نائٹ منانے والوں کو تو پولیس بھی دھر لیتی ہے۔ اب آپ ہی بتائیے ریچل نیو ائیر نائٹ منانا چاہتی ہے، میں اس کے لئے کیا کروں؟


