جوش کی آپ بیتی کے اوراق کیسے کھوئے؟ طویل نظم کہاں غائب ہے؟


جوش صاحب نے کہا کہ مجھے وقت دیں تاکہ اس بارے میں کچھ سوچوں۔ چنانچہ انھوں نے پندرہ دن بعد احتشام صاحب کو بتایا کہ انھوں نے موضوع سوچ لیا ہے اور وہ نظم لکھیں گے۔ اس کا موضوع تخلیق کائنات اور انسان کا سفر ہے۔ پھر انھوں نے وہ نظم شروع کی اور کہا کہ جب تک وہ زندہ رہیں گے، اس میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد جوش صاحب 42 سال تک زندہ رہے اور مختلف عرصوں میں نظم کو آگے بڑھاتے رہے۔ میں نے ان کا ایک انٹرویو کیا تھا جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ اس نظم کے بیس ہزار شعر کہہ چکے ہیں۔ بعد میں مزید کہے ہوں گے۔ صہبا لکھنوی صاحب کہتے تھے کہ جوش صاحب پچیس ہزار شعر کہہ چکے تھے۔

اردو میں طویل نظمیں مرثیے کی صورت میں ہیں۔ سو بند کے مرثیے، ڈیڑھ سو بند کے مرثیے۔ فارغ سیتاپوری ایک شاعر تھے۔ انھوں نے ہزار بند کے مرثیے کہے ہیں۔ راجا صاحب محمودآباد کے داماد امیر امام حر صاحب نے دو دو ہزار بند کے مرثیے کہے۔ لیکن طویل نظم جسے ہم اردو ادب کا سرمایہ کہہ سکیں، وہ نہیں ہے۔ وہ جوش صاحب نے کہی۔ لیکن ان بیس پچیس ہزار اشعار میں سے صرف چار پانچ سو شعر چھپے ہیں۔ نظم کا بڑا حصہ غیر مطبوعہ ہے۔

جوش صاحب کے بیٹے سجاد کا انتقال ہوچکا ہے۔ بڑے پوتے ساجد بھی نہیں رہے۔ فواد حیات ہیں۔ جوش صاحب کے خاندان میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پوتیاں تبسم اخلاق اور ساجدہ کے پاس اشاعت کے حقوق ہیں۔ وہ نظم ان کے پاس ہے اور وہ کسی کو شائع کرنے کے لیے دینے کو راضی نہیں۔ نہ وہ خود شائع کرتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ اس نظم کا شائع نہ ہونا جوش صاحب پر ظلم ہے۔ پچاس ساٹھ سال ہونے کو آئے لیکن وہ کسی صندوق میں بند ہے۔ اسے دیمک نہ چاٹ جائے۔ لیکن انھوں نے میری نہیں سنی۔

ممکن ہے کہ وہ اس کا کچھ معاوضہ چاہتی ہوں۔ لیکن اگر کوئی نہ دے تو انھیں خود شائع کردینا چاہیے۔ پاکستان اور ہندوستان میں ادارے اس طرح کے مسودے نہیں خرید سکتے۔ یہ ترقی یافتہ ممالک نہیں ہیں جہاں حکومتیں تاریخ دانوں اور دانشوروں کی امانتیں محفوظ کرلیتی ہیں۔ یہاں کی حکومتوں کو اپنے مسائل سے فرصت نہیں تو ادبی اور علمی کام کون کرے گا۔

آپ جانتے ہیں کہ جمیل الدین عالی نے ایک طویل نظم انسان کے عنوان سے کہی۔ وہ شائع ہوچکی ہے۔ رخسانہ صبا صاحبہ نے طویل نظمیں اور جمیل الدین عالی کی نظم انسان پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا مقالہ انجمن ترقی اردو نے اسی سال شائع کیا ہے۔ آپ دیکھیں کہ عالی صاحب کی نظم پر پی ایچ ڈی ہو رہا ہے اور جوش صاحب کی نظم پوتیوں کی ضد کی وجہ سے کوڑے دان میں پڑی ہے۔

سوال: جوش صاحب جیسے قادراکلام شعرا کم گزرے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھ رہا ہے، پرانی زبان پڑھنے اور سمجھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جون ایلیا اسی لیے زیادہ مقبول ہوئے کہ ان کی زبان سادہ ہے۔ مستقبل میں کیا جوش کو پڑھنے والے نہیں رہیں گے؟

ڈاکٹر ہلال نقوی: آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ لیکن، ہم بہت سی باتیں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے۔ غالب کی آسان غزلیں ’دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘ وغیرہ پسند کی جاتی ہیں۔ لیکن غالب اپنی جس بڑی شاعری کی وجہ سے زندہ ہیں، وہ ہر دور میں پڑھی جاتی ہے۔ جون صاحب کا آپ نے ذکر کیا۔ جون صاحب کے شعر میں اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جوش صاحب کے ہاں پورا فلسفہ حیات ہے۔ یہ درست ہے کہ معرب اور مفرس شاعری اس طرح عوام میں مقبول نہیں ہوتی۔ لیکن جوش صاحب کے ہاں اگر یہ چیزیں ہیں تو اور پہلو بھی ہیں۔ لیکن ایک بات اور بھی ہے۔ پاکستان کی جامعات کا حال دیکھ لیں۔ فلسفہ اب کون پڑھ رہا ہے؟ کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھنے والے طالب علم برائے نام ہیں۔ ادب، عربی، فارسی، سماجی علوم اب کہاں پڑھے جا رہے ہیں؟ پوری دنیا میں بینکاری اور کاروبار پڑھایا جارہا ہے۔ لیکن اس طرح ادب کی قدر و قیمت میں کمی نہیں آتی۔ احمد فراز کی شاعری آج مقبول ہے لیکن وقت بتائے گا کہ کون سی شاعری باقی رہ جائے گی۔ جس شاعری میں گہرائی ہوگی، وہ رہ جائے گی۔

سوال: جوش صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملحد تھے بلکہ خدا کا مضحکہ اڑاتے تھے۔ لیکن انھوں نے بہت زیادہ مذہبی شاعری بھی کی ہے۔ مرثیے کہے اور سورہ رحمٰن کے ترجمے کو منظوم کیا۔ یہ کیا تضاد ہے؟

ڈاکٹر ہلال نقوی: یہ تضاد نہیں ہے۔ سلیم احمد کا ایک جملہ مجھے اچھا لگتا ہے کہ تشکیک طلب صداقت کا نام ہے۔ یہ سوال بہت نازک ہے اور آج کے دور میں لوگ اس کا جواب دیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ کیا ہے مذہبی اساس؟ ہم سب اپنے آبا و اجداد کے دین پر ہیں۔ جوش صاحب کی ساری بحث یہی تو ہے۔ میں جس عقیدے پر عامل ہوں، وہ اس لیے نہیں کہ میں اسے جانتا ہوں۔ میں اس لیے عامل ہوں کہ میرے والد اس عقیدے پر تھے۔ میں بھی اس عقیدے پر ہوں۔ چنانچہ مسلمان ہوں، ہندو یا مسیحی، سب اپنے پس منظر کی وجہ سے ان مذاہب پر ہیں۔ جوش صاحب روایتی مذہب کو کسی صورت نہیں مان سکتے۔ میرے خیال میں جوش صاحب سے لے کر آپ تک کوئی صاحب نظر اور صاحب فکر آدمی مذہب کو احمقانہ طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سوال: آپ کی جوش صاحب سے قربت رہی۔ کیا کبھی اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ وہ پاکستان آنے کے فیصلے پر پچھتائے؟ کیا کبھی انھوں نے انڈیا واپس جانے کا سوچا؟

ڈاکٹر ہلال نقوی: جوش صاحب جب پاکستان آئے تو لوگوں نے بہت الزامات عائد کیے۔ انھوں نے ’یادوں کی برات‘ میں پورا قصہ لکھا ہے۔ اور بھی لوگ ایسے تھے جو ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے لیکن پھر پاکستان آگئے۔ خلاف لفظ غلط ہے۔ دراصل وہ ڈرتے تھے کہ مسلمان تقسیم ہوجائیں گے۔ چنانچہ جوش صاحب کے علاوہ بھی بہت سے نام ہیں۔ نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھ پوری، ان کے علاوہ سجاد ظہیر صاحب بھی آئے تھے۔ سبط حسن صاحب یہاں موجود تھے۔ یہ دو لفظوں میں کہہ دینا آسان نہیں ہے۔ جوش صاحب ایک بات کہتے تھے جو غلط نہیں ہے۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں اردو کی بقا کو خطرہ ہے۔ میں ابھی چار سال پہلے امروہے گیا تو وہاں لڑکے لڑکیاں ہندی میں لکھا ہوا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ وہ اردو نہیں جانتے۔

جوش صاحب کہتے تھے کہ میں اردو کا شاعر ہوں اور اردو ہندوستان میں تباہ ہوجائے گی۔ انھیں مستقبل کا اندازہ تھا۔ بھارت میں اردو کو وہ مقام حاصل نہیں جو پاکستان میں ہے۔ لوگوں نے جوش صاحب پر الزام لگایا کہ وہ پیسے کے لیے پاکستان آئے۔ کیا پیسہ ملا انھیں یہاں؟ حکومت نے ان پر کون سی نوازشیں کردیں؟ ان کے نام پر ایک شاہراہ کا نام تو رکھنے کو تیار نہیں۔ آج کے دور میں صرف اچھا شاعر ہونا کافی نہیں۔ اگر ترقی چاہتے ہیں تو کچھ مصلحتیں کچھ خوشامدیں کچھ سازشیں کرنا پڑتی ہیں۔ یہاں ایسے شاعر گزرے ہیں جن کی اولادیں ان کا نام لے لے کر مال بنا رہی ہیں۔ جوش صاحب بے نیاز آدمی تھے اور ان کی اولاد کو بھی خبر نہیں ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔
بشکریہ وائس آف امریکہ

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 194 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi