گجرات کے ڈیرے حقے کے بنا ادھورے ہیں


پنجاب کی محنت کش برادری “گجر” ویسے تو پورے پنجاب میں گجر اور سندھ میں “گجرانی” کے نام میں آباد ہے مگر اس برادری کا مرکز گجرانوالہ ڈویژن کو سمجھا جاتا ہے۔

گجرانوالہ اور گجرات کے “گجر” اپنی بہادری، مہمان نوازی، دراز قد اور وجاھت کے لئے بھی مقبول ہیں۔ آپس میں اختلافات کے باوجود دوسری برادریوں کے مقابلے میں گجروں کا آپس میں خاص انسیت والا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ پنجاب میں یہ کہاوت کافی مقبول ہے کہ “گجر صرف برادری نہیں بلکہ اک مسلک ہے” اور جہاں لوگوں کی بھیڑ میں دو گجر آپس میں ملتے ہیں وہاں ان کو کوئی اور تیسرا دکھائی نہیں دیتا۔ اپنی برادری کے لئے خیرسگالی کا یہ جذبہ قابل تعریف ہے۔

گجر آپس میں مہمان نوازی اور ڈیراداری میں تو مقابلہ پر اتر آتے ہیں، جتنا کھانے کے شوقین ہیں اس سے زیادہ کھلانے کے شوقین۔

گذشتہ دنوں منگلا سے واپسی پر کچھ گھنٹے گجرات شہر میں رکے۔ شیر شاھ سوری کی پختہ کی گئی جرنیلی سڑک کے کنارے آباد اس شہر کا شمار پنجاب کے امیر ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ مضافات میں موجود زرخیز زمینوں کے درمیان بہتا دریا چناب، دور تک پھیلا انڈسٹریل ایریا، یورپ اور آمریکا سے لیکر عرب ممالک میں لاکھوں کے تعداد میں رہنے والے گجراتیے اس شہر کی ترقی کے اہم ستون ہیں۔ اربوں روپے مالیت کے شاپنگ مالز، شادی ہال اور قیمتی چیزوں سے لدی دکانوں سے لیکر فراٹے بھرتی چمچماتی گاڑیاں گجرات کی شان ہیں۔ گجرات بھلے ترقی کر کے نئیں لبادے پہن لے مگر “گجر” دل اور روح سے وہ ہی قدریں اور مزاج رکھتے ہیں جو صدیوں سے ان کا خاصہ ہے۔

شہر کی مکھیہ شاھراھ پر کچھری چوک کے قریب “حقے کی کچھ دکانوں” نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ دکاندار 70 سالہ چاچا برکت کا کہنا تھا “یہ ایک صدی پرانی اور ہماری خاندانی دکان ہے، صرف میں ہی گذشتہ 50 سال سے اس دکان کو چلا رہا ہوں۔”

یہ چلم یا حقے کا کاروبار کیسا ہے؟ سوال پوچھا

“گجر ڈیرے دار لوگ ہیں، اور حقہ ان کے ڈیروں کی شان ہے۔ کھانا، پانی اور حقے کے بغیر ڈیرہ ڈیرہ نہیں ہوتا۔ آجکل حقے کا دھندا کافی مندا ہے، پہلے شہر میں چھوٹی بڑی سینکڑوں دکانیں ہوتی تھیں مگر اب شاید درجن بھر مشکل سے ہوں۔ اسی دکان سے ہم نے پہلے گھر بنائے، بچوں کو پڑہایا اور باہر یورپ تک بھیجا، مگر اب صرف گذارہ ہوتا ہے۔ جب تک حقے میں کوئلہ جلتا ہے تب تک ہمارے چولھے میں بھی کوئلہ جلتا رہتا ہے۔” جواب ملا

اپنی دکان میں سجائے ہوئے حقوں کے تعریف کرتے چاچا برکت کہنے لگے “پورے پنجاب میں آپ کو ایسے حقے نئیں لبنے، یہ مٹی والا چھوٹا حقہ 250 روپے کا بڑا 750 کا، یہ اسٹیل والا 1000 روپے کا، وہ پیتل والا چھوٹا حقہ 7000 کا اور وہ اوپر سجایا ہوا بڑا سنہری رنگ کا حقہ 35000 روپے کا ہے۔ “

“35000 روپے کا اک حقہ، اتنا مہنگا” میں چونک پڑا

شہزادے!!! ابھی تو نے 50 اور 75 ہزار روپے والے حقے نہیں دیکھے جو صرف آرڈر پر بنتے ہیں۔ آپ حکم کریں تو ایک لاکھ 100000 روپے کا حقہ بھی تیار کر کے دے سکتے ہیں۔

قیمتی حقے جہاں گجرات کے لوگوں کے شوق اور ڈیراداری کو عیاں کر رہے ہیں وہاں یہ قیمتیں اس علاقے کی زبردست بہتر معاشی اور معاشرتی حالت کی بھی عکاس ہے۔

“بس یار! جب سے شہروں کے بعد گائوں میں بھی سوئی گیس آنا شروع ہوگئی تب سے گھروں میں کوئلہ اور اوپلے جلنے بند ہوگئے تو حقہ کی روایت بھی دم توڑنے لگی۔ اس کاروبار کو سگریٹ نے نہیں سوئی گیس نے نقصان پہنچایا ہے۔” دکاندار برکت نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے جیسے راز کی بات بتائی

ہمارے اک دوست چودھری جاوید اقبال گجر کا کہنا ہے کہ “ترقی نے گائون کو شہروں میں اور ڈیروں کو ڈرائنگ رومز میں تبدیل کردیا ہے، اب حقے کی جگہ بھی سگریٹوں نے سنبھال لی ہے، مگر اس وقت بھی اکثر گجر اپنے ڈیرے پر حقہ ضرور رکھتے ہیں کہ اگر کوئی آیا مہمان مانگ لے تو “گجر کو یہ نہ کہنا پڑے کہ “پاجی حقہ نئیں ہیگا۔”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں