عام زندگی سے ای لائف تک کا سفر


اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سائنس اور ٹیکنالاجی انسانی زندگی میں اس رفتار سے داخل ہوئی ہیں اب توجیسے ان کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ سائنسی ایجادات نے وسیع پیمانے پر انسان ذات کو ایسے فوائد پہنچائے ہیں جو آج سے ایک صدی پہلے انسان کے تصّورات سے بھی ماورا تھے۔ آج کل تقریباً ہر چیز برقی شکل میں میّسر ہو گئی ہے جیسا کہ ای میل، ای اخبار، ای مارکیٹنگ، ای کامرس اور ای سگریٹ وغیرہ اور انسان اپنے وقت کا ایک اچھا خاصا حصّہ ان کے استعمال میں گزارتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمیں اپنی پوری زندگی ان برقی ایجادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

ایک طرف تو چیزوں میں جدّت آنے اور ان کے برقیائی بننے کے باعث انسانی زندگی بڑی حد تک سہل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف اس پورے عمل سے انسانی زندگی پر کافی منفی اثرات بھی مرتّب ہوئے ہیں جن میں انسانی جذبات، احساسات اور رشتے بالواسطہ نشانہ بنے ہیں۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے ایک شہر سے دوسرے شہر تار، خطوط اور دیگر ساز و سامان ارسال کرنے کے لئے ڈاک خانہ ایک اہم کردار ادا کرتا تھا۔ حتیٰ کہ پیسے جمع کرنے کی مقصد سے بھی لوگ ڈاک خانے میں کھاتے کھلواتے تھے۔ آج کے دور میں یہ سب کام ملکی سطح پر کوریئر پہنچانے والی کمپنیوں نے اپنے سَر لے لئے ہیں جن کی مدد سے ہم منٹوں میں رقوم ارسال یا وصول کر سکتے ہیں اور آرام سے گھر بیٹھے موبائل فون پر وصولی کا پیغام بھی آ جاتا ہے۔ لیکن اتنی سہولیات ہونے کے با وجود بھی یہ آسائشیں وہ سکون میّسر نہیں کر پاتیں جتنا کسی زمانے میں بابا جان کی ارسال کی گئی رقم وصول کرنے کے لئے ڈاکیے کے انتظارکرنے میں ملتی تھی۔ وہ رقم وصول ہوتے ہی پورے گھرانے میں عید کا سا سماں چھا جاتا تھا اور گھر میں ایک انمول خوشی کی لہر آ جاتی تھی۔

آج کل ہم عید یا دیگر خوشی کے مواقع ایک چھوٹا سامبارک کا پیغام موبائل فون میں موجود سب نمبروں کو ایک ہی کلِک میں بھیج دیتے ہیں جس سے نہ کوئی بہت خاص رہتا ہے نہ کوئی عام اور سب ایک ہی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پہلے ہمارے وقت کا ایک اچھا خاصہ حصہ اپنے پیاروں کے لئے سب سے خوبصورت عید کارڈ منتخب کرنے، ان کو لکھنے کے لئے مختلف رنگوں کے مارکر اور عید کے حوالے سے بہترین اشعار منتخب کرنے میں گزرتا تھا۔ ساتھ میں ہم خود بھی چاند رات تک عید کارڈز کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ یہ سارا عمل وقت طلب اور تھکاندہ ضرور ہوتا تھا لیکن اس عمل سے ملتی ہوئی مسّرت، اس سے جڑے ہوئے جذبات اور احساسات آج کی ٹیکنالاجی میّسر کرنے سے قاصر ہے۔

آج ”ای سگریٹ“ روایتی سگریٹ کی جگہ لیتا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی روایتی سگریٹ میں کچھ ایسی خاصیتیں ہیں جو ای سگریٹ پوری نہیں کر پاتا۔ مثلاً ای سگریٹ میں ہم وہ مزہ نہیں پا سکتے جو کہ دوستوں سے مانگے ہوئے سگریٹ کے کش لگانے میں آتا ہے۔ کہیں سفر کے دوران اپنے برانڈ کا سگریٹ ڈھونڈنا اور اس کے نہ ملنے پر متبادل برانڈ کا پیکٹ لینے پر اختیار کیا ہوا سوچ اختیار کیا ہوا انداز انمول تجربے ہوتے ہیں۔ ایسی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کے باعث ایک عادی سموکر ای سگریٹ کو کبھی اختیار نہیں کر پاتا۔

کوئی زمانہ تھا جب پڑھنے والے بڑی چاہ سے کُتب کے متلاشی رہتے تھے۔ اپنے شوق کے پیچھے مارے مارے پھرتے تھے۔ مصنّفین اور محقّقین کو مطلوبہ کُتب حاصل کرنے میں بہت ساری مشکلات درپیش رہتی تھیں۔ آج انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی کتاب کی سافٹ کاپی باآسانی حاصل کی جا سکتی ہے اور ہر ایک اپنے سمارٹ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ میں کُتب خانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھی کُتب کی یہ سافٹ کاپیوں سے نہ ہی نئی کتاب کے صفحات والی خوشبو آ سکتی ہے اور نہ ہی مالک ان کی مالکی کا دعویدار بن سکتا ہے۔ برقیائی کتاب نہ تو کسی کو ادھار دی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سے ادھار لی جا سکتی ہے۔ پڑھنے والے کا ایک کتاب سے جس طرح ناتہ جڑ جاتا ہے ایسا تعلق سافٹ کاپی سے جوڑنا ممکن ہی نہیں۔

اگر ہم اسی رفتار سے سائنس اور ٹیکنالاجی پر منحصر ہوتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے احساسات اور جذبات دھویں کی طرح اڑ جائیں اور ہم خود ایک مشین بن کر رہ جائیں۔ اور ہماری آئندہ نسل کے لئے شاید احمد فراز کا درج ذیل شعر بے معنیٰ ہو جائے۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں،
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں۔
کیوں کہ ”ای کتاب“ میں تو سوکھا ہوا گلاب رکھنا بھی ممکن نہیں۔
(محمد صدیق سومرو جامعہ سندھ کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ میڈیا، ادب اور سیاسی و سماجی مسائل میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں )

Facebook Comments HS