پاکستانی ڈراموں کے زوال کی وجہ کیا ہے؟

آج کل پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں کا پرانے ڈراموں سے موازنہ کریں تو ایک فیصد بھی ان ڈراموں جیسی حقیقت پسندانہ بات نظر نہیں آتی۔ سب ڈراموں میں ایک ہی تھیم مختلف انداز میں دکھائی جاتی ہے۔ کہانی کو غیر ضروری طول دیا جاتا ہے۔ ہر ڈرامے میں ہدایت کار کی توجہ کا مرکز کہانی سے زیادہ گلیمر پر ہوتا ہے۔

سب سے پہلے ڈراما تھیمز کی جانب آتے ہیں۔ اگر گزشتہ کچھ عرصے کے ڈراما سیریلز پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی تھیمز طلاق، حلالہ، معاشقہ، بیوفائی اور گھریلو سازشوں پر مبنی ہیں۔ کہیں بھابھی اپنے دیور کو پسند کرتی ہے تو کسی ڈرامے میں سالی کا بہنوئی پر دل آ جاتا ہے۔ کہیں پر نند اپنی بھابھی کی طلاق کرواتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امیر لڑکی غریب لڑکے کو پسند کرتی ہے یا پھر اس کے الٹ امیر لڑکا غریب لڑکی کو پسند کرتا ہے۔

Read more

تنہائی کے ایک سو سال: جادوئی حقیقت نگاری سے بھرپور ناول

گزشتہ سال کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گبریل گارشیا مارکیز کے بیٹوں نے نیٹ فلکس کو مصنف کے مشہور ناول ’تنہائی کے ایک سو سال‘ پر ویب سیریز بنانے کے حقوق دیے۔ خبر پڑھ کر پہلے توحیرت ہوئی کیوں کہ مارکیز نے خود سیکڑوں فلم سازوں کی اس درخواست کو رد کر دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس ناول پر فلم بننا ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران میں نے اس ناول کو سندھی،

Read more

کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟

آئے دن زندگی میں بہت سارے ایسے چھوٹے بڑے واقعات و حادثات ہوتے رہتے ہیں جن کے بعد اکثر میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا میں پاکستانی نہیں ہوں۔ میں: یار مختیار، مجھے ذرا بینک کے پاس اتار دینا۔ مختیار: یار، فِکرمت کرو۔ تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔ میں: نہیں یار مجھے پانی کا بِل جمع کروانا ہے۔ مختیار: (قہقہہ لگاتے ہوئے) یار عجیب بات کرتے ہو۔ بھلا پاکستان میں کوئی پانی کا بل بھی ادا

Read more

بُک رویو: جوخہ الحارثی کا ناول۔ (Celestial Bodies)

عُمانی مصنفّہ اور عربی ادب کی پروفیسر جوخہ الحارثی نے اپنے نئے ناول ’سیداۃ القمر‘ میں عمان میں گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں رونما ہونے والے سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کونہایت خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ ناول کا انگریزی ترجمہ Celestial Bodiesکے نام سے مارلن بوتھ نے کیا ہے جو اوکسفرڈ یونیورسٹی کی میگڈلن کالج میں اورئنٹل اسٹڈیز کی پروفیسر ہیں۔ ناول کے ترجمے نے سال 2019 کا مین بین الاقوامی بوکر انعام حاصل

Read more

اکبر سومر و کے ناول ’کھماچ‘ پر تبصرہ

ایک فلیٹ میں ہم جنس پرست اُنس رہتا ہے جس کی دوست مونا ہے۔ اُنس کے ساتھ کچھ ماہ گزارنے کے بعد مونا اس کی غیر سنجیدہ روّیے اور اُنس کے بوائے فرینڈ شہاب پوپی کے ساتھ اس کی اٹیچمینٹ سے بیزار ہوجاتی ہے۔ اسے اُنس کے ساتھ اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ کچھ روز بعد اُنس اپنے آپ کو شدید تنہائی کا شکار پاتا ہے۔ وہ مونا سے جھگڑا کر کے مونا کو گھر سے نکال دیتا ہے۔

آگے چل کر مونا عماد کی قربت بھی حاصل کرتی ہے۔ خاندان اور عزّت کے نام پر بلیک میل کر کے زارا کی منگنی زبردستی اس کے اَن پڑھ کزن سے کر دی جاتی ہے۔ منگنی کے دوسرے روز زار ا زہر کھا کر خود کشی کر لیتی ہے جس سے عماد کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ زارا کی موت کے لئے عماد اپنے آپ کو بھی ذمیدار سمجھتا ہے۔ زارا کی یادوں سے چھٹکارا پانے کے لئے عماد ربیعہ سے تولقات استوار کر لیتا ہے۔ جب رومیسا کو عماد کے ربیعہ کے ساتھ بھی تعلقات کا پتہ چلتا ہے تو وہ پہلے کی طرح عماد کو محبتوں کے سیراب میں چھوڑ دیتی ہے۔

Read more

اختر حفیظ کی کتاب ’تیس منٹ‘ پر تبصرہ

آج جب بہت سے سندھی لکھاری قارئین کے پاس وقت کی کمی کا بہانا بنا کر فلیش فکشن کی صورت میں کہانی کے نام پر اخباروں میں چھوٹے سے واقعاتی ٹکڑے پیش کرتے ہیں تب شاید قاری کے دماغ میں یہ خیال آتا ہو گا کہ سندھی کہانی کا وقت ختم ہو گیا۔ لیکن فلیش فکشن کے داعی شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ عمدہ کہانی قارئین کو خود اپنی طرف کھینچ کر ان کا وقت لے ہی لیتی ہے۔

Read more

عام زندگی سے ای لائف تک کا سفر

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سائنس اور ٹیکنالاجی انسانی زندگی میں اس رفتار سے داخل ہوئی ہیں اب توجیسے ان کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ سائنسی ایجادات نے وسیع پیمانے پر انسان ذات کو ایسے فوائد پہنچائے ہیں جو آج سے ایک صدی پہلے انسان کے تصّورات سے بھی ماورا تھے۔ آج کل تقریباً ہر چیز برقی شکل میں میّسر ہو گئی ہے جیسا کہ ای میل، ای اخبار، ای مارکیٹنگ، ای کامرس اور ای سگریٹ وغیرہ اور انسان اپنے وقت کا ایک اچھا خاصا حصّہ ان کے استعمال میں گزارتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمیں اپنی پوری زندگی ان برقی ایجادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

ایک طرف تو چیزوں میں جدّت آنے اور ان کے برقیائی بننے کے باعث انسانی زندگی بڑی حد تک سہل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف اس پورے عمل سے انسانی زندگی پر کافی منفی اثرات بھی مرتّب ہوئے ہیں جن میں انسانی جذبات، احساسات اور رشتے بالواسطہ نشانہ بنے ہیں۔

Read more

البیر کامو اور ’دی پلیگ‘

ناموَر فلاسفر، مصنف اور صحافی البیر کامو 1913 عیسوی میں الجیریا کے شہر بونووی میں پیدا ہوئے۔ تب الجیریا فرانس کی زیرِ انتظام نوآبادی تھی۔ اسی وجہ سے کامو نے فرانسیسی زبان میں ادب تخلیق کیا۔ ان کی مشہور کُتب میں ’وبا‘ (The Plague) ، ’اجنبی‘ (The Stranger) ، ’باغی‘ (The Rebel) ، ’زوال‘ (The Fall) اور ’انسان ِاول‘ (The First Man) شامل ہیں جنہیں پوری دنیا میں شہرت ملی۔

سن 1975 میں 34 سال کی عمر میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا اور اس وقت وہ یہ مایہ ناز انعام وصول کرنے والے دنیا کے دوسرے نمبر پر نوجوان ادیب تھے۔ یہ اعزاز پانے والے سب سے کم عمر ادیب رڈیارڈ کپلنگ تھے جنہیں فقط 14 سال کی عمر میں اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

Read more

جبران ناصر ایک خلائی مخلوق ہے

پاکستان میں ہر عام انتخابات کے موسم میں سیاستدان اور ریاستی و غیر ریاستی فاعل عجیب و غریب قسم کی اصطلاحات دیتے ہیں جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر عام و خاص کی زبان پر مقبول ہو جاتے ہیں۔ اس بار بھی انتخابی عمل کے آغاز کے ساتھ ہی ’فرشتے‘ اور ’خلائی مخلوق‘ کی اصطلاحات منظرِعام پر آئی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو پاکستانی سیاست کے سب ایکٹرز ’فرشتے‘ ہی نظر آتے ہیں سوائے جبران ناصر کے۔ جبران ایک

Read more