امریکی میٹرو اسٹیشن پر میری دیہاڑی لگ چکی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میٹرو ٹرین اسٹیشن ایسا مقام ہوتا ہے جہاں کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ سب لوگ دوڑتے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف رنگوں، نسلوں اور اقوام کے لوگ۔ مختلف زبانیں بولتے ہوئے لوگ۔ مختلف ثقافتوں کے پہناوے پہنے ہوئے لوگ۔

میرے پاس ہمیشہ کچھ اضافی وقت ہوتا ہے۔ میں گھر سے جلدی نکلتا ہوں۔ میں دفتر دیر سے پہنچ سکتا ہوں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب لوگ رولر کوسٹر پر سوار ہیں اور میں زمین پر کھڑا ہوکر انھیں گھومتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

امریکا میں کوئی کسی کو نگاہ بھر کے نہیں دیکھتا۔ کوئی کسی پر توجہ نہیں دیتا۔ نہ ہی کسی کو اس بات کی پرواہ ہوتی ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں۔

میں نے بہت سی مختصر کہانیاں لکھی ہیں لیکن ابھی تک کسی فلم کا اسکرپٹ نہیں لکھا۔ فلم کے لیے میرے پاس کرداروں کی کمی ہے۔ افسانے کی نسبت فلم میں زیادہ کرداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میٹرو اسٹیشن پر مجھے بہت سے کردار دکھائی دیتے ہیں۔ میں ان کرداروں کو غور سے دیکھتا ہوں۔

ایک جاپانی گڑیا بے چینی سے پلیٹ فارم پر ٹہل رہی ہے۔ اسے کام پر جاری کو دیر ہورہی ہے۔ اس نے لمبا اسکرٹ اور سفید شرٹ پہن رکھی ہے۔ کندھے پر سیاہ بیگ ہے۔
ایک بھاری بھرکم لڑکا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہانپ رہا ہے۔ اس نے شارٹ، ٹی شرٹ اور سفید جوگرز پہنے ہوئے ہیں۔ ہیڈ فون چڑھا ہوا ہے۔

ایک لال پری بھاگم بھاگ پہنچی ہے اور اس کا چہرہ لالوں لال ہورہا ہے۔ لال پینٹ شرٹ میں ملبوس ہے اور ہونٹوں پر لالی سجائی ہوئی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ آگے بڑھ کر اسے لال سلام پیش کروں۔

ایک سیاہ فام بوڑھا اپنے وجود کو اپنی مرضی کے خلاف گھسیٹتے ہوئے مخالف سمت میں جارہا ہے۔ اس کا چہرہ رونق سے محروم ہے۔ پرانے جوتے پالش سے محروم ہیں۔ سلوٹوں بھرا کوٹ اچھا نہیں لگ رہا۔

ایک دراز قد جرمن لڑکی میرے دائیں جانب کھڑی ہے۔ ڈریس پینٹ اور جیکٹ سے تن چھپایا ہوا ہے۔ ایک ہاتھ میں کافی اور دوسرے میں کتاب ہے۔ کتاب دیکھ کر ہی اس کے جرمن ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔

میرے بائیں جانب ایک میکسیکن فنکار بینچ پر بیٹھا ہے۔ جینز اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی ہے۔ ہاتھ میں ایک پینسل اور چھوٹی سی نوٹ بک ہے۔ وہ نوٹ بک کے صفحات پر تیزی سے انگوٹھا پھیر رہا ہے جیسے بعض لوگ تاش کی گڈی کو پھینٹنے سے پہلے کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اس کی نوٹ بک میں بہت سے خاکے بنے ہوئے ہیں۔ شاید وہ بھی میری طرح میٹرو اسٹیشن پر کردار ڈھونڈتا ہے۔

پٹری کے قریب پلیٹ فارم کے فرش میں نصب بتیاں جلنے بجھنے لگی ہیں۔ ٹرین آنے کو ہے۔ ٹرین رکنے کے پانچ سیکنڈ بعد دروازے کھلیں گے۔ پندرہ سیکنڈز بعد بند ہوجائیں گے۔ ہجوم باہر نکلے گا۔ ہجوم اندر گھسے گا۔ لیکن کوئی بدنظمی نہیں ہوگی۔ کسی کو دھکا نہیں لگے گا۔ جو بیٹھنا چاہے گا اسے نشست مل جائے گی۔ کچھ لوگ خالی نشستوں کے باوجود کھڑے رہیں گے۔

ٹرین میں کوئی شخص بات نہیں کرتا۔ فون آئے تو کال ریسیو نہیں کرتا۔ سب خاموشی سے کتابیں یا اخبار پڑھتے رہتے ہیں۔ یا گانے سنتے رہتے ہیں۔ میں ٹرین کے سفر میں کچھ نہیں پڑھتا۔ میں ڈرائیونگ کے دوران گانے سنتا ہوں لیکن ٹرین کے سفر میں میوزک نہیں سنتا۔ میں لوگوں کو دیکھتا رہتا ہوں۔ انھیں اپنی فلم میں کردار بنانے کے بارے میں غور کرتا ہوں۔ ان کے لیے موزوں مکالمے سوچتا ہوں۔

سترہ منٹ کے سفر میں سات اسٹیشن آتے ہیں۔ میں اکثر آخری ڈبے میں سوار ہوتا ہے۔ اس میں نقل و حرکت کم ہوتی ہے۔ کوئی کوئی باہر جاتا ہے۔ کوئی کوئی اندر گھستا ہے۔ کرداروں پر غور کرنے کا وقت مل جاتا ہے۔

منزل پر پہنچ کر میں پلیٹ فارم پر ایک طرف کھڑا ہوجاتا ہوں۔ باقی سب لوگ خارجی راستوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے ہیں، اترتے ہیں۔ دوسری ٹرین پکڑنے کے لیے پلیٹ فارم بدلتے ہیں۔

رش چھٹنے میں بمشکل ساٹھ سیکنڈز لگتے ہیں۔ یہ کسی فلم کا ایسا منظر لگتا ہے جسے فاسٹ فارورڈ کیا جارہا ہو۔ میں اس کا لطف اٹھاتا ہوں۔ منظر دوبارہ معمول پر آتا ہے تو میں اپنی آنکھوں پر پانی کا ایک چھپکا مارتا ہوں۔ پھر ہولے ہولے باہر کی طرف چل پڑتا ہوں۔

تب تک میرے پاس ایک فلم کی کہانی ہوتی ہے۔ میں کرداروں کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہوں۔ ان کے لیے مکالمے سوچ چکا ہوتا ہوں۔ میری فلم میں زیادہ گیت نہیں ہوں گے۔ ٹائٹل سونگ ہوگا یا چند مناظر میں بیک گراؤنڈ میوزک ہوگا۔

میں ابھی اسٹیشن سے باہر نہیں نکلا کہ پس منظر میں موسیقی کی دھنیں بکھرنے لگتی ہیں۔ میں چند لمحے کو ٹھہر کے اس موسیقی پر غور کرتا ہوں۔ مجھے دھن پسند آتی ہے۔ میں اس دھن پر تھرکتا ہوا اسٹیشن سے باہر آجاتا ہوں۔

میٹرو اسٹیشن کے سامنے ایک بے روزگار فن کار دکھائی دیتا ہے۔ وہ منہ اندھیرے سے یہاں موجود ہے۔ وہ وائلن پر اپنی دھن بجارہا ہے۔ کچھ دیر پہلے اس کی دھن مختلف ہوگی۔ کچھ دیر بعد کسی اور دھن کا انتخاب کرے گا۔ اسٹیشن سے نکلنے والوں کے پاس اس کی موسیقی سننے کا وقت نہیں۔ ایک سخی داتا نے گزرتے ہوئے دس ڈالر کا نوٹ اس کے ہیٹ میں ڈالا ہے لیکن موسیقی نہیں سنی، داد نہیں دی۔

میرے پاس وقت ہے۔ میرے پاس کہانی ہے۔ میرے پاس گیت ہے۔ میرے پاس موسیقی نہیں ہے۔ میں دس منٹ تک کھڑے ہوکر اس کی موسیقی سنتا ہوں۔ پھر داد دیتا ہوں۔ اس سے ہاتھ ملاکر وعدہ کرتا ہوں کہ جب میں فلم بناؤں گا تو میوزک اس ہی سے بنواؤں گا۔

موسیقار خوش ہوجاتا ہے۔ میں بھی خوش خوش دفتر پہنچتا ہوں۔ میری دیہاڑی لگ چکی ہے۔ صبح سویرے میں ایک خواب بیچ چکا ہوں۔
سہہ پہر کو دفتر سے واپسی پر ایک اور فلم کی کہانی سوچوں گا۔ کچھ اور کرداروں کا انتخاب کروں گا۔ ایک اور خواب بیچوں گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 165 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi