ہر شاعرہ میں پروین شاکر کو تلاش کرنے کا رویہ


وہ مری میز پہ رکھتا تھا جہاں سرخ گلاب
میں نے ”پروین کی انکار“ وہاں رکھ دی ہے
شاھدہ مجید

پروین شاکر شاعری کا ایک منفرد نام ایک منفرد حوالہ۔ پاکستان میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کی شاعری شاندار بھی ہے اور باکمال بھی لیکن جو شہرت اور ناموری پروین شاکر کے حصے میں آئی وہ کسی اور شاعرہ کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ پروین شاکر روایتوں کی باغی اور نڈر شاعرہ تھیں جنہوں نے جرات مندی سے شعر کہا، بے باکی سے نظم لکھی اور اپنے دلی احساسات اور جذبات کو زبان دی۔

انکی شاعری کا حسن یہ ہے کہ اسے کسی مخصوص کیٹگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ہر انسان مختلف اوقات میں مختلف طرح کے احساسات میں مبتلا ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ ان کی شاعری نہ تو مکمل طور پر مزاحمتی شاعری ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مخصوص نسائی رنگ ان کی تخلیقات میں غالب نظر آتا ہے۔ بلکہ ان کی شاعری میں ایک مکمل حساس انسان دکھائی دیتا ہے جو بغاوت بھی کرتا ہے سیاست بھی کرتا ہے اور مصلحت سے بھی کام لیتا ہے۔

جو کبھی اپنی آواز کو چیخ بھی بناتا ہے اور کبھی اپنے اندر کے شور کو فقط ایک آہ یا کراہ کی صورت بھی لبوں سے آزاد کرتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب مسلسل چیخ و پکار یا مستقل آہ و زاری کی کیفیت خود پر طاری رکھنے والا تخلیق کار ایک سطح پر پہنچ کر مصنوعی معلوم ہونے لگتا ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کی یہی خوبی ان کو دوسروں سے منفرد کرتی ہے کہ ان کی شاعری میں احساسات اور محسوسات کا تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں محبوب کی شدید اور بے بس کر دینے والی محبت سے لے کر کسان کی زندگی کے مصائب و مسائل تک کا ذکر ملتا ہے۔

عورت کے بنیادی حقوق کے استحصال سے لے کر اس کے کردار کی دیگر پرتیں بھی کھلتی ہیں۔ انہوں نے عورت کو کوئی قابل ترس مخلوق بنا کر پیش نہیں کیا بلکہ ایک مکمل انسان ہونے کے ناطے عورت کی سوچ کے ظاہری اور باطنی ہر دو پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں معاشرتی بدعنوانیوں سے لے کر بین الاقوامی موضوعات تک کا تذکرہ موجود ہے۔ ان کی شاعری میں ہمارے ہاں کے مخصوص نسائی ادب جیسی گھٹن موجود نہیں ہے۔ اس لیے میں ان کو ایک مکمل شاعرہ تسلیم کرتی ہوں۔

ان کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری پر کسی مخصوص نظریے کا ٹھپّا نہیں لگنے دیا۔ انہوں نے اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوایا جس معاشرے میں عورت کی آواز چاہے وہ افسانے کی صورت میں بلند ہو، کہانی یا پھر شاعری کی صورت میں اسے ہمیشہ دبانے کی کوشش کی گئی یا یہ سوچا گیا کہ یہ دراصل اس کی آواز ہے ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی اور ( مرد) ہے۔ کیونکہ زمانے میں کئی طرح کی مثبت اور منفی تبدیلیاں آ جانے کے باوجود ہمارے ہاں ہنوز بہت حد تک عورت کی آواز کو مرد کے لیے تازیانہ سمجھا جاتا ہے۔

کوئی بھی ایسا معاشرہ جہاں عورت کو صرف چہرہ سمجھا جاتا ہو آواز نہیں، اس میں خود کو منوانا جان جوکھوں کا کام ہے لیکن پروین شاکر نے اپنی ہنرمندی سے اس ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔ یہ الگ بات کہ آپ بھی ہمیشہ الزامات کی زد میں رہیں لیکن بغیر کسی ثبوت کے یہ الزامات اپنی موت آپ ہی مر گئے جبکہ پروین شاکر کا نام اور کام دونوں زندہ و جاوید ہیں۔ ہمارے ہاں کی غلط روایات میں سے ایک یہ بھی کہ ادب پر بات کرتے ہوئے دھڑلے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں ایک عہد ساز شاعر ہے اور فلاں فقط شاعر نہیں بلکہ ایک زمانہ تھے۔

اکثر یہ اور اسی طرح کے اور بہت سے بیانات کئی شعرا کے بارے میں دیے جاتے ہیں جو میری نظر میں محض لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ظاہر ہے کہ حقیقت سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں کیونکہ کسی ایک شخص سے نہ کبھی زمانہ بنتا ہے اور نہ ہی وہ خود زمانہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ہر زمانے میں بہت سارے ایسے ہنر مند ہوا کرتے ہیں جن کا کام زمانوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔ پروین شاکر بھی انہی تخلیق کاروں میں سے ایک ہیں جن کا کام اپنے زمانے کا حوالہ ہے۔

اس سلسلے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے زمانے کا حوالہ ہے بھی تو وہ حوالہ کہاں پیش کرنا ہے یہ بھی باقاعدہ ایک قابل غور نقطہ ہے اور اسے فرد کی تربیت کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ہمارے ہاں کسی بھی شاعرہ کی تعریف کے لئے سب سے بڑا اعزاز کسی کو ملتا ہے تو وہ یہی ہے کہ یہ دور حاضر کی پروین شاکر ہے۔ (یہ الگ بات کہ ایسا کہنے والوں میں سے بیشتر نے نہ تو اس شاعرہ کو پڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی پروین شاکر کو) ۔

ہمارے ہاں ایک عام روایت ہے کہ ہم جب تک کسی ایک کو دوسرے کی مثال سے ثابت نہیں کرتے تب تک ہمارا نقطہ نظر ہمیں کمزور اور بودا معلوم ہوتا ہے۔ ہم کسی شخصیت کو اس کی اپنی قابلیت اس کی اپنی سوچ اور اس کے ذاتی نظریات کے پیش نظر کم ہی دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ بھائی جیسا دوست، بہن جیسی سہیلی، بیٹے جیسا داماد، بیٹی جیسی بہو، ماں باپ جیسے ساس سسر یہ ہماری وہ اسناد یا یوں کہہ لیجیے کہ ٹیگ ہیں جن کو لگائے بغیر ہم اپنے یا کسی دوسرے کے اخلاص کو ثابت نہیں کر سکتے۔

جبکہ ایسا کرتے ہوئے ہم اس حقیقی کردار کی نفی کر رہے ہوتے ہیں جو کہ ایک انتہائی نامناسب رویہ ہے۔ جبکہ صحت مند معاشروں میں ہر فرد کو اس کی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کی بنا پر، اس کے حالات، نظریات اور سوچ کو بنیاد بنا کر، اس کی اپنی پسند اور ناپسند کا جائزہ لے کر اس کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ کسی بھی انسان پر بیرونی ماحول کی اثر پذیری سے انکار ممکن نہیں لیکن زمانے کا چلن کیا ہے اور اس کے کسی کی ذاتی شخصیت اور اس کے کام پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس حوالے سے کوئی مجموعی رائے قائم کرتے ہوئے انتہائی محتاط رویہ اپنایا جانا ضروری ہے۔

کیونکہ ماحول حالات اور تجربات کے اثرات ہر ذہن اور ہر دل پر دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اور کسی بھی انسان کی کوئی تخلیق اس کے احساسات کا ہی آئینہ ہوتی ہے۔ کسی تخلیق کار کی تخلیق کا جائزہ لیتے ہوئے کسی دوسرے کی تخلیق کو بطور پیمانہ یا کسوٹی سامنے نہیں رکھا جا سکتا۔ کسی کی بھی تخلیق میں اگر آرٹ کا کوئی نقص موجود نہیں ہے تو اسے انفرادی طور پر جانچ کر اس کی خوبیوں اور معائب کو سامنے لایا جانا چاہیے۔ اور جب تک واضح طور پر یہ بات ثابت نہ ہو جائے کہ فلاں کسی دوسرے کے نقش قدم پر چل رہا ہے اور اس کے کام پر کسی دوسرے کی چھاپ نمایاں ہے تو چند ملتی جلتی چیزوں سے ایسی رائے قائم کرنا نامناسب ہے۔

اسی لیے ہر شاعرہ میں پروین شاکر کو تلاش کرنا ایک غیر سنجیدہ رویہ ہے جو قاری کی جہالت کو سامنے لاتا ہے۔ اور یہ نہ صرف ان تازہ تخلیق کاروں کی صلاحیتوں کو زنگ لگانے والی بات ہے بلکہ پروین شاکر کے نام کو بٹّہ لگانے کی کوشش بھی ہے۔ اللہ کریم پروین شاکر کو غریق رحمت کرے اور وطنِ عزیز کو سنجیدہ تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ قارئین سے بھی نوازے۔ آمین نوٹ : یاد رہے کہ شعور اجاگر کرنے کے لیے صرف دعائیں کافی نہیں ہوتیں۔

Facebook Comments HS