آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری: احتجاج تو ہو گا


سندھ میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ مالی کرپشن کے خبروں اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد زیادہ تر لوگ کرپشن، سندھ کی معاشی ابتری اور خاص طور پر پی پی پی پی کی نظریاتی تباہی کے بجائے اپنی دانشورانہ توانائیاں صرف اس بات پر صرف کرنے میں جٹے ہوئے ہیں کہ آصف زرداری کی گرفتاری کی صورت میں ”سندھ اور پاکستان“ میں احتجاجی تحریک چلے گی یا نہیں!؟

یہ بات سچ ہے کہ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین پورے ملک سے سکڑ کر اب سندھ میں باقی بچی ہے اور سندھ سے جو چیخنے کی آوازیں آ رہی ہیں، وہ پیپلز پارٹی ہی کی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آواز اٹھانے کی سکت رکھتی ہے۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلینٹیرین ملک کہ وہ واحد قومی سیاسی پارٹی ہے، جو اپنے کارکن اور رہنما کسی جمعیت اور لشکر کی پنیری سے مستعار لینے کے بجائے اپنے بطن سے پیدا کرتی رہی ہے۔ رہنما اور کارکن نسل در نسل آتے رہتے ہیں۔ چاچا ہاشم چانڈیو کہتے ہیں کہ چالیس سال پہلے حیدر آباد کے تلک چاڑہی کے درمیان واقع سچل کامرس کالج میں اسٹوڈنٹ کاؤنسل کے الیکشن میں جئے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن (جساف) کے مضبوط ترین امیدوار محمد پریل چانڈیو کے مقابلے میں جب کسی تنظیم کا کوئی امیدوار کھڑا ہونے کے لئے تیار نہیں تھا، تب سندھ پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن (سپاف) کا مولا بخش چانڈیو اکیلا شاگرد تھا، جو مقابلے پر اترا۔ ساری عمر بھٹو ازم کے سحر میں گذارنے والے سینیٹر مولا بخش اکیلے نہیں، سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا، بلوچستان اور کشمیر میں ان جیسے لاکھوں ہزاروں ہیں۔ خیبر پختون خوا کے اخون زادہ چٹان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ”مجبوری میں آ کر آصف علی زرداری بھی پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، مگر اخون زادہ چٹان نہیں۔

بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی طاقتور اور کم زور ہوتی رہی ہے، مگر ختم کبھی نہیں ہوئی، کسی نہ کسی صورت پاکستانی وفاق کی تمام اکائیوں میں یہ پارٹی موجود رہی ہے۔ ہمارے ایک پنجابی دوست کا کہنا ہے کہ ”میرا پی پی پی پی سے کوئی واسطہ نہیں، مگر سرکاری دوروں پر پورا پاکستان گھوما ہوں۔ ہر شہر ہر گاؤں میں پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کا جھنڈا ضرور دیکھا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ بلوچستان اور فاٹا کے کئی علاقوں میں ممکن ہے کہ پاکستان کا جھنڈا بھی نہ ملے، مگر یہ ممکن نہیں کہ وہاں پی پی پی پی کا جھنڈا نظر نہ آئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی واقعی واحد قومی سیاسی پارٹی ہے۔

باقی رہا پنجاب، تو پنجاب کی سیاسی تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے بھلے جی ٹی روڈ اور مال روڈ کی مستقل سیاسی بے وفائیوں پر یقین رکھیں اور حالیہ نواز شریف والے معاملے میں پنجاب کی خاموشی کو جواز بنا کر اپنی اس سوچ کو اور پختہ کرلیں کہ ”لاہور ہمیشہ نئے آنے والے حکمرانوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور جانے والوں پر طنز کرتے ہوئے لعنتیں بھیجتا ہے‘‘۔

ایسے ہی صورت احوال پر عاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب ”میری یادیں“ میں لکھا ہے کہ ”9 اگست 1942 کو“ کوِٹ انڈیا موومنٹ ”کی وجہ سے ہم صبح صادق وقت گرفتار ہو کر بمبئی کی ریلوے اسٹیشن پر ریل گاڑی میں بیٹھے تھے کہ ارونا آصف علی نے اپنے گرفتار شوہر بیرسٹر آصف علی کو الوداع کہتے وقت وعدہ کیا کہ میں تحریک آزادی میں آپ کا مورچہ خالی نہیں ہونے دوں گی۔ دوران تحریک انھوں نے لاہور کے بجائے سندھ میں رو پوش رہ کر، اس نے یہ کر دکھایا۔

Aruna Asaf Ali

یہ سندھ تھا کہ ارونا آصف گرفتاری سے بچ گئی، اگر پنجاب میں ہوتی تو ایک ہی دن میں گرفتار ہو جاتی۔ وہاں ہر پانچ آدمیوں میں سے ایک آدمی جاسوس ہوتا تھا، جن میں اکثریت شیعوں کی تھی۔ سبھاش چندر بوس جب براستہ افغانستان جرمن جاتے وقت رات کو لاہور آئے، میکلوڈ روڈ ’ماہ نامہ نقوش‘ کے دفتر ٹھہرے۔ چوکیداروں کے رات کی ڈیوٹی سے فارغ ہوتے ہی وہ لاہور سے نکل گئے، ورنہ گرفتار ہو جاتے‘‘۔

مگر یہ حیران کن امر ہے کہ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کا تجربہ انتہائی شان دار رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہو، یا اس کی شہادت ہو، ایم آر ڈی کی تحریک ہو، بے نظیر بھٹو کی منٹو پارک میں واپسی ہو یا پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت پر عوامی ردِ عمل ہو، لاہور نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے دل کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور سب سے زیادہ اگر کسی ایک شہر کے لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے کوڑے کھائے ہیں، تو وہ لاہور ہے۔

اندرون لاہور میں بھاٹی گیٹ میں رہنے والے ایک ڈرائیور محمد داؤد کا کہنا ہے کہ ”اگر اس وقت بھی بلاول بھٹو لاہور کے نئے پوش علاقے بحریہ ٹاؤن کو چھوڑ کر صرف ایک مہینا اندروں لاہور بھاٹی گیٹ میں آ کر ڈیرہ ڈال دے، تو لاہور فتح کر لے گا۔ “

ملک تو اپنی روایات کی مطابق ہر دور کی طرح، اس وقت بھی اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، مگر پاکستان پیپلز پارٹی کو اس وقت بھی کوئی ڈر نہیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے خبریں دو مختلف اطراف سے مختلف انداز سے آ رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ”زرداری پر ہاتھ اس کی کرپشن کی وجھ سے پڑ رہا ہے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اصل جھگڑا 18 ویں ترمیم سے ہاتھ اٹھانے کا پریشر ہے۔

سندھ کی قوم پرست تحریکی تاریخ کے ماہر اور قلم کار سہیل میمن کی رائے ہے کہ ”زرداری این آر او کے لئے منتیں کر رہا ہے، اگر اسے صرف کرپشن پر معافی مل جائے تو وہ خود نہ صرف 18 ویں ترمیم واپس کروانے کے لئے تیار ہو جائے گا، مگر اور بھی سندھ دشمن مطالبات تسلیم کرتے دیر نہیں کرے گا‘‘۔

سب باتیں اپنی جگہ پر مگر آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد سندھ اور پاکستان احتجاج نہ ہونے والے خیال میں کوئی زیادہ دم نہیں۔ سیاست سے وابستہ لوگوں کو خیال ہے کہ اس صورت احوال میں آصف زرداری کی گرفتاری اصل میں ملک میں وفاقی سیاست کی بساط لپیٹنے کے مترادف ہو گا اور اس خیال کو اور تقویت ملے گی کہ پاکستان میں جب بھی کوئی شخصیت، سیاسی ہیرو بننے کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو مار دیا جاتا ہے یا پھر اتنا ذلیل خوار کیا جاتا ہے کہ ”زرداری“ بنا دیا جاتا ہے۔

کشمیر کی آزادی کے اک ہیرو سردار عبدالقیوم خان نے کہا تھا کہ ”جنگ لڑنا ہمارا آبائی پیشہ ہے، اپنے حقوق کے لئے لڑنا ہمارے مزاج کا حصہ ہے‘‘۔ اسی طرح سندھ کا بھی ایک مزاج ہے، اور وہ ہے اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا اور احتجاج کرنا۔ سندھ کے عوامی ہیروز نصابی اور کتابی ہیروز سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہزار سال گزرنے اور ہزار کوششوں کے باوجود بھی راجا داہر کے مقابلے میں سندھ پر قبضہ کرنے والے محمد بن قاسم سندھ میں عوامی ہیرو نہیں بن سکے۔ چنیسر سومرو اپنے بھائی دودو سومرو کو شہید کروانے اور پھر سندھ پر قبضہ کرنے باوجود ہیرو نہیں بن سکا۔ انگریز نے سندھ میں سیکڑو‍ں ترقیاتی کام کروائے۔ سندھی زبان کو تحفظ دیا، رسم الخط دیا، سندھی بولی کو سرکاری زبان قرار دیا، شاہ جو رسالو کو ترتیب دلوایا، موئن جودڑو کو آشکار کیا، ادارے بنا کر سندھی بولی اور ثقافت کو امر کر دیا، مگر سندھی قوم کا ہیرو انگریز نہیں بلکہ ”ہوشو شیدی“ ہے اور قومی نعرہ ہے ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“۔

سندھ کا سیاسی مزاج مختلف ہے۔ جس طرح سے سہیل میمن نے وفاقی حکمران جماعت کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اعلان کرے کہ ”18 ویں ترمیم کو نہیں چھیڑا جائے گا اور کالا باغ ڈیم نہیں بنایا جائے گا۔“ تو بھلے آصف زرداری کو گرفتار کر لے سندھ میں کوئی احتجاج نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر سرکار ایسا نہ کر سکے تو پھر احتجاج کو کوئی نہیں روک سکتا۔ تو جناب ممکنہ نہیں یقینی جواب یہ ہے کہ ”احتجاج تو ہو گا‘‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں