پاکستانی ریاست مدینہ میں مسجد کے باہر نمازیوں کی قطار لگ گئی
ہمیں سوشل میڈیا کے توسط سے پتہ چلا تھا کہ اسرائیلی یہودیوں کی نیندیں اس بات سے اڑی ہوئی ہیں کہ جس دن پاکستان میں فجر کے وقت نمازیوں کی تعداد جمعے کے نمازیوں جتنی ہو گئی، اس دن اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ یہ دیکھ دیکھ کر ہم اپنا دل جلاتے رہتے تھے کہ بجائے اس کے کہ فجر کے وقت نمازی بڑھیں، جمعے کے وقت نمازی گھٹ رہے ہیں۔ اب شکر ہے کہ ہماری آنکھوں کو یہ دیکھ کر ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے کہ جمعے کی نماز ادا کرنے کے لئے بھی نمازیوں کی لمبی قطاریں بننے لگی ہیں۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان میں ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس پر سچے دل سے عمل کر رہے ہیں، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس مسجد کے پاس صدر عارف علوی کا دولت خانہ ہے۔
اب عمران خان چاہے بہت بڑے وزیراعظم ہوں (ہوشیار باش: لفظ بڑے وزیراعظم میں حرف ”ڑ“ استعمال ہوا ہے، ”ر“ نہیں) لیکن آئین کے مطابق ریاست پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ ڈاکٹر عارف علوی کا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے پہلے نمازیوں کی تعداد بڑھنے کا آغاز ان کے دولت خانے سے پھوٹنے والے فیض کے دریا کے سبب ان کے محلے کی مسجد سے ہوا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ دجالی میڈیا اسرائیل کو دہلا دینے والی اس کرامت کی تعریف کرنے کی بجائے الٹی سیدھی ہانکنے لگا ہے۔ خبر لگائی گئی ہے کہ
”محمد علی سوسائٹی کی مسجد بلال میں نماز جمعہ ادا کی تو سیکیورٹی کے باعث اہل محلہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مسجد میں داخلے کے لیے نمازیوں کو قطار لگانا پڑی۔ صدر مملکت کی سیکیورٹی پر ناراض شہری نے لمبی قطار کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی۔ ویڈیو میں ایک شہری کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اس طرح تو خانہ کعبہ میں بھی نہیں جاتے ہم لوگ، یہ عارف علوی کا پروٹوکول ہے۔ قطار کی ویڈیو بنانے والے شہری کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہمیں اسی تبدیلی کی توقع تھی، شکریہ عمران خان۔ “
اب اگر عمران خان سے خدا واسطے کے بیر کی کالی عینک اتار کر دیکھا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ شہری دہشت گردی کے زمانے میں اپنے محلے کی مسجد میں اتنی بہترین سکیورٹی فراہم کرنے پر نہایت خوش ہے۔ نیز اس کو اپنے بزرگوں کے بیان کردہ قصے بھی یاد آ رہے ہوں کہ سنہ ساٹھ ستر میں کراچی کے شہری قطار بنا کر بس وغیرہ میں سوار ہوا کرتے تھے۔ اب عبادت کے لئے بھی لوگوں کو قطاریں بنائے دیکھ کر وہ جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ کہنے لگا کہ ایسا روح پرور نظارہ تو کبھی خانہ کعبہ میں بھی نہیں دیکھا کہ لوگ قطاریں باندھے کھڑے ہوں کہ عبادت کے لئے مسجد میں داخل ہو سکیں۔ اسی لیے وہ بے ساختہ کہہ اٹھا کہ شکریہ عمران خان، حکومت سے ہمیں اسی تبدیلی کی توقع تھی۔
سوشل میڈیا پر اسے وائرل ہوتے دیکھ کر ہمارے محبوب صدر خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہہ دیا کہ
”میں نے جمعے کے وقت اپنی مسجد کے باہر لوگوں کی قطاروں کی تصویر دیکھی ہے کیونکہ میں وہاں نماز پڑھنے لگا تھا۔ مجھے گمان تک نہیں ہوا کہ یہ سب ہو رہا ہے۔ میں اپنے محلے والوں سے معذرت خواہ ہوں۔ ایسی نماز کا ثواب بھی ختم ہو جاتا ہوگا جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے“۔
ظاہر ہے کہ وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کر رہے ہیں کہ محلے والوں کو دیر سے علم ہوا کہ وہ اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یوں وہ بے تاب ہو کر جوق در جوق اپنے گھروں سے دیر سے نکلے اور مسجد کے باہر نمازیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ اگر پہلے علم ہو جاتا تو محلے والے وقت پر مسجد پہنچ جاتے۔ اسی لئے صدر مملکت نے معذرت کی ہے اور ندامت زدہ ہوئے ہیں کہ خدا جانے لوگوں کو پہنچنے والی اس تکلیف کے باعث انہیں کتنا اجر ملے گا۔
ہماری مانیں تو ہمارے محبوب صدر صبح فجر کی نماز بھی اسی مسجد میں ادا کریں اور نمازیوں کی ایسی لمبی قطاریں لگوائیں جیسی اسلام آباد کے سی این جی پمپ کے باہر لگنے لگی ہیں تاکہ اسرائیلی یہودیوں کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے۔



