محاورے سے معاشرتی حقیقت تک



وہ چھٹی جماعت کے طالبِ علم کی اردو کی کاپی تھی اور میں اس وقت پرچے میں دیے گئے ’محاوروں کا جملوں میں استعمال‘ کا سیکشن چیک کر رہا تھا۔ اس طالبِ علم نے دیے گئے ایک محاورے کا استعمال کچھ یوں کیا تھا:
”پانی کی کمی سے ٹینکر ڈلوانے پڑتے ہیں اس لیے پانی پیسے کی طرح نہیں بہانا چاہیے‘‘۔

یہ واضح تھا کہ طالبِ علم نے محاورہ ’پیسہ پانی کی طرح بہانا‘ کی ترتیب کو غلط پڑھ اور سمجھ لیا تھا اور ایک عمدہ کوشش کے باوجود اس کو بدلے میں مجھ سے صفر ہی ملنا تھا۔ صفر دینا تو علاحدہ بات تھی، اصل میں ایک بچے نے اپنی معصومیت میں ایک معاشی حقیقت کو سادہ لفظوں میں روشن کر دیا تھا۔

در حقیقت آج کے دور میں روپے کی قدر بھی گر گئی ہے اور اس کی وقعت بھی کھو چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب چند سو روپے لے کر لوگ بازار جاتے تھے اور خریداری کے بعد بھی ان کے پیسے بچ کر واپس آ جاتے تھے۔ اب خریداری میں ہزاروں روپے بھی یونھی ختم ہو جاتے ہیں اور مطلوبہ اشیا کا حصول بھی قوتِ خرید کی حد سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے گھر کے متعدد مکینوں کے ساتھ گھر میں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے قیام و طعام کے لیے روزی کم نہیں پڑتی تھی اور قلب و مکاں میں بھی وسعت ہوتی تھی۔ آج گھر کے مکینوں کی بہتر سکونت اور خوش خوراکی ایک زیست کی جد و جہد بن کر آزار کا سبب اور تکان کا باعث بن چکی ہے۔ پیسہ ہے کہ نہ کماتے پورا ہو رہا ہے نہ ضروریات ہیں کہ پوری ہوتے سکون دے رہی ہیں۔ نہ اس کی ہوس ختم ہو رہی ہے نہ اس کی خواہشات۔ یہ پیسے کا دور ہے، بلکہ پیسے کی دوڑ ہے!

دوسری طرف پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ بنیادی ضرورت سے محرومی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس محرومی نے زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب پوری طرح سر اُبھارا ہے۔ اس قلت کی وجہ پر روشنی ڈالنا تو میرا موضوع نہیں لیکن اس کی وجہ سے کہیں لوگ بورنگ (کنویں کی کھدائی) کروا رہے ہیں، کہیں ٹینکر پر ٹینکر ڈلوا رہے ہیں اور کہیں گھنٹوں یہاں تک کہ دنوں لائن میں پانی آنے کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ نیز پانی کے مسئلے کا فوری حل اس وقت بعید از قیاس ہے۔

کہا جاتا تھا جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہو گا لیکن پیسے کے معاملے میں یہ بات کارگر نہیں، کیوں کہ پیسا جتنا خرچ کرو بہتر سے بہتر اور اعلٰی سے اعلٰی شے کے حصول کی خواہش میں شدت ہی آتی رہتی ہے یہاں تک کہ قبر کی مٹی آدمی کا پیٹ بھر دے۔ اسی لیے اس وقت معاشرے میں قوتِ خرید میں کمی کے باوجود پیسے کی ریل پیل ہے۔ جب کہ پانی کا بحران ہے۔ تو اگر آج میں اس محاورے کو ”پانی پیسہ کی طرح بہانا“ کی ترتیب ہی میں درست سمجھ لوں، تو شاید حقیقت کے برعکس نہیں ہو گا!

Facebook Comments HS