جنگل کیسے پار کیا جائے

انسان بلا شبہ تمام مخلوقاتِ خداوند میں سب سے منفرد اور باصلاحیت ہے اور اسی لیے مخلوقات میں اشرف بھی قرار دیا گیاہے۔ افسوس یہ ہے کہ روز بہ روز لاکھوں آدمی جہانِ فانی کو خیرباد کہتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اپنی قابلیت، اہلیت اور استعداد کا ٹھوس استعمال کرنے سے قاصر رہ…

Read more

کیا پروفیشنل کامیابی کسی کسی کو حاصل ہوتی ہے؟

اس دنیا کے لوگ مختلف ہیں، ان کے کام، ان کے مزاج، ان کے تقاضے اور ضروریات سب مختلف ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جب پروفیشنل سکسیس (پیشہ ورانہ کامیابی) کی بات آئے تو سب لوگ ایک سے کامیاب ہو سکیں۔ بعض احباب یہ کہتے ہیں بلکہ اپنی ورکشاپس اور موٹیویشنل اسپیکنگ سیشنز میں اعلٰی ترین پروفیشنل کامیابی کا یوں درس دیتے نظر آتے ہیں کہ ہر آدمی خود کو اس کی بلند ترین سیڑھی پر کھڑا دیکھنے لگتا ہے یا اس کا متمنّی ہو جاتا ہے، مزید برآں خود میں اس کی تڑپ محسوس کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہ چیز تمام لوگوں کے لئے بیک وقت حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی اور چند دن گزرنے پر شاید ایک دو کو چھوڑ کر تمام مندوبین اور شرکاء اس سبق کے بے حقیقت عوامل سے شکست کھا کر ویسے ہی اپنی زندگیوں کو گزار رہے ہوتے ہیں جیسے پہلے بسر کر رہے تھے۔

Read more

محاورے سے معاشرتی حقیقت تک

وہ چھٹی جماعت کے طالبِ علم کی اردو کی کاپی تھی اور میں اس وقت پرچے میں دیے گئے ’محاوروں کا جملوں میں استعمال‘ کا سیکشن چیک کر رہا تھا۔ اس طالبِ علم نے دیے گئے ایک محاورے کا استعمال کچھ یوں کیا تھا:
”پانی کی کمی سے ٹینکر ڈلوانے پڑتے ہیں اس لیے پانی پیسے کی طرح نہیں بہانا چاہیے‘‘۔

یہ واضح تھا کہ طالبِ علم نے محاورہ ’پیسہ پانی کی طرح بہانا‘ کی ترتیب کو غلط پڑھ اور سمجھ لیا تھا اور ایک عمدہ کوشش کے باوجود اس کو بدلے میں مجھ سے صفر ہی ملنا تھا۔ صفر دینا تو علاحدہ بات تھی، اصل میں ایک بچے نے اپنی معصومیت میں ایک معاشی حقیقت کو سادہ لفظوں میں روشن کر دیا تھا۔

Read more