جاپانی نظام حکومت جمہوری ہے، بادشاہت صرف اعزازی اور علامتی ہے


اس سال کو کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں ختم کیا جائے۔ جیسے دستور دنیا ہے کہ آغاز کتنا ہی خوش گوار کیوں نہ ہو، اگر انجام بخیر نہ ہو تو اس سفر کو کام یاب سفر نہیں کہتے۔ سردی کی طویل راتیں، دھند اور اندھیرا اپنے دامن میں اداسی باہم مل کر ان جانا سا غم اور دکھ کے چھپے سائے لے کر آتی ہیں۔ قوموں کی زندگی بھی موسموں کی آس میں گزرتی ہے۔ قدرتی موسم انسان کے بس میں نہیں ہوتے، جب کہ قوموں کے موسم وہ خود تخلیق کیا کرتی ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ قومیں براہ راست یا بالواسطہ مارشل لا سے نہیں جمہوریت ہی سے پنپا کرتی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان پر سرد ترین ایک طویل سیاہ رات مسلط کر دی گئی تھی۔ جنگ ہاری ہوئی قوموں کو اپنا وقار بحال کرنے میں دہائیاں نہیں صدیاں لگ جایا کرتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد جاپان کو بھی محکوم بنا کر ذلت آمیز شرائط ماننے پر مجبور کیا گیا؛ جس میں 1948 ء کے جاپانی آئین کی شق 9 کے تحت یہ بھی شامل تھا کہ وہ اپنی فوجی قوت کو کسی دوسرے ملک سے جنگ کے لئے استعمال نہیں کرے گا یعنی اس کی کوئی باقاعدہ فوج ہی نہیں ہو گی۔ اسی لئے جاپان کی حفاظت کی تمام ذمہ داری ان پچھلے 70 برسوں میں امریکا جاپان کے دفاع کے معاہدہ کی شق 5 کے تحت فراہم کرتا رہا ہے۔

جاپان دنیا کے سامنے جن کٹھن حالات سے گزر کر جدید ٹیکنالوجی کی قوت بن کر ابھرا، وہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ 1960 ء سے 1990 ء تک کے عشروں میں جاپان کا دنیا بھر میں ہر قسم کا سامان نہ صرف ایک سند رکھتا رہا اور استعمال ہوتا رہا بلکہ سستائی کے لحاظ سے بھی مانا گیا۔ جاپان 50 سال تک دنیا کی دوسری عالمی اقتصادی قوت رہا ہے اگر چہ اب دو سال قبل چین نے اس سے یہ منصب چھین لیا ہے۔

روشنی میں تو راستہ سبھی ڈونڈھ لیتے ہیں لیکن اندھیرے میں راستہ رہبر و رہنما ہی دکھاتے ہیں۔ یہی راستہ جاپان میں اس کے لیڈروں نے اپنے لوگوں کو دکھایا یے۔ ایسے وقت میں جب راستہ سجھائی نہیں دیتا تھا، تب شہنشاہ ہیرو ہیٹو ایک رہبر کی حیثیت سے سامنے آئے۔ شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے قوم سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ، ”جاپانی قوم تلوار رکھ دے اور قلم اٹھا لے“۔ کوئی دوسری قوم ہوتی تو اول تو وہ اپنے رہبر کے بیان میں ہی سو سو کیڑے نکالتی پھرتی، اپنے اپنے مطلب کی توضیح اور تشریح کرتی۔ شکوک و شبہات کا اظہار کرتی، دشمن سے مل جانے کے الزام لگاتی یا اس کے شاعر اپنے اشعار میں دشمنوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیتے۔ اس کے نثر نویس الفاظ میں اپنے نا تحقیق شدہ ماضی کے وہ قصیدے پڑھتے کہ صدیوں خود اپنی بڑائی پہ خود ہی جھومتے رہتے۔ اس کے مذہبی رہنما دنیا کی ذلتوں کے عوض جنت کی عشرتوں اور عظمتوں کی بشارت دیتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ عوام نے اپنے لیڈر کو پہچانا اور اس کی بات کو سمجھا۔ پھر جاپان میں تعلیم کا شہرہ ہوا، جگہ جگہ معیاری تعلیمی ادارے کھلے، سائنسی تعلیم کا فروغ ہونے لگا اور آنے والی نسل سچ میں جہاں بانی کے لائق بنائی جانے لگی، پھر دنیا نے وہ دن دیکھے جب فاتح امریکی و دیگر مغربی اقوام اس مفتوح جاپانی قوم کی بنائی ہوئی چیزیں استعمال کرنے لگیں۔ اس کے بنائے ہوئے کیمرے سے تصویر بنانے لگ گئیں، اس کے بنائے ہوئے ٹیلی وژن سے تصویر اور اس کے بنائے ہوئے موسیقی کے آلات سے موسیقی سننے لگی۔

اس کی بنائی ہوئی گھڑیوں سے وقت اور اس کی بنائی ہوئی گاڑیوں میں سفر کرنے لگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اس مفتوح جاپانی قوم کی ایجاد نہیں تھی کیوں کہ اس نے اپنی تعلیم اور ہنر مندی کا ایسا امتزاج پیدا کرلیا اور خوب سے خوب تر کا وہ معیار قائم کرلیا کہ جاپان کا نام ایک مثال کے طور پر لیا جانے لگا۔

آج دنیا بھر میں ٹیوٹا، مزدا، میٹسوبشی، ہونڈا، سوزوکی، ہینو، اسوزو، کوماٹسو کا نام کاروں اور صنعتی مشینری کی صنعت میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ پاناسونک، جے وی سی، سونی، سانسوئی اور سانیو گھریلو استعمال کی الیکٹرونکس میں معتبر ہیں۔ کینن، نیکون، فیوجی، مینالٹا، اولمپس اور کاسیو کیمرے کی صنعت میں لا جواب ہیں۔ جاپان میں بم بارود، میزائل اور اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں نہیں ہیں لیکن اس قوم کی باتوں میں وزن ہے۔ وہ جو کہتی ہے وہ کر دیتی ہے۔ عوام خوش حال ہیں، صحت مند ہیں، پر اعتماد ہیں، محنت میں یقین رکھتے ہیں۔ اور نظام حکومت جمہوری ہے، بادشاہت اعزازی اور علامتی ہے۔

پس تحریر:۔
اس کالم کو پاکستان میں اصلی جمہوریت کے نفاذ اور براہ راست یا بالواسطہ مارشل لا کے خلاف تحریر سمجھا جائے، تو یہ ہرگز غلط نہیں ہو گا؛ کیوں کہ راقم صرف اور صرف اصلی جمہوریت کو رائج کرنے ہی پر یقین رکھتا ہے۔

Facebook Comments HS