پیپلز پارٹی کا المیہ اور سندھ کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کی سیاست میں ایک بار پھر سے ہلچل ہے، طوفان کی سی کیفیت ہے اور یہ بھی خبر گرم ہے کہ وہاں گورنر راج دستک دے رہا ہے، گو کہ تحریک انصاف کے وہاں گورنر اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کا کوئی پلان نہیں۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی جس کو اب مخالفین، ناقدین اور تبصرہ نگار ذولفقار علی بھٹو یا بینظیر بھٹو کی پارٹی کے بجاے زرداری کی پارٹی کہتے ہیں، کیوں کہ پارٹی پر اس کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا تسلط ہے، انہی کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے وہ جو چاہتے ہیں کر دیتے ہیں ، البتہ کہنے کو پارٹی کے چیرمین بینظیر بھٹو شہید کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری ہیں پر ابھی انہیں پارٹی کے حتمی فیصلے کرنے کا اختیار نظر نہیں آتا۔

پیپلز پارٹی کا المیہ ہے کہ سندھ جو اب پارٹی کا گڑھ ہے اور وہاں گیارہ سال سے اسکی حکومت قائم ہے، اور یہ اسکا تیسر ا دور ہے ، پر جہاں تک سندھ کے مسائل کا تعلق ہے تو جو انبار دو ہزار تیرہ میں لگے تھے، مسائل کے وہی انبار آج بھی لگے ہیں۔ تھر کے باسی آج بھی پیاسے ہیں، اندروں سندھ صحت تعلیم، بنیادی ضرورتوں کی حالت آج بھی وہی ہے جو شاید آج سے دس گیارہ سال پہلے تھی۔

 جس طرح تحریک انصاف پر تنقید ہوتی ہے کہ ان کی خیبر پختون خواہ پر پانچ سال حکومت رہی لیکن وہاں تبدیلی ایک ڈھونگ ہی رہی، تبدیلی نعرہ ہی رہا، اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ میں سن دوہزار آٹھ سے حکومت قائم ہے، اسی دوران دو ہزار تیرہ تک مرکز میں بھی ان کی حکومت تھی اور ایسے وقت میں حکومت تھی جب ایک ڈکٹیٹر مشرف اپنی مقبولیت کی پستیوں میں تھا اور دو ہزار سات میں ملک میں ایمرجنسی لگا کر اس نے اپنے آپ کو اگلے پانچ سال کے لئے منتخب کروا لیا تھا، لیکن منتخب جمہوری حکومت نے اسے چند ماہ میں ہی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا لیکن اس کی رخصتی ایوان صدر میں بینڈ باجوں کے ساتھ کی گئی۔ آصف زرداری، اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تک مضبوط صدر رہے، وزیر اعظم اپنا، سندھ پر آج تک مکمل کنٹرول اور نواز شریف کے ساتھ مکمل سیاسی مفاہمت کے باوجود وہ نہ تو ملک میں ترقی کا دور شروع کر سکے اور نہ ہی سندھ کے لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان دے سکے۔

گیارہ سال تک کسی ایک صوبے پر حکومت برقرار رکھنا ایسا اعزاز ہے جو اب تک کسی بھی پارٹی کو حاصل نہیں ہوا، اور تو اور مسلم لیگ نواز، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے جی ٹی روڈ پر موجود شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں کوئی شکست نہیں دے سکتا، لیکن دس سال پنجاب پر حکومت میں رہنے کے بعد وہ بھی وسطی پنجاب میں شکست کھا گئی، یا شکست سے ہمکنار کر دی گئی۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ کسی ایک صوبے میں وہ تیسری بار مسلسل حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اسکی لیڈرشپ چاہتی تو یہ ممکن تھا کہ پارٹی اپنا پچاس سال پرانا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ شرمندہ تعبیر کر دیتی، اور ذولفقار علی بھٹو اور بی بی شہید کی روح کو تسکین پہنچا سکتی تھی، لوگ جیے بھٹو کا حقیقی نعرہ دل سے لگا لگا کر انہیں دعائیں دیتے نہ تھکتے۔

پیپلز پارٹی سندھ کو ہی ایک ماڈل صوبہ بنا کر یہ ثابت کر سکتی تھی کہ وہی پاکستان کی ایک سنجیدہ ترقی پسند جماعت ہے جو ملک کو جنوبی ایشیا کا ترقی یافتہ، غربت سے پاک اور معاشی طور پر مستحکم بنا دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

پر ہوا کیا؟ ہوا وہی جو پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ ستر کی دہائی سے ہوتا چلا آرہا ہے، ذوالفقار بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بی بی شہید کی ایک بھی حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنے نہیں دیا گیا، ان پر کرپشن کے الزامات لگے، انکے شریک سفر آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ قرار دیا گیا، اور میاں نواز شریف نے ان کے خلاف بد ترین احتسابی مہم شروع کی. لیکن مشرف کے دور میں بھی زرداری پر کوئی مقدمہ ثابت ہو سکا اور نہ ہی بینظیر کے خلاف کرپشن ثابت ہو سکی۔

بی بی شہید کو بھی دو ہزار سات میں انتحابات سے دور رکھنے کا ایک ہی طریقہ ڈھونڈا گیا کہ انہیں خود کش حملہ کرا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راستہ سے ہٹا دیا گیا۔ ہاں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکوممت بنی، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز ملا کہ ان کی حکومت نے مقررہ پانچ سال کی مدت پوری کی، لیکن ان پانچ سالوں میں آصف زرداری کی قیادت میں چلنے والی حکومت بی بی شہید کے قاتلوں کا پتہ نہ چلا سکی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ ایک بار پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کرپشن کے بدترین الزامات کا شکار ہے۔ اومنی گروپ کے ذریعہ اربوں کی منی لانڈرنگ، جعلی اکاونٹس سے ملنے والے اربوں روپے، ملازمین کے بیرون ملک درجنوں سفر، ماڈل ایان علی کا معاملہ اور پھر آصف علی زرداری کے ٹی وی انٹرویو او ر ان میں میں یہ کہنا کہ مزدوروں، ٹھیلے والوں اور فالودہ والوں کے بینک اکاونٹس سے ملنے والے اربوں روپے انکے ہو سکتے ہیں، لیکن ثابت کر کے دکھاؤ بھلا کہ یہ میرے ہیں اور اگر میرے ہیں بھی تو مجھے اپنا دفاع کا حق حاصل ہے۔.جے آ یی ٹی کی رپورٹ میں بھی زرداری کے علاوہ ملک ریاض، فریال تالپور، بلاول بھٹو زرداری مراد علی شاہ اور دوسروں کے علاوہ، اب انصار برنی کا نام بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے تاہم اصل صورتحال عدالت کے سامنے ہی واضع ہو گی۔ یہ المیہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور کرپشن کے الزامات ساتھ ساتھ چلتے آرہے ہیں، لیکن نہ پاکستان کے عوام یا سندھ کے لوگوں اور غریب عوام کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ آج تک پورا ہو سکا نہ یہ پارٹی ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکی۔ ہاں یہ ماننا ہو گا کہ ملک میں اصل آئین بنانے یا اسکی بحالی کا کریڈٹ پیپلزپارٹی کو ہی جاتا ہے۔

اس صورتحال سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف فایدہ اٹھانا چاہتی ہے اور سندھ میں صوبائی حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت بنانا چاہتی ہے، مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ تحریک انصاف کو سندھ میں حکومت بنانے کی کیا جلدی ہے اور وہ گھوٹکی کے مہر خاندان جو ہمیشہ آمروں کے ساتھ رہا اور اسی طرح کے ایسے دوسرے سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ میرے خیال میں انہیں ہارس ٹریڈنگ کر کے بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ جو کچھ پرانے پاکستان میں ہوا کرتا تھا ، اگر نیا پاکستان میں بھی جاری رہا تو پھر انصافیوں کو نیا پاکستان کا نعرہ چھوڑ دینا چاہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •