پاکستان میں بنگلہ دیش ماڈل لانے کی تیاری


اس تناظر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو مجبور کرنے کی حکمت عملی کسی طور قانونی کارروائی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش نہیں سمجھی جائے گی۔ بلکہ اس سے یہ تاثر قوی ہوگا کہ یہ اقدام ملک کو سیاسی طور سے آمرانہ طرز حکومت کی طرف دھکیلنے اور مالی وسائل سے صوبوں کو محروم کرنے کی ایک منظم اور سوچی سمجھی کوشش ہے۔ خاص طور سے کرپشن کے بلند آہنگ نعروں میں جس طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا منصوبہ تکمیل تک پہنچایا جارہا ہے، اس میں عدالتی فیصلوں اور قانونی کارروائی کی بجائے چند لیڈروں کے خلاف عام تاثر قوی کرکے حکمران جماعت کی حمایت میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ایک متنازعہ جے آئی ٹی کی بنیاد پر پونے دوسو افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکومتی فیصلہ بھی ملک کی تاریخ میں ایک نئی روایت کا آغاز ہے، جسے کسی طرح جمہوریت دوستی یا قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

اس کے ساتھ ہی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے کے لئے افواہوں اور درپردہ کوششوں کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اسی مشن پر کراچی جانے اور جوڑ توڑ کرکے حکومت تبدیل کروانے کوشش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خود یہ کہہ چکے ہیں کہ ’سندھ سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں‘ ۔ بلاول بھٹو زرداری نے اگرچہ ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم کو جواب دیا ہے کہ ’ان کی حکومت جس طرح عوام کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے، ان کی وجہ سے یہ چیخیں ایک طوفان کی صورت میں تحریک انصاف کی حکومت کو ہڑپ کرسکتی ہیں‘ ۔ تاہم ملک میں بدعنوانی کے خلاف قائم ہونے والی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے جس طرح اداروں نے دست تعاون دراز کیا ہؤا ہے، اس کی روشنی میں بلاول کے انتباہ پر کان دھرنا مشکل ہوگا۔ ایسے میں اگر پیپلز پارٹی میں شگاف لگا کر سندھ میں حکومت تبدیل کروائی جاتی ہے تو یہ جمہوریت کے لئے ہی نہیں ملک کے سیاسی اور وفاقی انتظام کے لئے بھی ایک خطرناک اشارہ ہوگا۔ اس قسم کے کسی بھی اقدام سے صرف یہ تاثر قوی ہوگا کہ درپردہ قوتیں عمران خان اور تحریک انصاف کی آڑ میں سیاسی پارٹیوں کو کمزور اور بے وقعت کرنے کا کھیل کھیل رہی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تجربہ حسینہ واجد بنگلہ دیش میں کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا رہی ہیں، وہ پاکستان میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ا س کی متعدد سیاسی، سماجی، جغرافیائی اور انتظامی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سر فہرست معاشی وجہ ہے۔ پاکستان اس وقت شدید اقتصادی بحران کا سامنا کررہا ہے اور اسے روزمرہ اخرجات پورے کرنے کے لئے بھی دوست ملکوں کی سخاوت پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ وزیر اعظم اگرچہ یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ ملک کی معیشت بہتر ہورہی ہے اور اب ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن عوام پر مہنگائی اور محاصل کی صورت میں جو دباؤ بڑھ رہا اور جس میں اضافہ ہونے کا واضح امکان موجود ہے۔ اس لئے عمران خان کے معاشی احیا کے بارے میں دعوے بھی دیوانے کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ بنگلہ دیش کی آبادی پاکستان سے 6 کروڑ کم اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان سے چھے گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر کو سنبھالا دینے کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والے فکسڈ ڈپازٹ پر انحصار کررہا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے سٹیٹ بنک کے پاس 33 ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ موجود ہے۔ اس کی برآمدات 35 ارب ڈالر سے تجاوز کررہی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 24 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں اور ان میں اضافہ کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پاکستان کو دہشت گردی کے سنگین مسئلہ، بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر بے یقینی صورت حال اور صوبوں میں بڑھتی ہوئی جس بے چینی کا سامنا ہے، بنگلہ دیش ان مسائل سے کافی حد تک بچا ہؤا ہے۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان میں بنگلہ دیشی نظام لانے اور صوبوں کے سیاسی حق کو مسترد کرتے ہوئے مرکز کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے جمہوریت ہی نہیں قومی سلامتی کو سنگین اور شدید خطرہ لاحق ہوگا۔ ہو سکتا ہے عمران خان کو بدعنوانی کے خلاف جہاد کرنے کے جوش میں ان مسائل اور ان سے پیدا کی جانے والی صورت حال کا پوری طرح ادراک نہ ہو۔ لیکن ان کے دور حکومت میں ملک پر جو بھی آفت آئے گی اس کی ذمہ داری بہر حال انہیں ہی قبول کرنا پڑے گی۔

اقتدار میں چند ماہ گزارنے کے بعد عمران خان کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ ملکی معاملات چلانا آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے منتخب لیڈر کے طور پر اپنے متعدد اختیارات پر سمجھوتہ کیا ہے۔ اس کے سیاست اور جمہوریت پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر انہوں نے صوبوں کے حق و اختیار پر حملہ کے لئے اپنا کاندھا مستعار دیا تو کوئی بندوق چلانے والے کو الزام نہیں دے گا۔

پیپلز پارٹی کو گرانے کے اس کھیل میں اگر عمران خان کو یہ نوشتہ دیوار دکھائی نہ دیا تو وہ ملک کی تاریخ کے بدترین رہنما ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali