پاکستان میں بنگلہ دیش ماڈل لانے کی تیاری
بنگلہ دیش میں تمام تر بے چینی اور احتجاج کے باوجود وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہورہی ہے۔ اس طرح حسینہ واجد تیسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ 2009 میں وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے اپوزیشن کو دبانے اور فرد واحد کو مکمل اختیارات تفویض کرنے کی حکمت عملی پر اختیار کی تھا۔ مقبولیت حاصل کرنے کے لئے حسینہ واجد نے قوم پرستانہ رجحانات کو ہوادیتے ہوئے جنگی جرائم کمیشن کے ذریعے متعددسیاسی لیڈروں کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل و غارتگری اور قوم پرست عناصر کے خلاف کردار ادا کرنے پر موت کی سزائیں دینے کا اہتمام کیا تھا۔
اس ظالمانہ اور یک طرفہ طریقہ سے متعدد سیاسی مخالفین کو میدان سے ہٹانے کے علاوہ ایک طرف ملک میں قوم پرستی کے جذبات کو عام کیا گیا اور ہر اس شخص کو مطعون قرار دینے کی کوشش کی گئی جو بنگلہ دیش کے قیام کے دوران عوامی لیگ سے سیاسی اختلافات رکھتا تھا اور دوسری طرف ملک میں دہشت اور خوف کی فضا پیدا کرکے شیخ حسینہ واجد کے ہاتھ مضبوطکیے گئے۔ 2014 میں ہونے والے انتخابات میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اسے اپنے جارحانہ ہتھکنڈوں سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کی عوامی لیگ 300 میں سے 153 نشستیں بلا مقابلہ جیت گئی۔ عوامی لیگ کو مجموعی طور پر 234 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح شیخ حسینہ کی سیاسی قوت اور ان کی حکومت کی جارحیت میں اضافہ ہؤا۔
اس سال فروری میں دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہنے والی اور بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو کرپشن کے الزامات میں پانچ برس قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ موجودہ انتخابات کے دوران بھی قید میں تھیں۔ تاہم اس بار ان کی پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے دیگر سیاسی حامیوں کے ساتھ قومی اتحاد فرنٹ کے نام سے مل کر اس میں حصہ لینے اور عوامی لیگ کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رات گئے تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عوامی لیگ اپوزیشن اتحاد کے باوجود بھاری اکثریت سے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کررہی تھی۔
اپوزیشن نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے ان انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کیا ہے لیکن بنگلہ دیش میں شخصی حکومت کی جو راہ ہموار کی گئی ہے، اس میں یہ احتجاج صدا بہ صحرا ثابت ہوگا۔ حسینہ واجد کو اس سال کے دوران نوجوانوں کے احتجاج کو دبانے کے لئے وقت سے پہلے انتخابات کا فیصلہ کرنا پڑا تھا اور خبروں کے مطابق انتخابی کامیابی سے انہوں نے اپنی پارٹی کی مقبولیت ثابت کرنے کا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اپوزیشن جس کی اہم قائد جیل میں ہے، موجودہ حکومت کے خلاف کوئی طاقت ور تحریک چلانے میں کامیاب ہو سکے گی۔ دھاندلی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں اور اس کے الزامات بھی عائدکیے جارہے ہیں لیکن آمرانہ طرز حکومت اختیار کرنے والے لیڈروں کو اس قسم کے الزامات کی زیادہ پرواہ نہیں ہوتی۔ حسینہ واجد زیادہ سیاسی قوت کے ساتھ اپوزیشن کی کمر توڑنے کے مشن میں سرگرم ہوں گی۔
حیرت انگیز طور پر بنگلہ دیش میں جو نظام حکومت ایک دہائی مکمل کرنے والا ہے، اسے اب پاکستان میں نافذ کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس طرح اہل پاکستان نے مشرقی پاکستان کی صورت میں بنگالی بھائیوں کے ساتھ رہتے ہوئے جمہوریت کا سبق سیکھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش تو نہیں کی لیکن اس ملک میں اپوزیشن کو دبا کر نیم جمہوری اور مکمل آمرانہ نظام قائم کرنے کا جو تجربہ کیا گیا ہے، پاکستان کے لیڈر اس سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف کو کرپشن کے الزامات میں قید کیا گیا ہے اور دوسری اہم ترین اپوزیشن پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو دیوار سے لگانے کا اہتمام کرلیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے متنازعہ مقدمہ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر 172 افراد کے نام ای سی ایل پر ڈال دیے گئے ہیں۔ ان میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چئیرمین آصف زرداری کے علاوہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کے علاوہ متعدد تجزیہ نگار بھی دبے لفظوں میں یہ بات کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملک میں ایک پارٹی کی حکومت قائم کرنے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے اس خواہش اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ مرکز کو مالی، سیاسی اور انتظامی لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے۔ اسی حوالے سے اٹھارویں ترمیم پر تحفظات کا اظہار ہوتا رہا ہے اور این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل کے بارے میں بھی ناپسندیدگی موجود رہی ہے۔ تاہم ملک میں صوبوں کی ضرورتیں پوری کرنے اور مضبوط مرکز کے خلاف پیدا ہونے والی سیاسی رائے کی روشنی میں صوبوں کو وسائل کی فراہمی اور زیادہ تر معاملات میں خود مختاری بہتر سیاسی فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اب ملک کی دو بڑی پارٹیوں کی قیادت کو دیوار سے لگاتے ہوئے یہ امید کی جارہی ہے کہ مرکز کے ہاتھ مضبوطکیے جائیں اور ایسا اہتمام کیا جائے کہ زیادہ مالی وسائل پر اس کا تصرف ہو۔ یہ صورت حال ملک میں جمہوری انتظام ہونے کے باوجود اسٹبلشمنٹ کے براہ راست فائدہ میں ہے جو وفاقی حکومت کے وسائل پر زیادہ تصرف رکھتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


