تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری پر کرپشن کا سنگین الزام لگا دیا


پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر اور معروف قانون دان حامد خان نے کہا ہے کہ لاہورہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری کے دور میں بدعنوانی اور غیرمنصفانہ کلچر کا دور دورہ رہا۔ میں نے اپنی کتاب میں اس بارے میں لکھا ہے۔ اسی کتاب میں مذکورہ چیف جسٹس کے بھتیجے (فواد حسین چوہدری) کا بھی ذکر کیا لیکن نام لینا مناسب نہیں سمجھا۔

ویڈیو گفتگو میں حامد خان نے بتایا کہ ’’ میں نے پاکستان کی لاہور ہائیکورٹ کی عدالتی تاریخ پر کتاب لکھی ہے جو 2015ء میں شائع ہوئی۔ افتخار حسین چوہدری صاحب 2002ء سے 2007ء تک چیف جسٹس رہے، ان کے دور کے بارے میں تاریخی حوالے سے لکھا ہے۔ اس دور میں لاہورہائیکورٹ میں بہت بدعنوانی ہوئی اور بہت ہی غیر منصفانہ کلچر پیدا ہوا،   میں نے ایک دو پیراگراف ان کے بارے میں لکھے۔

ان کے بھتیجے کی بات ہونے اور رانا ثنااللہ کی طرف سے وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے ساتھ جوڑے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں حامد خان نے واضح کیا کہ میں نے ان کے بھتیجے کا ذکر کیا نام نہیں لیا۔ تاہم بات یہی ہے۔ یہی شخص تھا جس کا میں نام سے ذکر لینا مناسب نہیں سمجھا لیکن ذکر اس کا ہی تھا۔

اس ویڈیو پیغام کے سامنے آنے پر سینئر صحافی رضوان الرحمان رضی نے لکھا کہ ’’پی ٹی آئی کے تاحال سینئر نائب صدر جناب حامد خان نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے افتخار حسین چوہدری کے دور میں لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والی بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہےکہ چیف جسٹس کا بھتیجا (فواد حسین چوہدری) اس وقت جج صاحب کے لئے پیسے پکڑا کرتا تھا‘‘۔

عدنان رشید نے لکھا کہ ’’جو کچھ حامد خان نے کہا، وکلا کمیونٹی میں یہ باتیں تو زبان زد عام ہیں۔ اپنے چچا کی ہائیکورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد فوادچوہدری نے بھی وکالت سے قریبآ ریٹائرمنٹ ہی لے لی اور نئے مواقع کی تلاش کیلئے سیاست میں قدم رکھا‘‘

https://www.youtube.com/watch?v=94apoRR3Ua0

Facebook Comments HS