EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا مستقبل کیا ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کی دھرتی ان روایتوں کی امین ہے جس میں شاہ لطیف کی عالمی امن کی دعا، سچل کا سچ، مخدوم بلاول کا اپنی زبان پر قائم رہتے ہوئے مسکراتے ہوئے کولہو میں پس جانا، ماروی کی حب وطنی اور سسی کی محبت کی داستانیں سدا قائم رہیں گی۔ وادی سندھ میں ہمیشہ سے سیاسی اور سماجی جدوجہد جاری رہی ہے۔ ون یونٹ کے خلاف جدوجہد ہو یا پھر آمریت کے خلاف اے آر ڈی کی تحریک ہو یا پھر خواتین اور طلباء کے حقوق کی جدوجہد یا پھر ہاری، مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد ہر جدوجہد میں سندھ کی عوام نے اپنا حصہ اور کردار بخوبی نبھایا ہے۔

کچھ بھی کر لیں سندھ کی مٹی سے نہ ہی جی ایم سید کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ ہی بھٹو کو۔ سندھ کی مٹی ہمیشہ آمروں اور غاصبوں کو للکارتی نظر آئی ہے۔ وقت کے ساتھ اس ملک کے کرداروں اور طور طریقوں میں تبدیلی تو آتی رہی مگر ابھی تک یہ قوم جمہوریت کے پھل سے ناخوش اور تبدیلی کا انقلاب لانے کے لیے مزید تجربے کرنے کے لیے بیتاب نظر آتی ہے۔ اس ملک کا نصاب گواہ ہے کہ 71 سالہ تاریخ میں کئی چور سیاستدان ملے اور کئی غازی جرنیل مگر افسوس نہ ہی ملک بن پایا نہ ہی قوم۔

سیاستدانوں نے سیاستدانوں کو چور چور کہتے ڈاکو بنا دیا اور لکھا گیا کہ سیاسی گفتگو منع ہے۔ ابھی بھی پاکستان تحریک انصاف دوبارہ اس ملک میں 90 کی سیاست کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کے ڈاکوؤں اور لٹیروں سے جیل بھرنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں تو دوسری طرف اصغر خان کیس کو دوبارہ سرد خانے میں رکھنے کی استدعا عدالت عالیہ کو کی جا چکی ہے۔
قاضی، مرد مومن اور محب وطن سب ایک صف میں کھڑے ہیں۔

حکومت میں شامل بدنام زمانہ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور خود تحریک انصاف میں شامل سیاسی لوٹے جو ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں سو حج کر کے زم زم سے نہا کے حاجی بن چکے ہیں۔ یہ بھی وقت آنا تھا کہ وزیر ریلوے الحاج شیخ رشید صاحب تمام اپوزیشن کے سیاستدان چوروں اور ڈاکوؤں پر جھاڑو پھیرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

چلو جس کا انتظار تھا وہ وقت آ گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی پھوپھو سمیت جیل جانے کی بھرپور تیاریوں میں ہیں اور جے آئی ٹی کی جلد 25 میں تو بہت سے راز چھپے ہیں سنا ہے کہ بختاور بھٹو زرداری کو بھی شامل تفشیش کیا جائے گا۔ مگر لوگ تو میاں نواز شریف کے جے آئی ٹی کے خفیہ والیم کے بھی انتظار میں ہیں کہ اس میں کون کون سے راز چھپے تھے وہ کیوں نہیں ابھی تک سامنے لائی گئے۔

خیر قربانی کا وقت آ چکا ہے، چاقو چھریاں تیز ہو چکی ہیں۔ آصف علی زرداری اپنی گرفتاری سے پہلے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر ببانگ دہل بابا بلھے شاہ کے شعر سنا کر للکار رہے ہیں کہ کچھ بھی کر لو نہ جھکیں گے نہ ہی رکیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی کے پی کے کے نوجوانوں اور بلوچستان کے گم شدہ افراد کی بیٹیوں اور کالا باغ ڈیم کا نوحہ سنا رہے ہیں۔ کئی تجزیہ نگار اور نجومی پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ کارڈ کا بیلنس ختم کر چکے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے چاہے پیپلز پارٹی کی قیادت گرفتار ہو جائے یا پھر پارٹی ہی ختم ہو جائے احتجاجاً سندھ تک سے بھی کوئی تحریک نہیں نکل پائے گی۔

بھلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی امیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی پارٹی بن چکی ہے مگر ابھی بھی بھٹو کی پارٹی کو چاہنے اور بچانے والے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ بھلے ہی آپ آصف علی زرداری کو لوٹ کھسوٹ کا بے تاج بادشاہ ثابت کر دیں اور میاں نواز شریف کی طرح آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نا اہل کر وا کے اڈیالہ جیل بھیج دیں مگر آصف علی زرداری کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی کی سوچ کو چاہ کے بھی نہیں ختم کر سکتے کیونکہ کہ پیپلز پارٹی ابھی بھی غریبوں کی جماعت ہے جس کے لیڈران کی ایک پھانسی تین قتل ابھی بھی قوم پر قرض ہے۔

اس وقت سندھ حکومت میں تبدیلی اور ماضی کی طرح پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کی طرح فارورڈ بلاک کی افواہیں جاری ہیں کہ ابھی آیا گورنر راج اور تحریک انصاف کی حکومت۔ دیکھا جائے تو سندھ اسمبلی میں ایوان میں تبدیلی کے لیے 17 اراکین کی ضرورت ہے۔ صوبے میں ماضی کی طرح ایمرجنسی لگانے کے لیے آرٹیکل 232 تو ہر وقت حاضر ہیں مگر جو قیمت تحریک انصاف اور جو خمیازہ جمہوریت کو ادا کرنا پڑے گا وہ کئی سالوں تک یاد رکھا جائے گا کیونکہ کھیل پرانا ہے اور تحریک انصاف بہت نئی ہے۔

ماضی میں بھی انجنیئرنگ کر کے گورنر راج لاگو کیا گیا اور حکومتوں کو ختم کیا گیا۔ مگر اس کا نقصان جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کو اٹھانا پڑا۔ مگر یاد رکھیے کبھی بھی آپ سیاسی انجیئرنگ کرتے ہوئے نہ ہی پیپلز پارٹی کو ختم کر سکتے ہیں نہ ہی آصف علی زرداری کو سیاست سی الگ کر سکتے ہیں کیونکہ جن جماعتوں کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں ان کو کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ختم کرنے کے لیے بھلے ہی تختہ دار پر چڑھا دیا گیا مگر ابھی تک بھٹو ازم کو ختم کرنے میں تمام قوتیں ناکام ہی رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •