انڈیا کی طرف سے پاکستان کا پانی بند کرنے کے بارے کچھ حقائق


چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پاکستان کے پانی پر انڈیا کی طرف سے ڈیم بنا کر اس کا رخ موڑنے پر انتہائی فکرمندی کا بجا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ڈیم بنانے، انڈیا کی طرف سے دریاؤں کا رخ موڑ کر پاکستان کو پانی سے محروم کرنے جیسے معاملات پر حکومتی حکمت عملی بنانا عدالت عظمی یا جج کا کام نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ جن کا یہ کام ہے کیا وہ اپنی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔

کیا اس معاملہ کے ذمہ داران کو معلوم ہے کہ انڈیا کس طرح کی خطرناک جنگ پاکستان کے ساتھ چھیڑ چکا ہے اور اس جنگ میں بھارت کو مسلسل کامیابی مل رہی ہے جب کہ پاکستان کے حکمران/ بیورکریٹس گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔ شاید انہوں نے اس غلط فہمی میں چپ سادھ رکھی ہے کہ کون سا بھارت نے پاکستان کے خلاف میدان جنگ اپنی فوج اتار دی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے (توقعات کے عین مطابق) عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ یہ پاکستان کی بھارت سے سفارتی محاذ پر ایک بڑی شکست تھی جسے چپ کر کے پی لیا گیا۔ صرف کشن گنگا ڈیم ہی نہیں بلکہ دریائے سندھ پر انڈیا نے متنازعہ منصوبہ نیموبازگو ڈیم کو بھی مکمل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ”چٹک“ کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچنے والا ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے۔ کیونکہ:۔

1) :۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 ء میں بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے محتاج کر دے گا اور وہ زوروشور سے اس منصوبہ پر عمل کر رہا ہے۔

2) :۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11 ڈیم مکمل کر چکا ہے۔

3) :۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52 ڈیم بنا رہا ہے۔

4) :۔ دریائے چناب پر مزید 24 ڈیموں کی تعمیر جاری ہے۔

5) :۔ اسی طرح آگے چل کر مزید 190 ڈیم فزیبلٹی رپورٹس، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے مراحل میں ہیں۔

6) :۔ افغانستان بھی دریائے کابل پر 15 بڑے ڈیم بنانے کے منصوبوں پر کام شروع کر چکا ہے جس کے لئے مالی اور تکنیکی سپورٹ انڈیا فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ 10 سال کے عرصہ میں زراعت اور آبی وسائل کی کمی انتہائی شدید زبوں حالی کی نشاندہی کرتی ہے۔ انڈیا کی طرف سے پاکستانی دریاؤں پر درجنوں ڈیمز اور بیراج بنائے جانے کے بعد سے منگلا ڈیم اکتوبر 2017 ء سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت زیادہ تر بارش کا محتاج ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں، کوئی ووٹرز کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی جعلی احتساب کے پیچھے پڑا ہے تو کوئی مر چکے لیڈروں کے نام پر اپنی جاگیر بنائے بیٹھا ہے۔ رہی ہماری اسٹیبلشمنٹ تو اسے اس تصور سے ہی فرصت نہیں کہ ہم افغانستان میں تزاویزاتی گہرائیوں جیسے ناممکن اور احمقانہ اہداف کی تکمیل کے لئے کتنے مزید ”اچھے طالبان“ بنا سکتے ہیں۔

کچھ ناعاقبت اندیش یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس صورتحال میں پاکستان کی فوج کچھ کرسکتی ہے جو انتہائی درجہ کی بیوقوفی ہے، کیونکہ فوج صرف لڑنے کے لئے ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ فوج بھارت سے لڑسکتی ہے بھارت کے بنائے گئے ڈیموں کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنا سکتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں، کیونکہ جواب میں ہمیں بھی انڈین میزائلوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ رستہ دونوں ملکوں کی تباہی کا ہے، ہماری حکومتوں اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کو یہ مسئلہ سفارتی سطح پر بھارت سے بات چیت کے ذریعہ ہی حل کرنا ہوگا تاکہ انڈیا پاکستانی دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبہ سے باز رہے۔

تیزی سے ختم ہوتے پانی کا یہ مسئلہ اگر کسی پارٹی کے منشور میں شامل نہیں ہے تو اس کے ذمہ دار ہم عوام ہیں۔ عوام کے ووٹ دینے کے معیار نالیاں پکی کرنا، دھاندلی کے خلاف ناچ گانے والے دھرنے، جعلی تبدیلی کے لئے نعرہ بازی، قیمے والا نان یا نام نہاد نمائیشی سکیمیں ہیں۔ شاید ہم ذہنی غلام بن چکے ہیں اور بکاؤ مین اسٹریم میڈیا نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان سیاسی خداؤں کے تابع کر رکھی ہیں۔ یا شاید اس لئے کہ ہم بطورِ عوام ان موضوعات پر بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اس معاملہ پر سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے جفادریوں سے گلہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کی جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں اور خدانخواستہ پاکستان پر کوئی بھی آنچ آئی تو یہ سب ملک چھوڑ کر باہر بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ہم عام لوگوں نے تو یہاں ہی رہنا ہے، خدا وہ دن نہ دکھائے جب پانی کے گھونٹ کے لیے ایک بھائی دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہو۔

Facebook Comments HS