سماجی تبدیلی کی خواہاں باکمال فنکارہ: ثانیہ سعید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسٹیج، تھیٹر اور ٹی وی کی دنیا میں فنِ اداکاری کے افق پر کئی ستارے ابھرے، جھلملائے اور پھر شہابِ ثاقب کے مانند ٹوٹ کے گم ہوئے مگر جس ستارے کو ہم تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل جگمگاتا دیکھ رہے ہیں اس کی تابناکیوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس محنتی، باشعور، سماجی تبدیلی کی خواہاں، سچی اور باکمال فنکارہ کا نام ہے ثانیہ سعید۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ کراچی میں مختصر قیام کے دوران مجھے ثانیہ سے گفتگو کا موقع ملا جو ان کے گھر پر ہوئی۔

کراچی میں گلستان جوہر کے علاقہ میں واقع مکان کے بالائی حصہ میں مقیم ثانیہ کے گھر کی دو باتیں بہت خاص ہیں۔ ایک تو اس گھر کے مکین ثانیہ، ان کے شوہر شاہد شفاعت اور ثانیہ کی بلیاں جن کے لاڈ وہ ماؤں کی طرح اٹھاتی ہیں اور دوسرے ان کے صحن میں انواع و اقسام کے خوبصورت اور سرسبز پودوں کی فراوانی جن کی تازگی و خوبصورتی کراچی کے موسم کو دھیما اور روح کو فرحت بخش رہی تھی۔ ثانیہ نے اپنی بہت معصوم اور خوبصورت مسکراہٹ سے پرتپاک انداز میں ہمارا استقبال کیا۔ سفید سادہ لباس میں ملبوس ثانیہ کا دلکش اور ذہانت سے بھرپور چہرہ کسی بھی قسم کے میک اپ سے یکسر عاری تھا۔ تصنع اور بناوٹ سے پاک ماحول میں کی گئی یہ گفتگو ہمارے قارئین کی نذر ہے۔

سوال:۔ ثانیہ اپنے بچپن، خاندانی اور تعلیمی پس منظر کے حوالے سے کچھ بتائیں گی؟

جواب:۔ میرے ابو کا نام منصور سعید، والدہ عابدہ ہاشمی ہیں۔ دونوں کا ہی تعلق علمی اور سیاسی گھرانوں سے تھا۔ میرے نانا انیس ہاشمی مشہور ترقی پسند رہنما تھے جبکہ ابو مولانا احمد سعید کے پڑپوتے تھے جو اہم سیاسی شخصیت تھے اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ میرے ابو بہت پڑھے لکھے اور سیاسی سوچ رکھنے والے انسان تھے اور سیاسی تبدیلی کے لئے اپنی جنگ ثقافتی محاذ پر لڑنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کئی ڈراموں اور دستاویزی فلموں کے تراجم کیے مگر ان کا کام تھیٹر میں بہت تھا۔ انیس ہاشمی کی بیٹی ہونے کے حوالے سے میری امی بھی بہت روشن خیال اور پڑھی لکھی تھیں۔ وہ ایک مو نٹسری ”سیڈکنگ“ چلا رہی ہیں۔ انہیں نظام تعلیم بہت پسند تھا لہٰذا میری تعلیم کی ابتدا بھی طارق روڈ پر واقع ”چلڈرنز ہاؤس“ مونٹسری سے ہوئی۔

سوال:۔ ثانیہ آپ کا تھیٹر میں کس طرح آنا ہوا؟

جواب:۔ میں ابھی 10 برس کی تھی تو ابو نے مجھے ایک محنت کش بچوں کے گروپ ”ساتھی بارڑا سنگت“ میں بطور والنٹیئر شامل کروا دیا۔ اس وقت میں سینٹ جوزف اسکول میں پڑھتی تھی۔ اسکول کے بعد ہوم ورک کرتی اور پھر تین بجے میں اپنے والنٹیئر کام میں لگ جاتی۔ اس کام سے وابستگی میری خوش نصیبی تھی اور مجھ پر یہ بات واضح ہوئی کہ بڑے ہو کر میں کون سا کام کرنا چاہونگی۔

سوال:۔ ”دستک گروپ“ سے وابستگی کس طرح ہوئی اور دستک کی تشکیل کیونکر ہوئی؟

جواب:۔ اس تھیٹر گروپ کی تشکیل 1982 ء میں میرے ابو منصور سعید اور ان کے ہم خیال افراد مثلاً اسلم اظہر، حوری نورانی وغیرہ کے ہاتھوں ہوئی جبکہ گروپ کو سپورٹ کرنے والے طلبہ، اساتذہ، مزدور، ٹریڈ یونینز وغیرہ تھے۔ یہ زمانہ وزیراعظم بھٹو کی پھانسی اور ضیاء کی فوجی آمریت کا تھا جس میں نشر و اشاعت پر سخت پابندیاں تھیں۔ ہر بات استعارے میں ہی ممکن تھی۔ ”دستک“ نئی فکر اور روشنی کی علامت کے طور پر تھا۔ ابا نے چیخوف کے مشہور ڈرامہ ”گرگٹ“ کے ترجمے پر مبنی پلے کیا اور اس کے علاوہ بھی انقلابی ڈرامے پیش ہوئے۔

سخت سنسرشپ پالیسیوں کی وجہ سے ان او سی ملنا مشکل تھا تاہم اسلم اظہر کی وجہ سے آسانی ہوگئی جنہوں نے حکومت کی غیرجمہوری پالیسیوں کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا تھا اور ابو کے ساتھ ”دستک“ گروپ میں کام کررہے تھے۔ میں 10 سال کی عمر سے ہی دستک میں کام کررہی تھی۔ دستک کی میٹنگز میں سبط حسن اور فیض صاحب بھی آتے تھے اور آرٹ اور تھیٹر کے کردار کے بارے میں گفتگو کرتے کہ فنکار کا سیاسی کردار کیا ہے۔ مجھے آج بھی فیض صاحب کی گود میں بیٹھنا یاد ہے۔

میں اپنے ابا سے کہتی ”یہ نانا بہت آہستہ بولتے ہیں“۔ اس حلقہ میں میرے نانا مزدور لیڈر انیس ہاشمی بھی ہوتے، دانشور اپنے مقالے پڑھتے، لوگ اپنے مشورے اور رائے دیتے، میں اس ساری فضا میں اپنے آپ کو بہت محفوظ تصور کرتی اور کم عمری کے باوجود اس پورے عمل سے وابستہ بھی تھی۔ مجھے تھیٹر میں کام کرنا بہت پسند ہے کیونکہ مجھے اپنی پرفارمنس سے زیادہ لوگوں کے ساتھ ملکر کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ اس وقت ”دستک“ کے ”اجو کا“ گروپ بھی میں اہم سیاسی تھیٹر کے طور پر لاہور میں فعال تھا۔

سوال:۔ تھیٹر سے ٹی وی پر کب اور کیسے رسائی ہوئی؟

جواب:۔ پہلی بار میری پہنچ عورتوں کے عالمی دن ( 8 مارچ) کے حوالے سے ہوئی جو پہلے اسٹریٹ کھیل کے طور پر پیش ہوا اور پھر پی ٹی وی نے ”عورت“ کے نام سے پیش کیا۔ پھر میں نے این ٹی ایم میں اس کی پہلی اناؤنسر کے طور پر کام کیا۔ 1991 ء میں حسینہ معین کی لکھی سیریل ”آہٹ“ کے لئے میرا انتخاب ہوا جس کی ڈائریکٹر ساحرہ کاظمی تھیں۔

سوال:۔ اس سیریل میں آپ نے کئی بچوں کی ماؤں کا کردار انتہائی خوبی سے نبھایا لیکن یہ بتائیں کہ ساحرہ جیسی ماہر ڈائریکٹر کے ساتھ کام کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب:۔ انہوں نے کبھی بھی مجھے نئی یا کم عمر آرٹسٹ کے طور پر نہیں برتا، کئی سالوں بعد جب میں ان سے ملی تو انہوں نے بہت کھلے دل سے میری تعریف کی اور کہا کہ مجھے پتہ تھا کہ تم بہتر کرسکتی ہو لہٰذا میں تمہیں غلطی کی گنجائش نہیں دیتی تھی۔

سوال:۔ ہم آپ کے لونگ پلے دیکھیں یا سیریل مثلاً ”آہٹ“ اور ”ستارہ اور مہر النساء“ محسوس یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اداکاری کے اعلیٰ مقام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا؟

جواب:۔ میں چاہتی ہوں کہ جب میں اداکاری کروں تو لوگ مجھے بھول جائیں اور اس کردار کو یاد رکھیں جس کو میں ادا کررہی ہوں۔

سوال:۔ ثانیہ آپ نے اپنے بزرگوں خاص کر والد کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے ”کتھا تھیٹر گروپ“ کی بنیاد رکھی، کچھ اس کی کتھا سنائیں؟

جواب:۔ 1992 ء میں شاہد شفاعت نے جو ”دستک گروپ“ کے فعال رکن تھے، ہم خیال لوگوں کے ساتھ کورنگی کے مزدور بچوں کے ساتھ ورکشاپ کی اور PILER اور گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے ”تاریکیوں کے سائے“ کے نام سے تھیٹر پلے پیش کیا۔ پہلے اسے کورنگی کے شادی ہال میں پیش کیا گیا پھر پاک امریکن کلچرل سینٹر اور بعد میں یہی کام کرنے والا گروپ ”گتھا“ کے نام سے پہچانا گیا اور اس کی پیدائش کا سال تھا 1994 ء، جس نے سماجی حالات سے مطابقت رکھنے والے کھیل مثلاً ”خوشی کی چڑیا“ پیش کیا۔

اس کھیل میں نابینا اور سماعت سے محروم بچوں نے کام کیا۔ اس کے ڈائریکٹر شاہد تھے جنہوں نے ان معذور بچوں کے لئے ایک ایسی زبان مینج (Manage) کی جسے دونوں قسم کے اداکار کے علاوہ دیکھنے والے شائقین بھی سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ ہم نے آرٹس کونسل کے دس روزہ فیسٹیول ( 2010 ء) میں تین مختلف موضوعات بچوں کا تھیٹر (ایک سے بڑھ کر ایک) ، کامیڈی (محبت بھی قیامت ہے ) اور سنجیدہ کھیل (چھوٹے روپ کے درشن) پیش کیے۔

ورکشاپرز کے علاوہ اندرون شہر یو این ڈی پی کے ساتھ پروجیکٹ کے تحت ایسی جگہ بھی کام کیا جہاں بجلی نہیں تھی اور ہم نے آگ کی روشنی میں اپنا کھیل پیش کیا۔ جب ہم خیرپور کے ایک اسکول میں کھیل پیش کرنے گئے تو وہاں گھیرا بنا کر دیکھنے والوں کے ذہن میں تھا کہ شاید ہم مجرا پیش کریں گے۔ جب کھیل ختم ہوا تو ان افراد نے ہاتھ جوڑ کر ہم سے معافی مانگی کہ ”تم ہماری مہمان ہو“۔

سوال:۔ آپ کے تھیٹر کے موضوعات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا رجحان سماجی بہبود کی جانب ہے۔ کیا مستقبل میں کبھی سیاست میں بھی آسکتی ہیں؟

جواب:۔ نہیں، ایسا کوئی ارادہ نہیں، میں خیراتی بنیاد کے سماجی کاموں پر یقین نہیں رکھتی لیکن تعلیم کی ترقی، عورتوں کی حیثیت کو منوانا وغیرہ کے حوالے سے میرا رجحان سماجی، کاموں کی طرف ضرور ہے۔ میں عورتوں اور مردوں کے سماجی حقوق کی قائل ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کا کوئی نتیجہ ہوگا بھی یا نہیں مگر میں سماج میں اپنا کردار ادا کرتی جاؤں گی۔

سوال:۔ آپ ذاتی طور پر ٹی وی، فلم یا تھیٹر میں کس میڈیم کو زیادہ پسند کرتی ہیں؟

جواب:۔ تھیٹر جس سے میں تین دہائیوں سے زیادہ منسلک ہوں، بے شک ٹی وی کی رینج بہت زیادہ ہے لیکن تھیٹر کی طاقت ہی اور ہے، اس میں اداکار اور دیکھنے والوں میں جو قربت ہوتی ہے وہ کسی میں نہیں ملتی۔ آپ پانچ سو لوگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنی بات کرتے ہیں اور لوگ نہ صرف اسے سمجھتے بلکہ اتفاق یا اختلاف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک سیکھنے کا عمل ہے جس میں کام کرنے والے اور دیکھنے والے دونوں کی ہی تربیت ہورہی ہوتی ہے۔

سوال:۔ ٹی وی پر آپ کا فنی سفر طویل ہے۔ آپ نے کمال کے معیاری ڈرامے کیے ہیں لیکن کیا یہ درست نہیں کہ پہلے زمانے کے ٹی وی ڈراموں کے مقابلے میں اب ٹی وی ڈراموں کا معیار گر گیا ہے؟

جواب:۔ جب ڈرامہ ایک بزنس بن جائے تو معیار گر ہی جاتا ہے۔ اب ڈرامہ اشتہارات اور پیسہ لاتا ہے۔ پہلے لکھنے والوں کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ متنوع تھا مثلاً امر جلیل، نور الہدیٰ شاہ، عبدالقادر جونیجو وغیرہ جن سے خواہ آپ متفق ہوں یا نہ ہوں، ان کا ایک مطمح نظر تھا۔ آج ٹی وی ڈرامے کا سارا مکاملہ ڈرائنگ رومز میں بند ہوگیا ہے اور یہ شہری متوسط طبقہ کی گھریلو عورتوں کے لئے بن رہا ہے کہ جس میں لوگ یا تو بہت برے ہیں یا بہت اچھے۔

ہم اپنے دیکھنے والوں کی فکری اپچ کو وسیع نہیں کررہے۔ اس میں روتی ہوئی مجبور عورت ہے، پہلے ڈرامہ بنانے والوں کا مطمح نظر یہ تھا کہ ناظرین کا موجودہ معیار بلند کرنا ہے جبکہ کمرشل ٹی وی کی سوچ یہ ہے کہ لوگوں کہ وہ دکھاؤ جو وہ سمجھتے ہیں، وہ ان کے معیار کو بڑھانے میں مددگار نہیں۔ خود مجھے اپنے ملنے والے کرداروں کے لئے ہمیشہ بحث کرنی پڑتی ہے۔ کچھ اسکرپٹ میں تو تبدیل کروالیتی ہوں مگر زیادہ تر ڈائریکٹرز رضامند نہیں ہوتے۔

سوال:۔ ثانیہ آپ جس معیار کی اداکارہ ہیں اس لحاظ سے معاوضہ یا آمدنی سے مطمئن ہیں؟

جواب:۔ میری مالی ضروریات اتنی نہیں، زندگی سادہ ہے، گزارہ ہوجاتا ہے۔

سوال:۔ آپ اگر اداکارہ نہ ہوتی تو کیا ہوتیں؟

جواب:۔ میں نے کراچی یونیورسٹی سے کلینیکل سائیکالوجی میں ڈگری حاصل کی۔ اگر میں اداکارہ نہ ہوتی تو میرا کیرئیر نفسیات میں ہوتا۔ اس کے علاوہ بچپن میں جانوروں کی ڈاکٹر اور اس کے علاوہ ٹیچر بننے کا بھی شوق تھا۔

سوال:۔ ایک اہم سوال اداکاری کے تربیتی اداروں یا اکیڈمیز کے فقدان کا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں اس سلسلے میں؟

جواب:۔ میرے خیال میں تو ہر شہر میں ہی ایک تربیتی ادارہ تو ہونا ہی چاہیے اور ان اداروں میں نوکرشاہی بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ میں حکومت سے کوئی خاص امید نہیں رکھتی کیونکہ جو اہم اور بنیادی کام مثلاً ہیلتھ کیئر یا تعلیم وغیرہ ہیں ان کو تو ٹھیک سے کرلیں، یہاں تو لائبریریاں اور اسٹیڈیم بھی شاپنگ مالز میں تبدیل ہورہے ہیں۔ تاہم فن کی سرپرستی کا کام سرکار ہی کا ہے کہ وہ ادارے قائم کرے اور فن کی ترویج کرے البتہ نجی سیکٹر میں یہ کام ضرور ہوا ہے کہ جس کی وجہ سے تھیٹر آگے بڑھا ہے مثلاً نیپا گروپ، شیما کرمانی کا تحریک نسواں گروپ، کاپی کیٹ پروڈکشن، اجوکا (لاہور) اور کتھا تھیٹر، غرض اپنے اپنے انداز میں مخصوص طرز کے تھیٹر پیش ہورہے ہیں اور تھیٹر کے نمو کے اس عمل میں ہمارے دیکھنے والوں کی تربیت بھی ہورہی ہے۔

سوال:۔ ثانیہ یہ باتیں تو پروفیشنل زندگی کی تھی، اب کچھ ذاتی زندگی کے متعلق بھی بتائیں مثلاً آپ کے آئیڈیل اور زندگی سے قریب کون سے لوگ ہیں؟

جواب:۔ میں ذاتی زندگی میں ایک پرائیویٹ پرسن ہوں، میرے ابو میرے آئیڈیل ہیں۔ اپنی قدروں سے مخلص، سچائی اور اپنے کو وقف کرنا صرف الفاظ ہی نہیں ہم نے ان کو ان میں جیتے دیکھا ہے۔ اپنے والد کی جو چیز سب سے زیادہ یاد ہے وہ ان کی آخری وقت ( 2010 ء) تک یہ خواہش کہ وہ کچھ نیا سیکھیں۔ میں نے اپنی والدہ سے محنت کی اور جذباتی طاقت کو شخصیت میں سمونے کی عادت لی۔ میرے بھائی احمر سے چاہے میری گفتگو کم ہو مگر ہم دونوں کو پتہ ہے کہ اگر اندھیرے میں کوئی ہاتھ آئے گا تو وہ میرا ہوگا۔

سوال:۔ شاہد شفاعت جو خود ہدایتکار اور ادیب ہیں، سے کب شادی ہوئی؟

جواب:۔ میری شادی 1998 ء میں ہوئی، شدی (شاہد) بہت دیانتدار انسان ہے۔

سوال:۔ سنا ہے بہت سادہ طبیعت ہیں اور نیم برینڈ (Name Brand) چیزوں سے پرہیز ہے؟

جواب:۔ برینڈ صرف ”اسٹیٹس سمبل“ ہے۔ اگر میں اپنی گھڑی، جوتے، پرس اور پینٹ سے پہچانی جاؤں تو میں نے اپنی شخصیت پر کیا کام کیا؟

(اپنی فنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ثانیہ کو کئی بار ”لکس اسٹائل ایوارڈ“ ”ہم“ اور ”پی ٹی وی ایوارڈز“ سے نوازا گیا ہے اور حال ہی میں فلم ”منٹو“ میں منٹو کی بیوی کا کردار ادا کرکے داد وصول کی ہے )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں