چار لڑکیاں اور ایک سبق


نظر پڑتے ہی میں چونک اٹھا، ہیٹ بتانے والی سوئی خطرناک حد کو چھو رہی تھی۔ ایسا کیوں ہوا؟ میں نے پریشانی میں سوچا۔ سڑک ویران اور علاقہ انجان تھا ایسے میں گاڑی کے انجن کا گرم ہونا مصیبت کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا۔ اصل میں غلطی تو میری ہی تھی۔ نئے سال کا پہلا دن تھا اور میں ایک دوست کی دعوت پر ملتان سے لیہ روانہ ہو گیا۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے کا سفر تھا۔ میں سہ پہر کو روانہ ہوا تھا اب شام ہورہی تھی۔ کوٹ ادو پیچھے رہ گیا تھا میں جمن شاہ کے کہیں آس پاس تھا۔

کار کو تو فوراً روکنا ہی تھا۔ بونٹ کھول کر دیکھا؛ پتہ چل رہا تھا کہ معاملہ سیریس ہے۔ شاید ریڈی ایٹر کا پانی لیک کر گیا تھا۔ عام طور پر کار میں دو تین پانی کی بوتلیں رکھتا ہوں لیکن آج کچھ ایسی عجلت میں روانہ ہوا تھا کہ تیل پانی چیک ہی نہیں کر سکا تھا پھر پانی کی بوتلیں خالی پڑی تھیں۔ دائیں بائیں دیکھا تو صورتِ حال کی سنگینی کا صحیح اندازہ ہوا۔

دور دور تک آبادی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ ریتلی زمین پر اکا دکا درخت نظر آتے تھے۔ سڑک پر ٹریفک بہت کم تھی۔ ڈھلتے سورج کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت اور دھند میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ چند ویگنیں، کاریں اور بسیں میرے قریب سے گزریں تو میں نے ہاتھ ہلا کر انہیں رکنے کے اشارے کیے لیکن وہ تیزی سے دھول اڑاتے گزرتے چلے گئے۔

دوست نے ڈنر کی دعوت دی تھی لیکن اب ایسا لگ رہا تھا کہ میں ناشتے کے وقت تک بھی شاید نہ پہنچ پاؤں کیوں کہ کوئی گاڑی والا رکنے پر تیار نظر نہ آتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کہیں پانی تلاش کرتا ہوں۔ کار تو سڑک کے کنارے پر کھڑی تھی اس کے انڈیکیٹر آن کر کے میں سامنے کی سمت آگے بڑھتا چلا گیا۔ پانچ چھ منٹ چلنے کے بعد سڑک کے موڑ پر بائیں طرف دیکھا تو دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

وہاں ایک ہینڈ پمپ نظر آ رہا تھا۔ قدرت مہربان تھی اب میں پانی حاصل کر سکتا تھا۔ میں تیزی سے آگے بڑھا اس نلکے سے کچھ فاصلے پر دو کچے کمرے اور دو تین گائے بیل بندھے تھے۔ گویا کسی کا گھر تھا مگر یوں الگ تھلگ۔ شاید آس پاس اور بھی مکان ہوں مگر اس وقت سب کچھ دیکھنے کی فرصت نہیں تھی دھند بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں اپنے ساتھ ڈیڑھ لٹر والی دو بوتلیں بھی لایا تھا۔ فوراً ان میں پانی بھرنے لگا۔ اس دوران وہ آ گئی تھیں۔

پانی بھر کر سراٹھایا تو وہ مجھے گھور رہی تھیں۔ وہ چار لڑکیاں تھیں جن کی عمریں سولہ سترہ سال سے لے کر بیس اکیس کے درمیان رہی ہوں گی۔ چہروں میں اس قدر مماثلت تھی جیسے جڑواں ہوں۔ ”سوری! میں نے بغیر اجازت آپ کا پانی لیا۔ “ میں نے گھبرا کر کہا۔ ”کوئی گل نئیں۔ “ ان میں جو سب سے آگے کھڑی تھی اس نے فوراً مقامی زبان میں کہا۔

”میری گاڑی گرم ہو گئی تھی، مجھے پانی کی ضرورت تھی۔ “ میں نے وضاحت کی۔ ”آپ بھی پانی پی لو، آپ کا بھی گلا سوکھ رہا ہے۔ “ اسی لڑکی نے سنجیدگی سے کہا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا کہ کہیں وہ میرا مذاق تو نہیں اڑا رہی لیکن میرا خیال خام تھا۔ اس کے چہرے پر سادگی تھی۔ بلکہ ان چاروں کے چہرے بھولپن اور سادگی کے آئینہ دار تھے۔ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اس بار سب سے چھوٹی نے سوال کیا۔

”ملتان سے آیا ہوں اور لیہ جانا ہے۔ “ میں نے مختصر جواب دیا۔ بہر حال ان کا شکریہ ادا کر کے میں واپس گاڑی تک پہنچا۔ پانی تقریباً آدھا رہ گیا تھا۔ پانی پورا کیا۔ پھر کار میں بیٹھ کر چابی گھمائی لیکن کار سٹارٹ نہ ہو سکی۔ جلد بازی میں کئی بار سٹارٹ کرنے کی کوشش کی، کار تو سٹارٹ نہ ہو سکی مگر بیٹری ڈاؤن ہو گئی۔ اب تو پریشانی اور بڑھ گئی۔

ایک بار پھر باہر نکل کر آنے جانے والی اکا دکا گاڑیوں کو رکنے کے اشارے کیے لیکن کوئی نہ رکا۔ ایسے میں ایک مہران کار آتی دکھائی دی۔ اس بار میں نے کافی زوردار اشارے کیے اور تقریباً سڑک پر آ گیا۔ کار رک گئی۔ کار میں بیٹھے بھاری بھرکم آدمی نے اندر بیٹھے بیٹھے مجھے نظروں سے تولتے ہوئے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ میں نے مسئلہ بتایا۔ وہ کار سے باہر آ گیا۔ میں نے کہا کہ کار بند ہے یا تو تھوڑا دھکا لگا دیں یا ٹو چین کر کے کسی آبادی تک چھوڑ دیں۔

بھاری بھرکم شخص ہنسنے لگا۔ ”بادشاہو یہ مہران ہے آپ کی سوک کو نہیں کھینچ سکتی۔ “ آپ کوشش تو کریں شاید کھینچ لے۔ میں نے پر امید لہجے میں کہا۔ ”مہران آپ کی ہے یا میری ہے؟ مجھے پتہ ہے نہیں کھینچ سکتی۔ “ بھاری بھرکم شخص نے ذرا تیز لہجے میں کہا۔ آپ دھکا ہی لگا دیں۔ میں نے اس کی ناراضی سے ڈرتے ہوئے کہا۔ وہ آمادہ تو ہوا۔ لیکن بد قسمتی سے ایک شخص کے دھکے میں اتنی پاور نہیں تھی کہ کار سٹارٹ ہو پاتی۔

کوئی اور نہ رکا تھا نہ ملا تھا۔ کار کچھ آگے تو بڑھ چکی تھی لیکن سٹارٹ نہ ہو پائی تھی ادھر وہ شخص بھی ہانپنے لگا تھا۔ پھر اچانک کار سٹارٹ ہو گئی۔ میں نے اسے آگے بڑھایا مگر تھوڑی دور جا کر پھر بند ہو گئی۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا۔ وہ بھاری بھرکم شخص جا چکا تھا میں ایک بار پھر مشکل میں تھا۔ لیکن بائیں طرف دیکھا تو وہی چار لڑکیوں والا گھر دکھائی دیا۔ فورا میں کار سے نکلا مجھے خیال آیا شاید ان کے گھر میں کوئی ہو۔ دو بندے مل جائیں تو کار سٹارٹ ہو سکتی ہے۔ میں نے کچے کمرے کے پاس جا کر آواز لگائی۔ ”کوئی ہے؟ “ ان چاروں میں سے ایک باہر نکلی۔ ”تُسی فیر آ گئے ہو“ اس نے حیرت سے پوچھا۔ اس کے پیچھے پیچھے باقی تین بھی آ گئیں۔

میں نے مسئلہ بتایا اور درخواست کی کہ وہ اپنے والد یا بھائی کو بلا دیں۔ تب پتہ چلا کہ بھائی ان کا کوئی تھا نہیں اور باپ لیہ شہر گیا ہُوا تھا اب لوٹنے والا تھا۔ اندر ان کی معذور ماں کے سوا کوئی نہ تھا۔ ایک بار پھر میرا چہرہ بجھ گیا۔ ”آپ پریشان نہ ہوں، آپ کی گاڑی کو ہم چاروں دھکا لگائیں گی۔ “ بڑی لڑکی نے کہا۔ لیکن آپ ؟

”کوئی بات نہیں صاحب! شاید ہمارا باپ بھی کسی مشکل میں ہو، وہ بھی ابھی تک نہیں آیا۔ ہم آپ کی مدد کریں گے تو کوئی وہاں ان کی مدد کرے گا۔ “

ایک سادہ سی لڑکی نے کتنی بڑی بات کی تھی۔ میں اسے دیکھتا رہ گیا۔ چلیں کہاں ہے آپ کی گاڑی؟ اس نے کہا تو میں چونک اٹھا۔ ہاں چلو۔ پھر ان چار لڑکیوں نے میری کارکو دھکا لگایا تو ہلکے سے دھکے کے ساتھ ہی کار سٹارٹ ہو گئی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گیا جب میں لیہ کی حدود میں داخل ہوا تو مجھے سڑک کنارے رکی ہوئی ایک کار دکھائی دی۔ ایک نوجوان رکنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ لڑکی کے الفاظ اب تک میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ میں نے بریک لگا دی۔

Facebook Comments HS