شب آخر کا ساتھی
چاروں سمت پھیلی ہوئی تاریکی کو چیرتی ہوئی چاند کی روشنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ یہ دسمبر کی ایک تاریک اور یخ بستہ رات کا خاموش پہر تھا۔ جب وہ اپنی آرام دہ کرسی پر نیم دراز سگریٹ سلگائے ہوئے کھڑکی سے نظر آتے آدھے چاند کو تک رہا تھا۔ کمرے میں ٹھنڈ، اندھیرا اور سگریٹ کا دھواں مل کر عجیب سا سماں باندھ رہے تھے۔ جبکہ کبھی کبھی کہیں دور سے کچھ آوارہ کتوں کی آوازیں بھی خاموشی میں مخل ہو کر ماحول کو پراسرار بنا رہیں تھیں۔
کمرے کا دروازہ گھر کے صحن میں کھلتا تھا اور صحن کے پار وہ کمرہ تھا جہاں ایک ہستی اپنی زندگی کے آخری ایام شدید تکلیف سے کاٹ رہی تھی۔ جس کی زندگی میں تاریکی نے اپنے قدم بری طرح سے جما لیے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بیتا تھا جب ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ شاید یہ سال اس مرتے ہوئے انسان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہو، اس کے پھیپھڑوں کا سرطان اپنے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے اور مرض کا علاج اب ممکن نہیں۔ کمرے میں پڑی ہوئی وہ زندہ لاش جس سے ملنے کوئی غیر تو درکنار کوئی اپنا بھی قریب نہ پھٹکتا۔ کیسے حال میں اسے تنہا چھوڑ گئے! تب جب اسے سب سے زیادہ اپنوں کی ضرورت تھی، تب جب اس کی چاہت یہ ہوتی کہ کوئی اس سے بات کرے، وہ ہنسے، وہ اپنی زندگی کے آخری چند روز خوشگواری سے گزار سکے۔
رات گہری، سرد اور مزید تاریک ہوگئی تھی۔ اسی دوران ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا تیزی سے کھڑکی سے داخل ہوا اور بدن کو منجمد کرتا ہوا سیدھا ہڈیوں میں گھس گیا وہیں صحن میں موجود پیپل کے درخت پر موجود پتوں کی سرسراہٹ نے عجیب سا خوف طاری کردیا۔ گھر میں وہ اکیلا تھا اور دوسرا اس کے ساتھ مرتا ہوا وہ انسان، جو چاہ کر بھی اس کے نزدیک نہیں آسکتا تھا۔
نیم دراز آنکھیں موندے وہ آرام دہ کرسی پر آہستہ آہستہ جھولتا جاتا اور اس کے ہاتھ میں موجود سگریٹ جلتا جاتا۔ اپنے خیالات میں گم جانے کتنی ساعتیں گزر گئیں یہاں تک کہ بنا کش بھرے سلگتا سگریٹ بھی بجھ گیا۔ سگریٹ کو تو ویسے بھی بجھ ہی جانا تھا وہ کافی دیر سے سلگ رہا تھا۔ سگریٹ کے بجھتے ہی فضا میں موجود ہلکی سی حرارت نے خود کو موسم کے حوالے کر دیا اور کمرے میں اٹھکیلیاں بھرتی خنک ہوائیں اسے منہ چڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں۔
”اگر میں بھی اس مرتے ہوئے انسان کو اس کال کوٹھڑی میں چھوڑ جاؤں تو کیسا رہے گا؟ “
ایک خیال سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں
”اسکے اپنے بھی تو اسے ایسے حال میں تنہا چھوڑ گئے ہیں تو بھلا میں کیوں اس کے مرنے تک اس کا ساتھ دوں۔ اس کے بیمار و بدبو دار وجود کو سہتا رہوں۔ “
دوسرے خیال نے پہلے خیال کی تائید میں اسے اور اکسایا۔
اس سے پہلے کے مزید خیالات بلاؤں کی صورت اس کے آگے پیچھے رقص کرنا شروع کردیتے اس نے فوراً اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی جس میں اب آخری سگریٹ ہی رہ گیا تھا اس نے فوراً سلگا لیا۔ تمباکو کی تیز خوشبو نے اسے چاروں طرف گھیرے میں لے لیا، سگریٹ ایک بار پھر سلگ رہا تھا۔
اس نے اپنے منجمد جسم کو جنبش دی اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر دوسرے ہی لمحے درد کی ایک شدید لہر اس کی رگ و پے میں دوڑ گئی اور وہ واپس آرام دہ کرسی پر گر پڑا اس کے پاؤں ٹھنڈ سے اکڑ چکے تھے اور پاؤں کی انگلیاں بری طرح سے سن ہوگئیں تھیں۔ وہ چاہ کر بھی اس گھر سے بھاگنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ وہ جان گیا تھا اسے اس مرتے ہوئے انسان کے مرنے تک اس کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا اور یہ احساس اسے بری طرح سے ڈس رہا تھا۔ وہ کیوں کسی مرتے ہوئے انسان کو دیکھے۔ وہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ یہاں سے اس آسیب زدہ گھر سے بھاگ جانا چاہتا تھا مگر بھاگ بھی نہیں پا رہا تھا۔ چاروں سمت بے بسی، بے چینی اور اضطراب نے اسے آگھیرا تھا۔
سگریٹ جلتے جلتے اپنے آخری حصے میں پہنچا تو اس نے آخری کش بھرا اور سگریٹ بجھ گیا ”سگریٹ کا آخری مرغولا ہوا میں بلند ہوا اور کچھ ہی لمحوں میں معدُوم ہوگیا۔ اسے اپنی سانسیں کچھ بے ربط سی معلوم ہو رہیں تھیں۔
”انسان صرف مرنے تک ہی زندہ رہتا ہے“ اِس نے کہا۔
”تم عجیب باتیں کرتے ہو۔ انسان مرنے تک ہی تو زندہ رہتا ہے“ ؛ وہ بہت متذبذب تھی۔
”نہیں کچھ انسان اپنی موت سے پہلے ہی مر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں“۔ اس نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا
”تم ایسا نہ سوچا کرو“ شاید وہ اس کی بات سے پریشان ہوگئی تھی۔
”مجھے لگتا ہے میں موت سے پہلے ہی مر جاؤں گا، لیکن مر نہیں پاؤں گا، مجھے مرنے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں یہ بات جانتا ہوں کہ مرنے سے پہلے میں خود سے بھاگنے کی ایک بار ضرور کوشش کروں گا۔ میں خود کو مرتا ہوا نہیں دیکھ پاؤں گا، کبھی نہیں“۔
پرانی باتیں رہ رہ کر اس کے کانوں میں گونج رہیں تھیں اور وہ بے حس و حرکت اپنی آرام دہ کرسی پر جھولے جاتا تھا۔
کمرے کے چاروں سمت پھیلی ہوئی تاریکی اب چھٹ چکی تھی۔ رات بھر خود سے اور ماضی کی تلخ یادوں سے اکیلے جنگ لڑتے لڑتے وہ کب سویا اسے علم ہی نہ ہوسکا۔ شاید اسے اب یہ بات جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہ رہی تھی۔ کیونکہ رات بھر خود سے جنگ لڑنے والا انسان آخر کار اپنے بیمار جسم کی قید سے آزاد ہوچکا تھا صرف اس کا ٹھنڈا وجود اپنی آرام دہ کرسی پر اسی طرح سے نیم دراز تھا اور ٹھنڈا سگریٹ ویسے ہی انگلیوں کی گرفت میں۔


