پاکستان ریلوے فوڈ اتھارٹی قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے
پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک طورخم سے کراچی اور تافتان تک تقریبا 4,800 میل یعنٗی 7,791 کلومیٹر پر محیط ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 80 ہزار سے زیادہ ملازمین والے پاکستان ریلوے کی میل، ایکسپریس اور پسنجر ٹرینوں میں ہر سال 60 لاکھ سے زیادہ مسافر سفر کرتے ہیں اس طرح روزانہ تقریبا 30، 35 ہزار مسافروں کے کھانے پینے کا انتظام، ایک بہت بڑا نظام ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔
ریلوے اسٹیشنوں پر لگے اسٹالوں پر کھانے کا معیار کیا ہے؟ کھانا باسی ہے یا تازہ ہے، جوسز یا کولڈ ڈرنک اصلی ہیں کہ نقلی ہیں؟ اس پے تاریخِ میعاد ہے کہ نہیں؟ سفر میں سب سے زیادہ چائے استعمال ہوتی ہے، اس کا معیار کیا ہے؟ اسٹال والوں کا مسافروں سے رویہ اچھا ہے یا برا، یہ مسافروں سے قیمت جائز وصول کرتے ہیں کہ نہیں؟ ساتھ ہی ٹرینوں کے اندر ڈائننگ کار کے کھانے کا معیار، کھانے میں استعمال ہونے والو اشیاء کے تازہ ہونے کی چیکنگ، قیمت جائز وصول کرتے ہیں کہ نہیں، یہ سب انتہائی اہم کام ہیں جن پر پاکستان ریلوے خاص کر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
حال ہی میں مجھے ایک تجربہ حیدر آباد ریلوے اسٹیشن پر ہوا۔ میں نے ٹرین سے اتر کر پلیٹ فارم نمبر ایک پر قائم ایک اسٹال سے پیپسی کولا کی ہاف لیٹر بوتل خریدنا چاہی تو اسٹال والے نے جو بوتل مجھے پکڑائی اس کی پیکنگ و لیبل پرانی تھے اور مجھے معلوم تھا کہ کمپنی مختلف وقتوں پر پیکنگ میں تبدیلی کرتی رہتی ہے، میں نے اسٹال والے کہ کہا یہ تو پرانی پیکنگ ہے، اس نے انتہائی بد تمیزی سے کہا لینا ہے تو لو ورنہ چلتے بنو۔
( اسٹیشنوں پر تقریبا ہر اسٹال والے کا مسافروں کے ساتھ سے رویہ بدمعاشوں والا ہی ہوتا ہے ) میں نے کہا اس پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ دکھاؤ؟ اس نے جلدی میں تاریخ دکھاتے ہوئے کہا، 2019 میں ختم ہے، میں نے بھی جلدی میں دیکھا 2019 ہی لکھا تھا، ٹرین چل پڑی تھی، اس لئے تیزی سے اس کو پیسے دیے اور ٹرین میں جب آکر دیکھا تو بوتل کی میعاد ختم ہونے میں صرف دس دن باقی تھے اور اس پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ 01، 01، 2019 لکھی تھی، جب کے اس دن 23 دسمبر 2018 کا دن تھا۔
بیشک اس بوتل کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ ابھی دس دن باقی تھے، مگر مجھے پتہ ہے کی پیپسی کولا اور سوفٹ ڈرنک کی دیگر کمپنیاں کمپنیوں کی پالیسی ہوتی ہے کہ سوفٹ ڈرنک کی تاریخ میعاد ختم ہونے میں تین مہینے ہوتے ہیں تو پرا نا مال اسٹاک سے اٹھا لیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا مال فراہم کیا جاتا ہے، میں نے امریکا میں اسٹورز پر کام کیا ہے یہ ہی طریقہ لاگو تھا اور یہ ہی پالیسی ان کمپنیوں کی پوری دنیا میں ہوتی ہے۔ مطلب صاف ظاہر ہے، نقلی، زائد المیعاد اشیا، مسافروں کو بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنی من چاہی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔
ایک اور تجربہ مجھے ساہیوال اسٹیشن پر ہوا، میں نے ٹرین سے منسلک ڈائنگ کار سے کھانا منگوایا۔ ویٹرکھانا دے کر چلا گیا۔ مزید ایک روٹی کی ضرورت پڑی تو ویٹر کا انتظار کرنے کے بجائے سوچا پلیٹ فارم سے لے لیتا ہوں، ایک اسٹال پر بورڈ پر نان کی قیمت 15 روپے لکھی تھی، میں نے اسٹال والے سے دو نان مانگے، اس نے کہا نان خالی نہیں ملیں گے اس کے ساتھ سالن یا کباب لینا پڑیں گے۔ میں نے اس کو کہا بھی کہ بورڈ پر خالی نان کی قیمت لکھی ہوئی ہے مگر اس نے نان نہیں دیے اور ایسا رویہ دکھایا کہ جیسے شہر کا سب سے بڑا غنڈہ ہو۔ اب مسافر چھوٹتی ہوئی ٹرین پکڑیں یا ان بدمعاشوں سے الجھیں؟
اس لئے پاکستان ریلوے کے اندر ہی ُپاکستان ریلوے فوڈ اتھارٹی قائم کرنے کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے زیادہ لمبے چوڑے بجٹ کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ پاکستان ریلوے کے چھ ڈویزن ہیں ان کے ہیڈ کواٹرز میں ایک کمرے کے آفس اور ہر ڈویزن میں دس افراد پر مشتمل عملہ کافی ہے جو اپنے اپنے ڈویزن میں اسٹیشنوں پر، ٹرینوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا معیار چیک کریں۔ چھاپے ماریں، مسافروں کے ساتھ اسٹال والوں کے رویہ کو چیک کریں، بڑے اسٹیشنوں پر سلیپر کلاس، بزنس کلاس میں پلیٹ فارم کے اسٹال والے آکر کس طرح بے وقت آکر مسافروں کو تنگ کرتے ہیں خاص کر لاہور اسٹیشن پر، اس کو چیک کریں۔
مجھے معلوم ہے کہ پلیٹ فارم پر قائم اسٹال کو چیک کرنے کا پاکستان ریلوے میں ایک نظام موجود ہے مگر وہ اب ناکارہ ہو چکا ہے، مسافروں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے ہر چیز میں جدت آ گئی ہے اس لئے پاکستان ریلوے فوڈ اتھارٹی قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی اتھارٹی کے ماتحت کھانے پینے سے متعلق ہر شکائت سننے کے لئے ایک مرکزی شکائت سینٹر بھی ہونا چاہیے تا کہ ریلوے فوڈ اتھارٹی کے ڈویزنس کے کام کو چیک میں رکھا جا سکے اور مسافر ای میل، فون اور واٹس اپ پر شکائت کر سکیں۔
آخر میں ایک اور اہم ترین مسئلہ ریلوے حکام اوروفاقی وزیر شیخ رشید صاحب اور دیگرریلوے حکام کی توجہ کا منتظر ہے کہ، اگر کوئی مسافر، ٹکٹ بک کرتا ہے اور اس کا ٹکٹ گم ہو جاتا ہے تو اس کے پیسے، بکنک سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، کم از کم ہمیں ایسا ہی بتایا ہے لوکل ریلوے ذمے داران نے۔ اس لئے ریلوے حکام اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں اورٹکٹ گم ہو نے کی صورت میں کوئی فیس لے کر ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری کرنے کا نظام بنایا جائے۔


