شادی شدہ زندگی کو کیسے خوشگوار بنائیں


گرین زون فلسفے کے مطابق انسانوں کی طرح انسانی رشتے بھی گرین ’ییلو اور ریڈ زون میں رہتے ہیں۔ میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے تمام رشتوں کی ایک فہرست بنائیں۔ اس فہرست میں اپنے دوست‘ رشتہ دار ’رفیقِ کار اور ہمسایے سب کو شامل کریں اور پھر خود سے پوچھیں کہ کون سا رشتہ کس زون میں ہے۔
جو رشتے محبت بھرے ہیں ان سے مل کر ہمیں خوشی ہوتی ہے ’مسرت ہوتی ہے‘ دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں سے بار بار ملنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ رشتے گرین زون میں رہتے ہیں۔

جن لوگوں سے مل کر ہم فکرمند ہو جاتے ہیں پریشان ہو جاتے ہیں اداس ہو جاتے ہیں جو طنز کرتے ہیں ہمیشہ شکایتیں کرتے رہتے ہیں وہ رشتے ییلو زون میں رہتے ہیں۔ احمد فراز ایسے ییلو زون لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں
؎ رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے۔
۔ ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں
اور جن رشتوں سے ہمیں غصہ ’نفرت‘ تلخی اور حسد کی بو آتی ہے وہ رشتے ریڈ زون میں رہتے ہیں۔

میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے گرین زون رشتوں کا شکریہ ادا کریں اور ان لوگوں کو بتائیں کہ ایسے گرین زون لوگوں کی وجہ سے ان کی زندگی میں محبت پیار اور سکون موجود ہے۔
میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ریڈ زون رشتوں سے فاصلہ رکھیں کیونکہ وہ ان کی زندگی میں مسائل لے کر آتے ہیں اور ان کے شب و روز کو ناخوشگوار بناتے ہیں۔

ہم اپنے کلینک مین شادی شدہ جوڑوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ہم انہیں دو مشورے دیتے ہیں۔
پہلا مشورہ یہ ہے کہ آپ ہر ہفتے میں سے ایک دن تفریح کے لیے گھر سے باہر جائیں۔ چاہے وہ سیر کے لیے کسی پارک میں ہو آئس کریم کھانے جائیں فلم دیکھنے جائیں یا کسی رسٹورانٹ میں لنچ یا ڈنر کھانے جائیں۔ اس ملاقات میں مسائل پر تبادلہِ خیال کرنے کی بجائے محبت اور پیار بھری باتیں کریں تا کہ رشتے میں خوشی کی لہر دوڑ جائے۔

دوسرا مشورہ یہ کہ ہفتے میں ایک دن ایک میٹنگ رکھیں جس میں پچھلے ہفتے کے مسائل ڈسکس کریں اور اگلے ہفتے کا پلین بنائیں۔ ایسا کرنے سے گرین زون میں زیادہ وقت گزارا جا سکتا ہے۔ اس سے ازدواجی زندگی بہتر ہوتی ہے۔

ہم جوڑوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گھر میں ایک ڈائری رکھیں اور اس میں وہ باتیں لکھیں جو وہ ہفتہ وار میٹنگ میں ڈسکس کرنا چاہتے ہیں۔
گرین زون ففلسفے پر عمل کرتے ہوتے جوڑے آہستہ آہستہ زیادہ وقت گرین زون میں گزارنے لگتے ہیں اور ان کی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔
ہم اپنے کلینک میں جوڑوں کی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ اپنے مسائل کا تسلی بخش حل تلاش کر سکیں اور اپنے تعلقات کر ریڈ زون سے واپس گرین زون میں لا سکیں۔

اس کی ایک مثال میری کنیڈین مریضہ کیرن (فرضی نام) اور اس کا پاکستانی شوہر جنید (فرضی نام) کا تضاد تھا۔ کیرن نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ گرین زون میں رہ رہی تھی کہ ایک دن اس کے شوہر نے دفتر سے فون کر کے بتایا کہ اس کے والدین پاکستان سے آ رہے ہیں۔ وہ ان کے پاس ٹورانٹو میں دو ہفتے رہیں گے اور پھر اپنی بیٹی شبانہ سے ملنے وین کوور چلے جائیں گے۔

یہ خبر سن کر کیرن ریڈ زون میں چلی گئی۔ اسے احساس ہوا کہ نہ صرف اسے ان کے لیے کھانا پکانا پڑے گا بلکہ ان کی سیر کے لیے انہیں نیاگرا فالز ’سی این ٹاور دکھانا پڑے گا اور تھاؤزیند آئلینڈ بھی لے جانا پڑے گا۔ اس کی مدد کرنے کے لیے میں نے کیرن اور جنید کو ایک انٹرویو کے لیے بلایا۔ تبادلہِ خیال کرنے کے بعد میں نے جنید کو مشورہ دیا کہ وہ دو ہفتوں کی دفتر سے چھٹی لے اور جب تک اس کے والدین ان کے ہاں رہیں وہ کیرن کی مدد کرے اور وہ خود انہیں سیر کے لیے لے کر جائے۔ جنید نے میرا مشورہ مان لیا۔ اور کیرن دوبارہ گرین زون میں آ گئی۔

مخلوط شادیوں کے مسائل ایک ہی کلچر کے جوڑوں سے مختلف ہوتے ہین اور انہیں خاص رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی رشتے ذہنی صحت کے لیے کتنے اہم ہیں۔ جس قدر ہمارے رشتے گرین زون میں ہوں اسی قدر ہم گرین زون میں زیادہ وقت گزار سکیں گے۔

میرے ایک دوست ہیں جو خود تو گرین زون میں رہتے ہیں لیکن وہ وہ اپنے جس سسرال کے ساتھ رہتے ہیں وہ سارا خاندان ریڈ زون میں رہتا ہے۔ ایک دن میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں آپ کو آپ کے گھر میں ملنے کی بجائے کسی چائے خانے یا رسٹورانٹ میں ملا کروں گا۔ وہ میری بات سمجھ گئے اور اب ہم ایک رسٹورانٹ میں ملتے ہیں۔ اس طرح میں اپنی دوستی کو ریڈ زون سے گرین زون میں لے آیا۔

گرین زون فلسفے پر عمل کرتے ہوئے بہت سے لوگوں نے گرین زون رشتے بنانے اور نبھانے کا فن سیکھا ہے۔ میرا ایک شعر ہے
؎ آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے
جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے
۔ ۔ ۔ ( باقی آئندہ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 183 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail