غربت، جہالت، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد اور عمران خان
سال نو پر وزیراعظم جناب عمران خان نے پاکستان سے غربت، جہالت، نانصافی اور کرپشن کے خاتم ے کے لئے جہاد کا اعلان کیا ہے۔ یہ برائیاں پاکستان کی جڑوں میں اس قدر سرائت کر چکی ہیں کہ ان کا تدارک بہت مشکل ہو چکا ہے۔
2018 پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے خوش قسمتی کا سال ثابت ہوا کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو جو سبز باغ دکھائے تھے وہ عوام کی آرزوں کے خون سے سرخ ہو چکے ہیں۔ آپ بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل 60 ڈالر فی بیرل ہے تو عوام کو جس ریٹ پر تیل بیچا جا رہا ہے اس سے نواز شریف تیس روپے فی لیٹر اپنی جیب میں ڈال رہا ہے۔ آپ نے مہنگی بجلی کا بل دینے سے انکار کرتے ہوئے بجلی کے بلوں کو آگ لگا دی۔
آج عالمی منڈی میں تیل تاریخ کی کم ترین سطح پر آچکا ہے لیکں عوام مہنگا ترین تیل خریدنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی حکومت کے ارسطو اب منظر نامے سے غائب ہیں اور آپ کی شعلہ بیانیاں بھی اندھیری رات کے مسافر کی طرح ڈگمگاتی پھرتی ہیں۔ بجلی اور گیس روائیتی محبوبہ کا روپ دھار چکی ہیں۔ خاص طور پر گیس جو کبھی کبھار چوری چھپے آتی ہے۔ رقیبوں نے کمپریسر لگا لئے ہیں۔ غریب اور آپ کے ساتھی ایماندار کا چولہا جلنے سے انکاری ہے۔ بازار کی روٹی کھا لیں تو ہسپتال جانا پڑتا ہے وہاں دوائیاں نایاب ہیں اور ڈاکٹر لڈو کھیل رہے ہیں۔ سوئی گیس کے دفتر احتجاج کرنے چلے جائیں تو پولیس آڑے ہاتھوں لیتی ہے۔ ڈی چوک پر کنٹینر بھی نہیں لگا ہوا جہاں جاکر دل جلالیں کہ دل جلے گا تو روشنی ہو گی۔
گزشتہ مہینوں میں جس طرح بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے ماضی میں اس کی مثال محال ہے۔ رئیل سٹیٹ میں شدید مندی کا رحجان ہے۔ یوں تو رئیل سٹیٹ کے بے تاج بادشاہ اور حکومتوں کو روز گار دینے والے ملک ریاض بھی بے روزگار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مزدوروں اور رئیل سٹیٹ سے جڑے دیگر افراد کی بے روزگاری امر ہے۔ وجہ ایف بی آر اور نیب کی بڑھتی کارروائیاں، شرح سود میں اضافہ اور روپے کی قدر میں ہوشربا کمی ہے۔ میڈیا کی صنعت بھی زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ اخبار اور نیوز چینلز سے جڑے افراد کو تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہو رہی ہے۔ سرکاری ملازمیں کا اس مہنگائی میں جینا محال ہو رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ کریش ہو رہی ہے۔ ان حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بیروزگاری کا ایسا سیلاب آئے گا جو حکومت سے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے۔
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے۔
عمران خان جہالت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ان پڑھ کو صوبے کی یونورسٹیوں کا چانسلر لگا رہے ہیں۔ سابق وائس چانسلرز کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں ذلیل کرتے ہیں۔ تعلیم سے وابستہ افراد پولیس کسٹڈی میں جان سے جاتے ہیں۔ انہیں جیل میں مجرم ثابت ہونے سے پہلے جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ مرنے کے بعد بھی ان کی ہتھکڑی نہیں کھولی جاتی۔ اعلی تعلیم یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹرز اور آی ٹی ایکسپرٹ جن کی دنیا عزت کرتی ہے انہیں ذلیل کیا جاتا ہے تو جہالت کیسے ختم ہو گی۔
تعلیم اور صحت کا بجٹ آپ کے دعوں کی مکمل نفی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ آپ دعویٰ کرتے ہیں، آپ جہالت ختم کریں گے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ آپ کے پاس جہالت ختم کرنے کا کوئی پلان دور دور تک نظر نہیں آرہا۔ ملک میں چار طرح کا نصاب تعلیم چل رہا ہے جو یکساں چاروں صوبوں میں موجود ہے۔ آپ نے پانچ سال میں خیبر پختونخواہ میں ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ مدارس میں تعلیم اور ہے۔ سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اپنا نصاب بنائے بیٹھے ہیں۔ کوئی میٹرک کر رہا ہے تو کوئی او لیول۔ یہی طبقاتی کشمکش پوری سوسائٹی پر چھائی ہوئی ہے۔ اس گمبھیر صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ یکساں نصاب تعلیم جو تمام طبقات کی ضرویات اور قوم کے مستقبل کو دیکھ کر بنایا جائے اور اسے نافذ بھی کردیا جائے تو یہ اس قوم پر احسان عظیم ہو گا۔
احتساب اور کرپشن کا خاتمہ عمران خان کا دیا ایسا خوبصورت نعرہ ہے جو عوام کے دل و دماغ کو مسحور کئیے رکھتا ہے۔ اس کی خوشنمائی اور سحر غریب اور بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان کا دماغ بھوکے پیٹ کے باوجود معطّر رہتا ہے۔ وہ اس امید پر زندہ ہے کہ نواز شریف اور زرداری کا احتساب ہو رہا ہے تو کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اس کا مزاج بن گیا ہے کہ گاؤں کے چودھری کو پولیس پکڑ لے تو وہ اندر ہی اندر خوش ہوتا ہے۔ عارضی طور پر یہ خوشی چودھری کے ظلم و ستم پر پردے ڈال دیتی ہے۔
مدینے کی ریاست میں تو احتساب گھر سے شروع ہوتا تھا۔ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وصلم پر عظم تھے کہ اگر آپ کی پیاری بیٹی جنت میں عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ ؑبھی چوری کرتی پائی جائیں تو ان کے ہاتھ کاٹنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ خلیفہ عمر بن خطابؓ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے درے مارتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی بہن پر منی لنڈرنگ اور ٹیکس چوری کا الزام ہے۔ آپ کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ آپ نے خود اپنے گھر کا جعلی نقشہ سپریم کورٹ میں جمع کرایا ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے قاضی نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں۔
وہ نقشہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ وہ جعلی ہے۔ وہ کمپیوٹر سے نکلا ہوا ہے جبکہ جس تاریخ کو نکلا تھا اس وقت یونئین کونسل میں کمپیوٹر آیا ہی نہیں تھا۔ سیکرٹری یونین کونسل عدالت میں شور مچا رہا ہے، قسمیں کھارہا ہے کہ نقشے پر میرے جعلی دستخط ہیں لیکن آپ کے قاضی کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔ مریم نواز کے کلیبری فونٹ کی اصلیت کا دستاویز پیش ہونے سے پہلے ہی آپ کے قاضی کو پتہ ہوتا ہے۔ آپ خود بھی اس جعلسازی کا شور مچاتے ہیں۔ اپنی جعلی دستاویز کو آپ مقدس کہتے ہیں۔ ہزاروں غریبوں کے گھر مسمار کرکے سو روزہ کارکردگی بناتے ہیں جبکہ بنی گالا پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
آپ انصاف کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کی تو جماعت کا نام ہی تحریک انصاف ہے۔ انصاف کا قیام آپ کے منشور کا حصہ ہے۔ لیکن آپ کے حصے کا کام چیف جسٹس نے سنبھالا ہوا ہے۔ وہ تو صوبوں کی دہلیز پر جاکر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ ڈیم بنا رہے ہیں ہسپتال اور ڈاکٹر سیدھے کررہے ہیں۔ بچوں کی فیسیں کم کروا رہے ہیں۔ قبضہ مافیا سے لڑ نے کے ساتھ ساتھ آپ کا گھر بچا رہے ہیں، آپ کی بہن کی دولت بچا رہے ہیں۔ ملک ریاض جیسے موٹے ملزموں کو قانون کے شکنجے سے بچانے کے لئے آپ کی حکومت کو اربوں روپے لے کر دینے کی کوشش میں مگن ہیں۔
آپ غربت کے خلاف جہاد کی بات کرتے ہیں، کرسکتے ہیں۔ زمان پارک سے بنی گالا تک کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ جہالت ختم کر سکتے ہیں آپ نے خیبر پختونخواہ کے مدرسوں کی مالی معاونت کی ہے جو گواہی دے رہی ہے کہ آپ جہالت کے خلاف ہیں۔ آپ احتساب کرنا چاہتے ہیں لیکن پنجاب اور سندھ کا۔ خیبر پختونخواہ میں احتساب کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ پانچ سال میں آپ نے وہاں اتنا احتساب کیا ہے کہ اب صوبہ کرپشن فری ہو گیا ہے۔ اسی لئے آپ نے احتساب کمیشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ انصاف کے لئے بھی جہاد کریں گے لیکن ابھی آپ کو یہ کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ابھی یہ کام نواز لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی اور بلوچستان کے لوگ کر رہے ہیں۔ آپ کو اس کی ضرورت چند سال بعد پڑیگی۔ ابھی سے ہلکان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔


