زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے


زندگی کو آپ ایک جلیبی یا گول دائرے سے تشبہہ دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کی زندگی جلیبی کی طرح ہے تو آپ کو زندگی میں کئی موڑ اور مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اگر دائرے کی طرح ہے تو پھر کولہو کے بیل کی طرح چلتے جائیں، چلتے جائیں اور بس چلتے جائیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں تھک ہار کر آنا آپ نے اپنے ابتدائی نقطہ پر ہی ہے جہا ں سے یہ زندگی شروع ہوئی تھی۔ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا پہلا سا منا اپنی پیدا کرنے والی ماں سے ہوتا ہے۔

لفظ ماں جب بھی ذہن میں آئے تو پیار کا احساس دیتا ہے، اور ماں کے لئے بھی یہ ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے جب اس کی گود میں اس کے جسم کا حصہ ایک نئی زندگی اور رعنائیاں لیے اس کے پہلے پیا ر کا منتظر ہوتا ہے۔ ہر انسان کی ابتدا ء پیار ہے نفرت تو اسے ہمارا معاشرہ اور یہاں کے لوگ سکھاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ طرح طرح کے لو گ اس معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ کچھ اللہ تعالی پر یقین، خود اعتمادی، پیار و محبت سے بھرپور دوسرے لوگوں کے لیے حوصلے کا باعث ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ہر وقت زندگی سے بے زار، نفرت، حسد اور بغض سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کام زندگی کا صرف منفی پہلو ہی دیکھنا اور دِکھانا ہوتا ہے۔

بعض دفعہ میں سوچتا ہوں کہ شاید ان تمام لوگوں کی موجودگی سے ہی زندگی کا توازن ہے۔ نفرت سے نفرت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر نفرت نہ ہوتی تا تو پھر پیار و محبت کا احساس کیسے ہوتا؟ برائی نہ ہوتی توپھر اچھائی کا احساس کیسے ہوتا؟ موت نہ ہوتی تو تو پھر زندگی اہمیت کا اندازہ کیسے ہوتا؟ اولاد نہ ہوتی تو بے اولادی کے دکھ کا کَرب کا اندازہ کیسے ہوتا؟ دراصل یہ تمام چیزیں زندگی کا حسن ہیں۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان زندگی سے بے زار، خفا، اداس اور پریشان ہو جاتا ہے۔ اسے اپنے روزمرّہ کی معمولات سے اُکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ وہ پُراسائش زندگی جو کہ دوسروں کے لیے ایک خواب ہوتی ہے مگروہ انسان اس سے دور بھاگنا چاہتا ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ کہیں دور بہت ہی دور نِکل جائے اور تنہائی میں جا کر خوب روئے۔ میری اس موضوع پر کئی اعلی تعلیم یافتہ اور بہترین بھرپور زندگی گزارنے والے پروفیسرز، ڈاکٹرز، سرکاری عہدہ دار اور کامیاب کاروباری حضرات سے بات ہوئی ہے۔

ان میں سے اکژیت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ واقعتا کبھی کبھی اِن کا دِل ایسا کرتا ہے کہ زندگی معمولات سے بھاگ جائیں اور کچھ وقت صرف اور صرف اپنے ساتھ گزاریں۔ انسان اپنے اندر کچھ تلاش کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے پیغمبر، مذہبی پیشوا، راہب، بدھا اور اس کے پیروکارتنہائی اور خاموشی کو پسند کرتے تھے تاکہ ان کی اپنے آپ اور اپنے خالق سے ملاقات ہو سکے۔ بقول مرزا غالب ؂

دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دِن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے

لیکن اس بھاگتی اور تیزی سے گزرتی ہوئی زندگی میں کسی موڑ پر کوئی انسان ایسا بھی مِل جاتا ہے کہا آپ کو زندگی حَسین لگنے لگتی ہے۔ زندگی با معنی اور لطیف ہو جاتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو بہت اہم اور ہلکا پھلکا سا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بھرپور زندگی گزارنے کو دِل کرتا ہے۔ زندگی سے جڑی ہر چیز پیاری لگنے لگتی ہے اور زندگی کا کٹھن سے کٹھن سفر بھی راحت دینے لگتا ہے۔ دِل کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ سفر طویل سے طویل ہو جائے اور کبھی ختم نہ ہو۔ یہ انسان کے اندر کی تبدیلی ہے جو اسے زندہ رہنے کے احساس کے ساتھ زندگی اور زندگی سے جڑی ہر شے سے پیار سکھاتی ہے۔ سرور بارہ بنکوّی نے ایک با ر کہا تھا ؂

جن سے مِل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

جب کبھی زندگی کے سفر میں آپ کو ایسے حالات کا سا منا ہو تو آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کے لیے جنگلوں، ویرانوں، پہاڑوں یا ریگستانوں میں نِکل جاؤ۔ اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی ایسا اِنسان تلاش کرو جس سے ملنے کے بعد آپ کو زندگی سے پیار ہو جائے۔

مستنصر حسین تاڑر کہا تھا : محبت تو پتوں کی سائیں سائیں کی طرح ہوتی ہے، نہ دِکھائی دیتی ہے، نہ پکڑ میں آتی ہے بس اپنے حصار میں کے لیتی ہے۔

غلام نبی حکیم کی غزل کا ایک شعر ہے ؂
زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے
ورنہ بے کیف سی بے تاب و تواں ہوتی ہے

Facebook Comments HS