لیویز :پہلی صف کے سپاہی، آخری درجے کے شہید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک کے شہید بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہیں۔ پولیس/ آرمی کے شہیدوں کو پہلے درجے جبکہ قبائلی علاقوں میں تعینات لیویز کے شہداء کودوسرے درجے میں رکھا جاتا ہیں۔

قبائلی علاقوں میں تعینات لیویز فورسز نے نہایت کٹھن وقت میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ہیں۔ جب قبائلی علاقے طالبان کے زیر تسلط تھے تو یہی لیویز اہلکار تھے جنہوں نے ان کے خلاف پہلا مورچہ سنبھالا اور یہی جوان اور افسران تھے جو ان کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑکر مرنے والا ہر شہید اس قوم کا ہیرو ہے لیکن لیویز کے شہید اس لحاظ سے منفرد مقام کے حامل ہیں کہ یہ اس میدان جنگ میں کھڑے تھے جہاں یہ جنگ شروع ہوئی اور جہاں یہ عملی طور پر لڑی جارہی تھی۔

طالبان کی ٹاپ لیڈرشپ قبائلی علاقوں سے تھی جس کا مطلب تھا کہ لیویز کا مقابلہ طالبان کے ٹاپ لیڈرشپ سے تھا۔ طالب اور لیویز اہلکار کا ایک ہی علاقے اور گاؤں سے تعلق کی وجہ سے ان کے لئے ادائیگی فرض ایک مشکل کام تھا۔ آپ لیویز میں ہو اور آپ کا ہمسایہ طالبان سے، تو آپ کسی بھی وقت نشانہ بن سکتے تھے۔ یہ ہٹ لسٹ پر ہوتے تھے۔ ان کو دھمکایا جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہ کھڑے رہے۔ نا صرف کھڑے رہے بلکہ لڑے بھی اور لڑ کر شہید بھی ہوتے رہے۔

لیویز کے اس منفرد کردار کی وجہ سے یہ منفرد اور خاص سلوک کے حق دار تھے۔ یا کم از کم پولیس اور آرمی کے شہداء کے مساوی سلوک کے مستحق تو تھے ہی۔ لیکن ملک میں موجود طبقاتی تقسیم ان شہداء پر بھی لاگو کیا گیا ہے۔ ان کو برابر کے ”شہید“ تصور نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک ہی ملک ہے جس کے لئے پولیس، آرمی اور لیویز ایک ہی دشمن کے خلاف ایک ہی جنگ میں، ایک ہی طرح لڑے۔ لیکن شہید ہوکر ان کی درجہ بندی کی گئی۔ حیران کن طور پر پہلی صف کے سپاہی آخری درجے کے شہید بن گئے۔

شہیدوں کی یونیفارم اور علاقے کی بنیاد پر درجہ بندی شرم ناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ حیرت کا مقام ہے کہ قانون کے مطابق لیویز کے شہید کا مرتبہ پولیس/ آرمی کے شہید سے کم تر ہے۔ باقاعدہ قوانین کے ذریعے پولیس/ آرمی کے شہداء کے لئے اعزازات/ مراعات کی پروٹیکشن دی گئی ہے۔ لیویز کے لئے نہ تو ایسا کوئی قانون ہے نہ ان کو یہ پروٹیکشن دی گئی ہے۔ ملک ایک، جنگ ایک، دشمن ایک، رینک ایک، عہدہ ایک لیکن مرتبہ اور قانون جدا جدا۔ لیکن بہت سوں کے لئے یہ شاید کوئی ایشو ہی نہیں۔ کیونکہ طبقاتی تقسیم کے شکار ملک میں جہاں کوئی زندوں کے لئے نہیں بولتا، وہاں مرے ہووں کے لئے کون بولے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •