جھوٹوں کی منڈی


حکومت کے لچھن آہستہ آہستہ یہ راز فاش کرتے جا رہے ہیں کہ ”ایماندار حکومت“ کے پلے بھی ”بے ایمانی“ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عبدالرزاق داؤد جو کہ حکومت کے اہم ترین وزیر ہیں ان کے بیٹے کی کمپنی ”ڈیسکون“ کو مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیاجانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق داؤد نے کابینہ میں شمولیت سے پہلے کاروبار چھوڑ دیا تھا۔

اگر حکومت کے اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر میاں نواز شریف سے بڑا بے گناہ سیاستدان کوئی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کاروبار اور سیاست کو خاندان کے دو حصوں میں کئی سال پہلے تقسیم کر دیا تھا۔ اس اصول تقسیم کے تحت حسن نواز اور حسین نواز لندن میں ہر طرح کے ”کاروباری“ امور کے نگران ہیں جبکہ محترمہ مریم نواز کو سیاسی امور کا نگران بنایا گیا تھا۔ وفاقی وزیر کامرس عبدالرزاق داؤد نے بھی ”کاروبار حکومت“ میں شامل ہونے سے پہلے ذاتی کاروبار اپنے بیٹے کے سپرد کر دیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عبدالرزاق داؤد نے تمام وزارتوں اور صوبوں کو یہ ہدایات جاری کر دی ہوں کہ میرے بیٹے کی کمپنی کو اس وقت تک کوئی ٹھیکہ نہ دیاجائے جب تک میں وفاقی وزیر ہوں یا حکومت کے کسی دیگر اہم عہدے پر فائز رہوں!

اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً وقت کے ولی ہوتے مگر منہ کو لگی چھوڑنا بہت بڑا کام ہے اور یہ کام ہمارے ہاں اب تقریباً ناپید ہی ہو چلا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالرزاق داؤد کے بیٹے کی کمپنی کو ملنے والے ٹھیکے نے تحریک انصاف کے اندر بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور عمران خان کے ”اصول ایمانداری“ کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا بھی مسلسل ”اتھرے پن“ کے سرعام مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کی ایماندار ترین حکومت ہے اس لئے انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں پبلک اکاؤنٹس میں بلاوے کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں ہوں کہ ایک مجرم کے سامنے پیش ہو جاؤں۔ آبی وسائل کے وفاقی وزیر نے مزید حد سے نکلتے ہوئے بزرگ صحافی کو بھی دھمکایا۔

فیصل واوڈا کے اس رویئے سے حکومت کی نیک نامی سے زیادہ بدنامی ہوئی ہے کیونکہ آبی وسائل کے وفاقی وزیر کو تو ٹھنڈے مزاج کے ساتھ گفتگو کرنی چاہیے کیونکہ عوام کو یقین ہے کہ قوم کے آبی وسائل اتنے بھی کم نہیں ہوئے کہ آبی وسائل کے وزیر کو پینے کے لئے پانی بھی میسر نہ ہو۔ فیصل واوڈا کے چہرے سے نہ تو ان میں پانی کی کمی کے اثرات پائے جاتے ہیں اور نہ ہی خون کی کمی نے ان کا رنگ پیلا کیا ہوا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ موصوف کے اندر گریبان میں جھانکنے اور خود احتسابی کے حوصلے کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

جہاں تک معاملہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین میاں شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ اپنی ”فرشتہ صفتی“ کی وجہ سے ان کے سامنے پیش ہونا توہین خیال کرتے ہیں تو فیصل واوڈا کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس پارلیمنٹ نے انہیں رکن اسمبلی بنایا ہے اسی پارلیمنٹ نے میاں شہباز شریف کو یہ اہم عہدہ دیا ہے۔

تحریک انصاف اگرچہ الیکشن میں کامیابی کے بعد ”بظاہر فرشتے“ اسمبلی میں لے کر آئی ہے لیکن ان فرشتوں کے اعمال بتا رہے ہیں کہ وہ پہلے سے ایوانوں میں موجود انسانوں کی طرح ہی گناہگار ہیں اس لئے نام نہاد ایمانداری پر اترانے کی بجائے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو تحمل اور برداشت کی کلاسیں لینا چاہئیں۔

ویسے بھی ہمارے آئین نے صرف میاں شہباز شریف کو ہی صرف یہ سہولت فراہم نہیں کی کہ وہ اتنے اہم عہدے پر کرپشن کے الزامات کی گٹھڑی سر پر رکھ کر بیٹھ جائیں بلکہ ہمارے آئین نے یہ سہولت کاری اعلٰی ترین عدالتوں کے جج صاحبان کو بھی ہر دور میں فراہم کی ہے۔ ماضی قریب میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کرپشن کے ثبوتوں سے بھری فائلیں سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس تھیں لیکن انہوں نے پارلیمنٹ سمیت پورے ملک کو آگے لگا رکھا تھا۔

ابھی حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کے خلاف ریفرنس بھی ان کی ریٹائرمنٹ قریب آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل میں موجود تھا اور تمام وکلاء اور سیاستدان بہت عاجزی کے ساتھ ان کی عدالت میں انصاف کی امید لگائے پیش ہوتے تھے۔ مزید برآں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے متنازعہ گفتگو کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اختیارات سے تجاوز اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خصوصی احکامات پر سرکاری رہائش گاہ لینے کا الزام تھا اور تمام تر ثبوتوں کے ساتھ فائل سپریم جوڈیشل کونسل میں موجود تھی لیکن ان کا اس وقت کوئی بال بیکا نہیں کر سکا تھا جب تک وہ قومی سلامتی کے اداروں پر ہی نہیں چڑھ دوڑے تھے۔

اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت سے لوگوں کی ضمانتیں بھی ہوتی رہیں اور منسوخ بھی ہوتی رہیں لیکن کسی بھی وکیل یا شہری نے یہ آواز بلند نہیں کی کہ ہم کسی ”داغدار“ جج کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ یہی حال موجود سپریم کورٹ کا بھی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواستیں دی گئی ہیں لیکن پوری حکومت سمیت تمام وکلاء برادری اور محکمے ”حکام بجا لانے کے لئے جناب چیف جسٹس کے اشارہء ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔

لہذا وزیر اعظم عمران خان کی ”ایماندار“ کابینہ نے اب تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو کہ گزشتہ دور حکومت میں نہیں ہوا کرتا تھا۔ سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی سے لے کر وفاقی وزیر عبدالرزاق داؤد اور پھر وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا تک نے جو حرکتیں کی ہیں ان سے یقیناتحریک انصاف کے ایماندار راہنما اور کارکن ”چولو بھر آب“ میں ڈوب مرنا ضرور پسند کریں گے۔ ہماری سیاست میں جھوٹ کے جو رنگ اس وقت غالب ہیں انہیں ایک شاعر نے بہت ہی منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ شاعر کا یہ کلام ہماری حکومت اور اپوزیشن دونوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے
سچ بولو!
سرکاری اعلان ہوا ہے
سچ بولو!
گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے
دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو!
گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے
گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 22 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat