دور جدید میں سوشل میڈیا
دور جدید میں سوشل میڈیا ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کی اہمیت سے کو ئی ان کا رنہیں کر سکتا۔ پچھلے چند سالو ں تک سوشل میڈیا کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا استعما ل پو ری دنیا میں پھیلنے لگا۔ اب تو حا لت یہ ہے کہ 2004 میں ایجاد ہو نے والی فیس بک اس قدر مقبو ل ہوئی کہ تھو ڑے سے وقت میں دنیا کے تقریبا دوبلین لو گ اس کے ممبر بن گئے۔ اسی طر ح ٹو ئیٹر استعما ل کرنے والے لو گو ں کی تعداد بھی تین سو انیس ملین ہے۔
ایک طرف جہا ں سوشل میڈیا کے بہت سے فو ائد ہیں تو دوسری جانب نقصا نا ت بھی ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کے استعما ل میں ایک ایسی چیز سامنے آرہی ہے جس کی لو گو ں کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس کو سو شل میڈیا کے مسا ئل یا فو ائد میں شا مل کیا جا ئے۔ اس کا شکا ر ایشا ئی مما لک کے نو جو ان اور خا ص طو ر پر پا کستا نی نو جوا ن ہو رہے ہیں۔ اگر اس پر غو ر کیا جا ئے تو دراصل یہ ایک مسئلہ ہے اور اگر اس مسئلے کی حو صلہ شکنی نہ کی گئی تو معا شرے میں بہت مسا ئل پیدا ہو سکتے ہیں۔
آج کل غیر ملکی لڑکیو ں (بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں ) کی پا کستا نی نو جو انو ں سے فیس بک پر دوستی، پھر پیا رمحبت کا چکر اور اس کے بعد شا دیو ں کی خبریں سا منے آرہی ہیں۔ پھر پا کستا نی میڈیا بھی ان شا دیو ں کو خا ص خبریں بنا کر عوام کے سا منے پیش کر رہا ہے۔ جس میں کو ئی ؛گوری میم ؛ فیس بک کے ذریعے نو جو انو ں کے پیا ر میں گر فتا ر ہو کر سا ت سمندر پا ر سے آکر شا دی رچا لیتی ہے۔ اب سوا ل یہ ہے کہ ان شا دیو ں کا ہمارے معا شرے پر کیسا اثر پڑتا ہے؟ ایسی شا دیا ں کتنی کا میا ب رہتی ہیں اورکیا یہ شا دیا ں وا قعی نیک نیتی سے کی جا تی ہیں؟
ہمارے معا شرے میں شا دی کا مطلب صرف میا ں بیو ی کے تعلقا ت تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ نیا رشتہ دو خا ندا نوں میں بننے والے رشتے کو بھی ظا ہر کر تا ہے۔ اس کے علا وہ ہمارے معا شرے میں روایتی اقدار پا ئی جا تی ہیں جو کہ مغربی قدروں سے بہت مختلف ہیں۔ اب دو با لکل مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورت جو ایک دو سرے کی تہذیب و تمدن، رہین سہن اور بو لی جانے والی زبا نوں سے انجا ن ہو نے کی وجہ سے ان رشتو ں میں پیا ر محبت قا ئم نہیں رہ سکتا۔ جس کی وجہ سے خا ندا ن میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہما ری آبا دی کا 49 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے جبکہ 48 فیصد مرد حضرات ہیں۔ اس کا مطلب خواتین ایک فیصد ہی سہی لیکن تعداد میں مردوں سے ذیا دہ ہیں۔ اب جبکہ ہمارے ہا ں جہیز جیسی لعنت اور دیگر وجو ہا ت کی وجہ سے لڑکیا ں شادیا ں نہ ہو نے کی وجہ سے والدین کے پا س ہی اپنے سر کے بال سفید کروا لیتی ہیں۔ اب اس مسلے نے معاشرے میں اس چیز کو مزید تقویت دے دی ہے۔
پا کستانی نو جوان کا غیر ملکی لڑکیو ں سے اسطر ح سے شادیا ں کرنے کے اقدام کی ایک بڑی وجہ یو رپی ممالک کے گرین کا رڈ کے حصول کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ جن نو جو انوں نے بیرون ملک جاکراپنی زندگیا ں گزارنے کے خواب سجائے ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ وہا ں جا کر پرسکو ن زندگی گزاریں گے، ایسے نو جو ان اس طر یقے سے شادیا ں کر کے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنا چا ہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جا نتے کہ آگے چل کر وہ کن مسائل کا شکا ر ہو سکتے ہیں۔ اب جبکہ اس نئے رشتے کی بنیا د ہی گرین کا رڈ یا کسی لا لچ پر ہو تو ایسے رشتے کے قائم رہنے کی کیا گا رنٹی دی جا سکتی ہے۔


