ٹرمپ عمران خان ملاقات زیادہ دور کی بات نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہمارے وزیراعظم عمران خا ن کی طرح رجائیت پسند ، دبنگ اور یوٹرن کی ماہر شخصیت ہیں۔گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ میں پاکستان کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں۔ یہ ملاقات اب زیادہ دور کی بات نہیں۔

اسی سانس میں ٹرمپ نے امریکا کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست اقدام قراردیا۔انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے استحکام کے لیے روس، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کو کردارادا کرنا چاہیے نہ کہ پانچ ہزار میل دور سے امریکا آکر افغانوں کی مدد کرے۔

سب سے دلچسپ بات صدر ٹرمپ نے یہ کی کہ روس افغانستان میں اس لیے گیا تھا کہ دہشت گرد روس میں داخل ہورہے تھے۔ روس کو افغانستان میں مداخلت کا حق تھا۔اس کا مطلب ہے کہ سابق سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت جائز تھی۔ اگر اس نقطہ نظر کو مان لیا جائے توپھر امریکا او رپاکستان کی لیڈرشپ میں سوویت یونین کے خلاف کی جانے والی مزاحمت کی تاریخ اور پس منظر نئے سرے لکھنا اور بیان کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کی ہی طرح دنیا کے اکثر سیاسی لیڈر تاریخ سے نابلد ہیں۔ افغانستان میں جاری طویل اور ناختم ہونے والی جنگ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو بری طرح تھکا دیا ۔ القاعدہ کے حملوں کا خطرہ ٹلنے سے امریکی رائے عامہ افغانستان میں دلچسپی کھو بیٹھی او راسے قومی وسائل پر بوجھ تصور کرتی ہے۔

چنانچہ صدر بارک اوباما نے سب سے پہلے افغانستان سے افواج نکالنے کا اعلان کیا تھالیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے بھی الیکشن مہم کے دوران یہ وعدہ کیا اور اب وہ ہر صورت میں اس پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ افغانستان سے فوجی انخلا کے پس منظر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ایک سلسلہ چل رہاہے جو قطر اور ابوظہبی سے ہوتا ہوا اسلام آباد تک پھیلا ہوا ہے۔

پاکستان کا روزاوّل سے مطالبہ تھا کہ امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرے ۔چنانچہ پاکستان نہ صرف پوری طرح امریکا کے ساتھ ایک صفحے پر ہے بلکہ طالبان کو مذاکرتی میز پر لانے اور انہیں اس برس جولائی میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ پر آمادہ کرنے کا خواہش مند بھی ہے۔

ماضی میں مذاکراتی عمل کی ناکامی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ پاکستان کو امریکا اور اس کے اتحادی پوری طرح اعتمادمیں نہیں لیتے تھے۔ اس مرتبہ صورت حال بالکل برعکس ہے۔ پاکستان مذاکراتی عمل کا نہ صرف حصہ ہے بلکہ سرگرم شریک کار ہے۔ حالیہ کچھ برسوں سے روس، چین اور ایران نے بھی پاکستانی نقطہ نظر کی اصابت کا ادراک کیا اور طالبان کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔

ماسکو، بیجنگ اور اب تہران میں طالبان کے لیڈروں کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ابوظہبی والے مذاکرات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح کے حکا م کی موجودگی اس امر کی غمازہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اپنا پورا وزن مذاکراتی عمل کے حق میں ڈال چکے ۔

طالبان وفد میں حقانی گروپ کے بھی تین نمائندے شامل تھے۔ یا د رہے کہ حقانی گروپ پہلی بار کسی مذاکراتی عمل کا حصہ بنا ۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ یہ گروپ پاکستان کے ساتھ قریبی روابط رکھتاہے۔طالبان رہنماؤں نے ابوظہبی میں امریکی او رپاکستانی حکام کے ساتھ دل کھول کر باتیں کیں لیکن انہوں نے افغان حکومت کے سرکاری وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

افغان حکومت طالبان کے اس غیر مفاہمانہ رویہ پر سخت شاکی ہے۔ صدر اشرف غنی نے ردعمل میں کابینہ میں امراللہ صالح جیسے طالبان مخالف شخصیات کو شامل کرکے پیغام دیا کہ طالبان کو امریکیوں کے علاوہ خود افغانستان کی منتخب حکومت کے ساتھ بھی مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا ہوگا ۔ ورنہ دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہوجائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے جنگ بندی کیے بغیر امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ۔خاص طور دسمبر میں ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اور مابعد کئی ایک پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری وہ قبول کرچکے ہیں۔انہوں نے امریکا سے مکمل فوجی انخلا اور افغانستان پر فضائی بمباری بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

فضائی بمباری بند کرنے کا مطالبہ کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ محض گزشتہ سال دوہزار کے لگ بھگ افغان شہری امریکی فضائی بمباری سے شہید کیے گئے۔ امریکا کے افغانستا ن سے فوری انخلا کی کوئی بھی علاقائی طاقت حامی نہیں۔ طاقت کا ایک ناقابل عبور خلا پیدا ہوسکتاہے۔

افغان دھڑوں میں کابل پر قبضے یا پھر افغانستا ن کے مختلف حصوں پربالادستی کی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان اور ایران سخت پریشان ہیں۔ وہ بتدریج انخلا چاہتے ہیں تاکہ خانہ جنگی کی کیفیت نہ پیدا ہو۔ پاکستان میں پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجریں آباد ہیں وہ مزید کی مہمان نواز کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں وسعت لانے کی دیر سے ہی سہی لیکن اہمیت سمجھ آگئی۔ پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگانے اور اسے افغانستان کے مستقبل کا لائحہ طے کرتے وقت نظر انداز کرنے کی پالیسی بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

یہ پاکستان ہی ہے جو امریکیوں اور طالبان کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوا۔ یہ پاکستان ہی تھا جو ستر کی دھائی میں امریکا اور چین کے مابین رابطوں کا ذریعہ بناتھا ۔دونوں ملکوں میں سردمہری ختم ہوئی اور رفتہ رفتہ چین اور امریکا کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی۔

ایک بار پھر پاکستان کے طالبان کے ساتھ رابطے امریکا کے کام آئے اور دونوں متحارب قوتیں شیر وشکر ہورہی ہیں۔ امید ہے کہ مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھ گی اور دونوں ممالک مل کر افغانستان کو امن اور سیاسی استحکام کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

امریکا کے درمیان کشیدگی سے پاک اور معمول کے تعلقات پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کٹ کر بھی آپ شان وشوکت کے ساتھ رہ سکتے ہیں لیکن امریکا سے دامن بچاناخاص کر پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔ پاکستان کا محل وقوع ہی ایسا ہے کہ دنیا کی ہر بڑی طاقت اس پر نظریں گاڑے رکھتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 103 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood