مراکش شہر اور جامع الفناء اسکوائر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مملکتِ مراکش شمالی افریقہ کا ایک ملک ہوتے ہوئے بھی افریقی یونین کا رکن نہیں ہے۔ ملک کا مکمل عربی نام ’الملکتہ المغربی‘ ہے جس کا مطلب مغربی سلطنت ہے۔ اردو سمیت کئی زبانوں میں اسے مراکش کہا جاتا ہے جو اس کے سابق دارالحکومت مراکش (شہر) کا نام ہے۔ اس کے علاوہ مملکتِ مراکش کو انگریزی میں موروکّو، فرانسیسی زبان میں مورکو بھی کہا جاتا ہے۔

ظہور اسلام کے بعد 7 ویں صدی میں عرب افواج شمالی افریقہ کو فتح کرتے ہوئے مراکش پہنچیں۔ اس فتح کے بعد مراکش میں اسلامی ثقافت کو مقامی لوگوں نے اپنایا اور ’بربر‘ آبادی کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ مراکش اس وقت افریقہ میں سب سے دولت مند ملک تھا اور بحیرہ روم میں داخلے کے راستے پر قائم ہونے اور اپنے بہترین محل وقوع کے باعث یورپ کے ممالک کی نظر میں آگیا۔ جس کی وجہ سے فرانس اور اسپین نے مملکتِ مراکش پر 1956 تک اپنا قبضہ جمائے رکھا۔ آج بھی ہزاروں افریقی اور دیگر ممالک کے بے روزگار باشندے مملکتِ مراکش پہنچ کر کسی طرح سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اسپین یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جو مملکتِ مراکش سے بالکل قریب ہے۔

میں نے مراکش شہر میں تمام عمارتوں کو ایک رنگ میں رنگا پایا جو کہ شہر کی خوبصورتی کے ساتھ اتحاد کی بھی گواہی دے رہے تھیں۔ اسی لئے مراکش شہر کو ’لال شہر‘ بھی کہتے ہیں لیکن مجھے اس کا رنگ لال کی بجائے ’گہرا گلابی‘ دِکھا۔ چاہے وہ سرکاری عمارت ہو یا نجی رہائشی مکان، سب کے سب گہرے گلابی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔

20 ؍ دسمبر کی صبح ہوٹل سے نکلتے ہی پاس ہی ایک ٹورسٹ ایجنسی واقع ہے جس کے ذریعہ ہم نے جبل الاطلس جانے کا پلان بنایا۔ ٹورسٹ ایجنسی نے ہم سے جبال الاطلس لے جانے کے لئے چھ سو درہم مانگے۔ صبح گیارہ بجے ہم ٹور ایجنسی کی ایک بڑی گاڑی پر سوار ہو کر جبال الاطلس روانہ ہوگئے۔ لگ بھگ نوے منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم جبال الا طلس پہنچ گئے۔ پوری وادی ہرے بھرے درختوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور جگہ جگہ پانی کے جھرنوں کا شور صاف سنائی دے رہا تھا۔ جبال الاطلس کی لمبائی 2,500 کیلو میٹر ہے اور اس کا دامن الجیریا سے لے کر تیونس تک پھیلا ہوا ہے۔ ’توبکال‘ جبال الاطلس کی سب سے اونچی چوٹی ہے جس کی اونچائی 13,671 فٹ ہے اورجو مراکش کے علاقے میں ہے۔

ڈرائیور نے جبال الاطلس کے معروف سٹی فاطمہ پہنچ کر گاڑی پارک کی اور ہمیں قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا جہاں ہماری ملاقات ایک ٹور گائیڈ سے ہوئی۔ اس ٹور گائیڈنے جبال الاطلس کی اونچائی پر لے جانے کے لئے ہم سے 150 درہم مانگے جس میں ہمیں تین اہم پانی کے جھرنوں کو بھی دِکھانا شامل تھا۔ ہم تھوڑی دیرآرام کر کے ٹور گائیڈ کے ہمراہ جبال الاطلس کی چڑھائی پر روانہ ہوئے۔ راستے میں چھوٹی چھوٹی دکانیں جس میں انار اور نارنگی کے شربت کے علاوہ دست کاری کے سامان بک رہے تھے۔

لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم مزید اونچائی پر نہ جا کر واپس ریسٹورنٹ آگئے اور جھرنوں کے قریب ہی لگی ہوئی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ ریسٹورنٹ سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ ویٹر نے کھانے کا آرڈر لیا اور تھوڑی دیر میں مراکش کا معروف کھانا ’طجین‘ میرے سامنے لا کر رکھ دیا۔ طجین مراکش کا ایک اہم پکوان ہے جو بکرے یا مرغ کی گوشت کا ہوتا ہے اور جسے مٹی کے برتن میں پکائے جاتے ہیں۔ ہم نے خوب جم کر کھاناکھایا اور مقامی گیت اور سنگیت کا لطف بھی لیا جسے دو لوگ ہر ٹیبل پر جا کر گا اور بجا رہے تھے۔

جمعہ 21 ؍ دسمبر کو ہوٹل کے پاس ہی ایک مسجد میں نماز ادا کی۔ مراکش کے مساجد کے مینار چوکور ہوتے ہیں جو کہ اپنے آپ میں بالکل منفرد ہے۔ ایک مقامی صاحب نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان میناروں کو تعمیر کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھا گیا کہ مینار کو خانہ کعبہ کی شکل میں بنایا جائے۔ مسجد کے قریب پہنچ کر کئی مرد اور عورتوں کو ہاتھ پھیلائے پیسہ مانگتے دیکھا جو اس بات کی یاد دہانی کرا رہا تھا کہ دنیا بھر کی مساجد کے باہر غرباء کو بھیک مانگتے دیکھنا شاید ایک لازمی بات ہے۔ ایک بات اور یہاں میں بتاتا چلوں کہ راہ چلتے اکثر میں نے فوٹ پاتھ پر لوگوں کو چادریا کارڈ بورڈ بچھا کر نماز پڑھتے پایا جس سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ مراکش کے لوگ نماز پابندی سے پڑھتے ہیں۔

سنیچر 22 ؍دسمبر کو ہم نے ایک گاڑی کرایہ پر لی اور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ سب سے پہلے ہم مدینہ پہنچے جو مراکش شہر کے پرانے علاقے میں ہے۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے ’جامع الکتبیۃ مسجد‘ دیکھی۔ یہ مراکش کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد ہے جس کی تعمیر ( 1184۔ 1199 ) میں خلیفہ یعقوب المنصور نے کروائی تھی۔ اس مسجد کو لال پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ 260 فٹ لمبا اور 200 فٹ چوڑی ہے جبکہ اس کے مینار کی اونچائی 253 فٹ ہے۔ اس کے قریب ہی جامع الفناء کے پاس عالیشان ’قصبہ مسجد‘ بھی واقع ہے جسے خلیفہ یعقوب المنصور نے بارہوی صدی میں تعمیر کروایاتھا۔

شام دھیرے دھیرے اپنی سیاہی پھیلا رہی تھی اور مدینہ علاقے کا معروف جامع الفناء میں لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد پورا اسکوائر تفریح کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ چھوٹے چھوٹے گروپ کی شکل میں لوگ بھیڑ لگائے اپنے اپنے شوق سے لطف اندوز ہو رہے تھیں۔ پورا جامع الفناء اسکوائرسیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ کہیں موسیقی بجائی جارہی تھی تو کہیں کھیل کود دِکھایا جارہا تھا۔ ایک جگہ تو کئی دکانوں میں صرف کھانے پینے کی چیزیں بک رہی تھیں اور لوگ دیوانہ وار کھانے کے لئے امڈ پڑے تھے۔ کچھ جگہوں پر سانپ کا کھیل دِکھایا جا رہا تھا۔ بہت ساری عورتیں حنا لگارہی تھیں۔ جوتشی قسمت کا حال بتا رہے تھے تو کہیں بندر کا کھیل بھی دِکھایا جا رہا تھا۔ گویا جامع الفناء کا پورا علاقہ ہندوستان کے میلے کی یاد دلا رہا تھا۔ جامع الفناء کو 1985 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا ہے۔

جامع الفناء کے قریب ہی ایک خوبصورت پارک بھی ہے جہاں مقامی لوگوں کی موجودگی اور بھیڑ بھاڑ سے اس بات کا احساس اور خوف ہوا کہ اس پارک میں بیٹھنا محفوظ نہیں ہے کیونکہ پارک میں موجود لوگوں کے چال چلن مشکوک لگ رہے تھے۔ پارک کے پاس ہی سیاحوں کے لئے گھوڑے گاڑی کی سواری کا بھی انتظام تھا جس پر لوگ بیٹھ کر جامع الفناء کا ایک چکر لگاتے تھے۔

اتوار 23 ؍ دسمبر کی صبح بارہ بجے ہم نے ہوٹل سے ٹیکسی لے کر ائیر پورٹ کی طرف چل پڑے۔ راستے میں مراکش شہر کی خوبصورت محمد ششم روڈ کے ذریعہ آدھے گھنٹے میں مینارہ ائیر پورٹ پہنچ گئے۔ محمد ششم جو کہ ملکتِ مراکش کے بادشاہ ہیں اور ان کی مقبولیت کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ان کی تصویر ہر جگہ لگی ہوئی پائی۔ چاہے وہ عالیشان ہوٹل ہو یا معمولی حجام کی دکان ہو، ہر جگہ بادشاہ محمد ششم کی تصویر ٹنگی ہوئی ملی۔ لوگوں سے بات چیت کرنے پر یہ اندازہ ہوا کہ مراکشی لوگ اپنے بادشاہ کو بہت مانتے اور عزت بھی کرتے ہیں۔

مینارہ ائیر پورٹ کافی جدید اور تما م سہولیات سے آراستہ ہے۔ چیک اِن کروانے کے بعد ہم ائیر عربیہ کی جہاز پر سوار ہوگئے اور مراکش شہر کی خوبصورت یادوں کے ورق کو پلٹنے لگا۔ مجھے مراکش کے سفر کے بعد اس بات کا اندازہ ہو گیاکہ د نیا بھر میں اور خاص کر یوروپ کے لوگوں میں مملکتِ مراکش کیوں مقبول اور پسندیدہ سفرکرنے کا ملک ہے۔ میں مراکش شہر کی یادوں کو اپنے ذہن میں سمیٹے گم تھا اور جہاز ا اڑان بھر چکا تھا۔ تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہم واپس لندن کے گیٹ وِک ائیر پورٹ پہنچ گئے اور مراکش شہر کی خوبصورت یاد کو ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں قید کر لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •