استادکی عزت: خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا!
آج سویرے جو آنکھ میری کھلی تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔ گیراج میں نئے ماڈل کی چمچماتی ہوئی کار کسی نئی نویلی دلہن کی طرح سجی سجائی میری منتظر تھی۔ وفورِ شوق میں ناشتہ کرنے کا دھیان بھی نہ رہا۔ کپڑوں کی الماری پھلوری تو نئی نویلی گاڑی کے شایان نشان کوئی سوٹ نہیں تھا۔ مجبوراً ان میں سے نستاً نیا سوٹ زیب تن کیا۔ میچنگ ٹائی باندھی۔ جوتے تھے تو پرانے مگر اچھی طرح پالش کرنے پر ان کی چمک اور نکھار بھی قابل رشک نہ سہی قابل قبول ضرور ہو گیا۔
بوٹ اگر پوری نیک نیتی اور عرق ریزی و خشوع و خضوع سے پالش کیے جائیں تو انسان کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔ گاڑی پر بیٹھ کر صدر بازار سے پٹھان کی ریڑھی سے سو روپے میں خریدی گئی کالے رنگ کی دھوپ کی عینک پہنی، آئینے میں ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی;فخریہ انداز سے ہلکی سی سیٹی بجا کر اپنی خوش بختی کا اظہار کیا۔ مین روڈ پر پہنچ کر سوچا پٹرول ذلوا لینا چاہیے۔ جونہی پٹرول پمپ پر پہنچا مجھے دیکھتے ہی تمام گاڑی والوں نے اپنی گاڑیاں ایک طرف لگائیں اور نیچے اتر کر مجھے سلام پیش کرنے لگے۔ میں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سر کی ہلکی سی جنبش سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ دیکھ کر یک گونا طمانیت ہوئی کہ میری گاڑی جب تک نظروں سے اوجھل ہوتی تمام لوگ اسی طرح مؤدب کھڑے تھے۔
تقریباً دو تین کلو میٹر کی مسافت پر ایک حفاظتی ناکا آتا ہے، جس پر آرمی اور پولیس کے اہلکار بڑی تندہی اور مستعدی سے فرض ادا کرتے ہیں۔ میں ابھی نئی گاڑی اور پٹرول پمپ کے معجزانہ واقعات کے سحر سے نہیں نکلا تھا اور ناکے کو دیکھتے ہی حسب روایت یہ شریر قطعہ بس ذہن میں انگڑائیاں لینے ہی والا تھا
ادھر ناکے پہ ناکا چل رہا ہے
ادھر ڈاکے پہ ڈاکا چل رہا ہے
ادھر منصوبہ بندی کے ہیں چرچے
ادھر کاکے پہ کاکا چل رہا ہے
کہ کیا دیکھتا ہوں تمام سیکیورٹی اہلکار قریب قریب کورنش بجا لاتے ہوئے ناکے کے دو رویہ کھڑے مجھے سلام پیش کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر تو خوشی سے بس جان ہی نکلنے والی تھی کہ آرمی سیکیورٹی اہلکار تازہ پھولوں کا گلدستہ ہاتھ میں لیے میری طرف آیا اور نہایت احترام سے میرے حضور پیش کیا۔ ہم نے ایک شان بے نیازی سے اس کی طرف دیکھا، گلدستہ وصول کر کے ڈیش بورڈ پر رکھا اور آگے بڑھ گئے۔ یہاں بھی یہ منظر دیکھ کر حیرت میں گم ہو گئے کہ جب تک ہماری گاڑی وہاں سے گزر نہ گئی اس وقت تک سکیورٹی اہلکاروں نے دونوں طرف کی ٹریفک روکے رکھی۔ یہ ہوش ربا منظر دیکھ کر ہمیں اپنی شریک (سوانح) حیات کے وہ تمام طعنہ ہائے دلگیریاد آئے جن کا نشانہ ہم ہر وقت بنتے رہتے ہیں۔ دل میں سوچا کہ کاش بیگم ہمارا یہ تزک و احتشام اور جاہ و جلال ایک مرتبہ ملاحظہ کر لے تو عمران نیازی کی طرح ہمارے حلقہء ارادت میں آجائے۔
ابھی ہم پیش آنے والے ناقابل یقین اور محیرالعقول واقعات پر انگشت بدنداں ہی تھے کہ کالج کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی ایک اور روح پرور و ایمان افروز نظارہ دیکھا۔ کالج کے سب نونہالان ہاتھوں میں گلاب، چنبیلی، نسترن، گل داؤدی، پاؤڈل نواریی رتن مالانرگس، کنول اور کرن پھول، ہاتھوں میں لیے ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے جمع تھے۔ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟ نئے پاکستان میں یک دم استاد کی قدر و منزلت میں اتنا اضافہ؟
دل میں سوچا، یہ وہی شریر، علم وادب بیزار، نظم و ضبط سے عاری اور استاد گریز طلبہ ہیں جن کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہم عاجز آجاتے تھے مگر یہ ہاتھ نہیں آتے تھے اور آج نہ جانے سورج کدھر سے نکلا ہے ادب و احترام کے زمزمے ہمارے قدموں میں بہے چلے جاتے ہیں۔ جناب پرنسپل بھی اپنے تمام سٹاف کے ساتھ ہمارے استقبال کے لیے ساکت و جامد متبسم کھڑے تھے۔ ہمیں اپنی درخشندہ و تابندہ تاریخ سے اساتذہ کی بے مثال عزت و احترام کے حامل ان گنت واقعات یاد آئے۔
ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ پہلی بار اپنے معمار قوم ہونے پر فخر و انبساط ہو رہا تھا۔ ہم بڑے اعتماد سے پرانے پاکستان والوں کو نئے پاکستان میں استاد کی عظمت و عزت کے یہ نمونے دکھا رہے تھے جس کے انتظام میں ہر طرف دودھ و شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور استادوں کو عزت دینے کے لیے ان کی تنخواہ دوگنا کردی۔ انہیں نئی ماڈل کی گاڑیاں پیش کیں، ان پر استاد کو عزت دینے والے سٹیکر لگوا کر جج سے جنرل تک انہیں ہر جگہ سڑک پر سلیوٹ مارنے کا پابند بنادیا ہے۔
گاڑی رکی تو ایک باوردی اہلکار نے بڑے ادب سے دروازہ کھولا اور ہم نے زمین پر قدم رنجہ کیا۔ ابھی ہم سب کا شکریہ ادا کرنے ہی والے تھے کہ یوں لگا کہ کوئی ہم سے نئی نویلی گاڑی کی چابی لینے کی کوشش کررہا ہے۔ ہم نے مضبوطی سے چابی اپنی طرف کھیچنے کی کوشش کی۔ وہ شخص ہاتھا پائی پر اتر آیا تھا ابھی ہم صورتحال سمجھنے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ آنکھ کھل گئی۔ بیگم صاحبہ حسب معمول ہماری شان میں ”قصیدہ گوئی“ فرماتے ہوئے کمبل بری طرح کھینچ کر ہمیں اب اٹھ بھی مرنے کا حکم صادر فرما رہی تھیں۔ ہم بصد حسرت و افسوس بقول میر درد اتنا ہی کہہ سکے کہ:خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا


