اُس کی بیوی نے میاں کے لئے لڑکی کیوں ڈھونڈی تھی


دروازہ کھولتے ہی ایک اجنبی چہرہ نظر آیا۔ درمیانی عمراور متوسط قد کا آدمی، چہرے پر ہلکی داڑھی، گھنی مونچھیں، سر کے بال البتہ آدھے رہ گئے تھے۔ مسکراتے ہوئے سلام و دعا ہوئی۔ پھر اس شخص نے ایک مٹھائی کا ڈبا آگے بڑھایا۔ ”میرا نام سرور ہے، آپ کا نیا پڑوسی ہوں۔ “

” آپ اندر آ جائیں۔ “ یہ سرور صاحب سے میرا پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد ان سے اکثر ملاقاتیں ہوتیں رہیں۔ چند ماہ بعد ایک شام ڈور بیل بجی؛ میں نے دروازہ کھولا تو سرور صاحب پھر مٹھائی کا ڈبا لئے کھڑے تھے۔ ”کیا آپ پھر میرے پڑوسی بن گئے ہیں؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔ ”جی نہیں ساتویں بار باپ بن گیا ہوں۔ “ سرور صاحب نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

”اوہ اچھا! مبارک ہو۔ بیٹا ہے یا بیٹی؟ “ میں نے پوچھا۔ اس بار بیٹا ہے، اس سے پہلے میری تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں، آپ کو بتایا تو تھا بھول گئے کیا؟ سرور صاحب نے شکوہ بھی کر ڈالا۔ بہر حال انہوں نے دیگر پڑوسیوں کو بھی مٹھائی دینی تھی وہ چلے گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا وہ گلاب جامن کھاتے ہوئے سرور صاحب کی خوشی پر حیران تھی یا شاید ان کی بیوی کی ہمت پر۔

ایک دن ہم ان کے گھر میں بیٹھے تھے۔ باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اچانک سرور کی بیوی نے میری بیوی سے کہا کہ ایک ایسی اچھی لڑکی ڈھونڈنے میں میری مدد کریں جو کسی کی دوسری بیوی بننے کو تیار ہو۔ ”یہ رشتہ آپ کو کس کے لئے درکار ہے؟ “ ندرت نے پوچھا۔ ”اپنے میاں کے لئے۔ “ سرور کی بیوی نے جواب دیا۔ ندرت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

” آپ حیران نہ ہوں میں اپنی خوشی سے سرور کے لئے دوسری بیوی ڈھونڈ رہی ہوں۔ اس میں کوئی ممانعت تو نہیں ہے ناں۔ “ سرور کی بیوی نے فوراً کہا۔
”لیکن آپ ایسے خوش رہ سکیں گی؟ “ ندرت نے پوچھا۔
”کیوں نہیں جب میں اپنی مرضی سے سرور کی دوسری شادی کرواؤں گی تو خوش بھی رہوں گی۔ “ وہ بولی ادھر سرور صاحب خواہ مخواہ شرمائے جا رہے تھے۔

” سرور صاحب آپ بڑے خوش قسمت آدمی ہیں۔ آج کل تو بیویاں دوسری عورت کا نام سنتے ہی آستینیں چڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ کئی تو میاں کے فون، فیس بک اور وٹس ایپ وغیرہ کی جاسوسی بھی کرتی رہتی ہیں لیکن۔ “ میں جوش میں پوری تقریر جھاڑنے والا تھا لیکن اپنی بیوی کی نگاہیں دیکھ کر رک گیا۔ ”میرا مطلب ہے بھابھی نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔ اگر ہماری نظر میں کوئی ایسی لڑکی ہوئی تو ضرور بتائیں گے۔ “

کہہ تو دیا تھا لیکن کئی مہینے گزر گئے اور ہمیں ایسی کوئی لڑکی نہ ملی تاہم اتنا ضرور پتہ چلا کہ سرور کی بیوی پوری تندہی ہی لڑکی تلاش کر رہی تھی۔ آخر کار وہ لڑکی تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ سرور صاحب شادی کا کارڈ لے کر آ گئے۔ یعنی دوسری شادی بھی آپ پوری دھوم دھام سے کر رہے ہیں۔ میں نے تبصرہ کیا۔ ”اجی میری دوسری شادی ہے مگر لڑکی کی تو پہلی ہے۔ اس کے بھی تو کچھ ارمان ہوں گے۔ “ سرور صاحب نے بانچھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔

چناں چہ ہم بھی بارات میں شامل ہو گئے۔ سرور کی بیوی اور بچے بھی باراتیوں میں شامل تھے۔ سب کے علم میں تھا کہ سرور کی دوسری شادی ہے۔ ظاہر ہے لڑکی والوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا تو کسی دوسرے کو بھی کیوں ہوتا۔ کچھ چہ مگوئیاں تو بہر حال ہوتی ہی ہیں۔ لوگ تبصرے بھی کرتے ہیں۔ خیر نکاح کا وقت آ گیا۔ دلہن اچھی لگ رہی تھی۔ دبلی پتلی سی لڑکی تھی۔ سرور کی پہلی بیوی بھی اچھی شکل و صورت کی مالک تھی۔ متناسب جسم رکھتی تھی اور عمر پینتیس کے قریب تھی۔

نکاح ہوا مبارک باد کا شور اٹھا اور تقریب بخیر و خوبی اختتام کو پہنچی۔ یوں سرور اپنے گھر میں دو بیویوں کے ساتھ رہنے لگا۔ واقعی اس کی دونوں بیویوں میں لڑائی کی کوئی خبر نہ ملتی تھی نہ اس کے گھر سے کبھی تو تکار کی آوازیں بلند ہوتی تھیں۔ یعنی سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔

سرور صاحب اپنی شادی کے تقریباً چھ مہینے بعد مٹھائی لے کر پہنچ گئے۔ ”اجی منہ میٹھا کیجیے۔ “ حضرت یہ کس خوشی میں؟ میں نے چونکتے ہوئے کہا۔ ”میں آٹھویں بار باپ بنا ہوں۔ “ سرور نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ”مبارک ہو سرور صاحب لیکن یہ رزلٹ چھ مہنے بعد ہی آ گیا۔ اتنی جلدی؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔

” اوہو آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ بیٹا تو پہلی بیوی سے ہی ہوا ہے۔ “ اچھا اچھا غلط فہمی پر معذرت خواہ ہوں۔ میں نے فوراً کہا۔ چھوڑو یار! گلاب جامن کھاؤ۔ سرور نے گلاب جامن میرے منہ میں ٹھونس دیا۔

تقریباً ڈیڑھ سال میں سرور کے گلاب جامنوں سے محفوظ رہا پھر ایک دن ڈبا آ گیا۔ پہلی یا دوسری؟ میں نے اس بار پہلے ہی پوچھ لیا۔ ”پہلی سے یار، دوسری والی سے مٹھائی کے لئے ذرا انتظار کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی پہلی بیوی سے مجھے پیار بہت زیادہ ہے۔ “ سرور نے فوراً کہا اور میں گلاب جامن کھاتے ہوئے سوچنے لگا کہ اس کی بیوی نے اپنے میاں کے لئے لڑکی کیوں ڈھونڈی تھی۔

Facebook Comments HS