سردیوں والا گلگت بلتستان
ایک محتاط اندازے کے مطابق سکردو کی ٹھنڈ میں زندہ رہنے کے لئے مکان کچا اور ایمان کا پکّا ہونا بہت ضروری ہے۔ کمزور ایمان والوں کے ایمان اور دین دھرم کے سب فلسفے صبح سویرے ٹھنڈے پانی کے جسم کو چھوتے ہی غسل خانوں کے روشندانوں سے باہر ہوا ہوائی ہو جاتے ہیں اور ایک بے بس آدمی اپنی بے بسی کا لوٹا لئے سنومین کی طرح سُن ہو جاتا ہے۔ اس لمحے بڑے بڑے محب وطن لوگوں کو بھی وطن عزیز کی طرف سے ملی ہوئی ساری محرومیوں کا احساس ہوجاتا ہے۔
اگر آپ کبھی سردیوں میں سکردو آئیں اور صبح کے وقت جب کسی اونچی جگہ سے شہر کا نظارہ کریں تو آپ کو بہت دلفریب منظر دکھائی دے گا جیسے بادل زمیں پہ آئے ہوے ہیں مگر وہ بادل نہیں لوگوں کے گھروں میں لگی ہوئی انگیٹھیوں سے نکلا ہوا دھواں ہوتا ہے، اور اگر رات کے وقت سکردو شہر کا نظارہ کریں تو ناقابلِ بیان نظارہ ہو تا ہے کیونکہ تاریکی میں ڈوبے شہر میں کچھ دکھائی ہی نہ دے تو بندہ بیان کیا کرے۔ اندھیروں میں ڈوبا شہر لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیتا ہے اور ٹھنڈ رہی سہی کثر پوری کر دیتی ہے۔
شہر کے سر پہ ایٹم بم جیسا خطرناک ڈیم بنایا گیا ہے پر بجلی پرانے وقتوں جتنی بھی نہیں ملتی جب ڈیم بنا ہی نہیں تھا۔ خیر لوگ رات بھر اندھیروں میں لکڑیاں جلا جلا کر سردی سے مقابلہ کرتے ہیں اور صبح تک پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیتے ہیں۔ ٹھنڈ میں مرنے سے اچھا ہے ک درخت کاٹ کے، ماحولیاتی الودگی بڑھا کے زندگی تو بچائی جائے۔ مرنا تو ویسے بھی سب نے ہے کسی نہ کسی دن تو کیوں نہ آج زندگی بچا لیں کل کی کل دیکھی جائے گی۔
خیر لوگوں کے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ گیس کی سہولت ہوتی تو چلو دھوئیں سے تو بچ جاتے۔ صرف ڈرائی فروٹ اور سلاجیت سے تو سردیاں گزرنے سے رہیں۔ بجلی ہوتی تو بجلی کے ہیٹر لگا کے گزارہ کر لیتے مگر یہاں صرف بلب روشن کرنے کے لئے بھی بجلی نہیں ہوتی تو ہیٹر کیسے جلائیں۔ بجلی بھی اسی کے گھر کی لونڈی ہے جس کے پاس عہدہ ہے یا جیب میں پیسہ ہے۔ بڑے لوگوں کے لئے تو ایک سپیشل لائن کا بھی انتظام ہوتا ہے جس میں بجلی اس وقت بھی دستیاب ہوتی ہے جب عام عوام والی لائن میں بجلی نہ ہو۔
غریب کو ایک رات بجلی ملتی ہے تو دو راتیں اندھیروں میں بھٹکتے ہوے گزارنی پرتی ہیں۔ سردیوں میں ہر گھر کی تار کے ساتھ فیوز لگایا جاتا ہے۔ ہیٹر لگانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس نے ہیٹر لگایا فیوز اڑ جائے گا اور غریب جس کی زندگی کے ساتھ ساتھ ساری دنیا بھی لیتی ہے کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ ایک رات بجلی ملتی ہے وہ بھی چلی جائے گی اور جرمانہ بھی دینا پڑے گا۔
بجلی کی اس تیز آمدورفت سے تنگ آکر پچھلے دنوں میں نے کسی لائن مین سے پوچھ گچھ کی کہ یہ سپیشل لائن کے لئے کہاں فارم بھرنا پڑے گا اور کیا کیا کرنا پڑے گا؟ پھر اس نے مجھ سے پوچھ گچھ کی، کیا کرتے ہو؟ ، کتنا کما لیتے ہو؟ ، کوئی جان پہچان ہے کسی بڑے آدمی سے؟ یہ سوال سن کے مجھے سوال کرنے پہ پچھتاوا ہوا کہ میں نے کیوں پوچھ گچھ کی۔ میں اپنے سوالوں اور اس کے سوالوں کے درمیان فاصلوں میں گم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ میرے واپس اپنے حواس میں آنے سے پہلے وہ میری لائن لگا کے جا چکا تھا۔
بہر حال یہ بات تو سب تسلیم کرتے ہیں کہ سکردو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ گرمیوں میں جنت لگنے والا یہ شہر سردیوں میں لوگوں کے لئے ایک سخت امتحان بن جاتا ہے۔ مشکلات کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ چمنیوں سے نکلے دھوئیں سے بھری ہوا میں سانس لیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہوا نہیں دھواں لے رہیں ہوں۔ دمہ اور دیگر امراض کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور عمر رسیدہ لوگ اکثر سردیوں میں ہی سردیوں سے بچنے کے لئے اگلی دنیا کا رخ کرتے ہیں۔
سردیوں کے آتے ہی سکردو کی آبادی کم ہو جاتی ہے۔ اموات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ سردیوں میں جو بھی کسی بڑے شہر میں زندگی گزارنے کی استطاعت رکھتا ہے فیملی کو لے کے شہر کا رخ کرتا ہے۔ یہ لوگ انگور کھٹے والے طبقوں میں موسمی پرندوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ باقی حالات سے مجبور لوگ جن میں غریب طبقہ اور وہ لوگ جن کا کاروبار اور نوکری سکردو میں ہے وہ مجبوراً سکردو میں سردیاں گزارنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔
جب برف پڑتی ہے تو مرجھائے ہوئے چہروں پر تازگی دکھائی دینے لگتی ہے۔ ٹھنڈ کی شدت تھوڑی سی کم ہوجاتی ہے، سرد ہوائیں کم چلتی ہیں۔ لوگ سڑکوں پہ برف کے مجسمے بنا کے ٹائم پاس کرتے ہیں۔ گاڑیوں کی تعداد کم ہوتی ہے تو بچے سکیئنگ کرنے کے لئے سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔ اِن چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سردیاں نکل جاتی ہیں۔ مگر برف کو شاید زیادہ آبادی اور آلودگی پسند نہیں ہے اس لئے اب کبھی کبھار ہی ہوا کرتی ہے۔ جب ہم بچے تھے تب ہر سال بہت زیادہ برف پڑتی تھی مگر درختوں کی کٹائی، آبادی اور ”این سی پی“ گاڑیوں میں جب سے اضافہ ہوا ہے برف باری بہت کم ہو گئی ہے۔
پتہ نہیں کیوں۔


