کپتان نے ترکوں کو مسحور کر دیا
عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے یہ احساس کیا کہ سرزمین ترکی پر سب سے بڑی صوفی روحانی شخصیت مولانا روم کو سلام کرنا لازم ہے۔ اس لئے کپتان کے طیارے نے استنبول یا انقرہ کی بجائے قونیہ شریف کی مقدس سرزمین کو پہلے چھوا۔ کپتان نے سب سے پہلے مزار مولانا روم پر جا کر سلام پیش کیا۔ پروٹوکول والوں نے ضد نہ کی ہوتی تو کپتان بابا فرید کے مزار مبارک کی طرح مولانا روم کے دربار کی چوکھٹ بھی چوم لیتا اور روحانی شخصیات سے عقیدت کا یہ مظاہرہ دیکھ کر ہمارے دل باغ باغ ہو جاتے اور ترکوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔ بہرحال وزیراعظم کہاں آزاد ہوتا ہے، وہ ہزار رسوم و قیود میں بندھا ہوتا ہے۔
اب ترکی کے دورے کا سب سے بڑا مقصد پورا ہو گیا تھا لیکن دوسرا مقصد ابھی باقی تھا اور وہ تھا ترکوں سے مالی معاملات پر مذاکرات کرنا۔ اب نواز شریف جیسا بے شرم لیڈر ہوتا تو ترکوں سے قرض مانگنے کی کوشش کرتا اور اپنی اور ملک کی عزت خاک میں ملا دیتا۔ کپتان نے نہایت سلیقے سے بات کی۔
ترک تاجروں خطاب کرتے ہوئے کپتان نے فرمایا ”مجھے یہ مت بھولنے دیں کہ جب ترکی اپنی آزادی کے لئے لڑ رہا تھا، جب یونانی مرکزی ترکی پر حملہ آور ہو گئے تھے، تو جو اب پاکستان ہے اور اس وقت انڈیا تھا، لیکن جو پاکستان تھا وہاں لوگ کمال اتاترک کے تحت لڑی جانے والی ترک جنگ آزادی کو سپورٹ کرنے کے لئے پیسے جمع کر رہے تھے۔ “
یاد رہے کہ پہلی جنگ عظیم نومبر 1918 میں ختم ہوئی تھی۔ اس کے بعد اتحادیوں اور ان کے گماشتوں سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے شروع کر دیے۔ مغرب سے یونان، مشرق سے آرمینیا، جنوب سے برطانیہ اور اٹلی حملہ آور ہو گئے۔ مئی 1919 میں ترک جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں تحریک خلافت شروع ہوئی۔ ترک بچوں کو سکولوں میں آج تک بتایا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے ڈاکٹر اور جوان اس جنگ میں شرکت کے لئے بھیجے تھے اور مالی معاونت کے لئے ہندوستانی عورتوں نے جھولیاں بھر بھر کر اپنی عزیز ترین متاع، یعنی اپنے زیور ترکوں پر نچھاور کر دیے تھے۔
اس واقعے کے ٹھیک ایک سو برس بعد عمران خان نے ترکوں کو نہایت طریقے سے یاد دلایا کہ دیکھو تم پر ہمارا قرضہ ایک صدی سے واجب الادا ہے۔ ترک تاجر قوم ہیں۔ اصل زر پر سو برس کا سود کا حساب اور قوت خرید میں کمی وغیرہ کا حساب جوڑا ہو گا تو دنگ رہ گئے ہوں گے کہ یہ بات تو کھربوں ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔

اس کے بعد کپتان نے ترک صدر سیدی رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ صدر تو وہ ترکوں کے ہوں گے، ہمارے لئے تو وہ خلافت عثمانیہ کے وارث اور عصر حاضر کے خلیفہ ہیں۔ خلیفہ ایردوان تو پہلے ہی کپتان کی شخصیت سے متاثر تھے۔ سنہ 2012 میں ترک پارلیمنٹ میں آک پارٹی کے لیڈروں نے ہمیں مدعو کرنے کا شرف حاصل کیا تھا تو ان کا یہی کہنا تھا کہ نواز شریف اور عمران خان کے سوا ہمیں پاکستان میں کوئی دوسرا عظیم لیڈر دکھائی نہیں دیتا۔ اب کپتان نے جس طرح جاتے ہی مولانا رومی کو سلام کہا تو حضرت کا ہاتھ کپتان کے سر پر آ گیا اور اس کا اثر دکھائی دینے لگا۔ خلیفہ ایردوان نے دنیا کو ببانگ دہل بتایا کہ ”عمران خان صحیح معنوں میں مولانا رومی کے پرستار و دلدادہ ہیں۔ جناب وزیر اعظم کی مقبرہ رومی کی زیارت اس دوستی کی نشانی ہے۔ پاک ترک دوستی کے روابط صدیوں پرانے ہیں، ترکی کل کی طرح آج اور آئندہ بھی پاکستان کے شانہ بشانہ رہنے کے عمل کو جاری رکھے گا۔ “
اس کے بعد خلیفہ ایردوان اور کپتان کی سربراہی میں دونوں ممالک کے وفود کے مذاکرات ہوئے تو دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ خلیفہ کی ترکی زبان میں تقریر کے دوران جہاں اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پاکستانی وفد کے دیگر اراکین ہیڈ فون کے ذریعے مترجم کے محتاج تھے، وہیں کپتان بے نیازی سے ہیڈ فون کے بغیر بیٹھا رہا۔ اب تک مولانا روم کے توسط سے بیسویں صدی کے دونوں عظیم ترین حکمرانوں کا روحانی تعلق ایسا بن چکا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لئے دنیاوی اسباب و زبان کے محتاج نہیں رہے تھے بلکہ حضرت امیر خسرو کے شعر کی زندہ مثال بنے بیٹھے تھے کہ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم، چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من۔
اس کے بعد خلیفہ ایردوان نے کپتان کو خاص اپنی گاڑی میں بٹھایا اور قصر صدارت لے گئے۔ اندر بیٹھ کر باہر جنوری کی برفیلی سرد ہوا سے نجات پاتے ہی کپتان نے سکھ کا سانس لینے کے لئے اپنی سوتی شیروانی کے بٹن کھولے تو خلیفہ ایردوان کپتان کا جگہ جگہ سے کرم خوردہ، لیر لیر، پھٹا ہوا کرتا دیکھ کر آب دیدہ ہو گئے کہ کہاں اس غریب ملک کا وزیراعظم نواز شریف تھا جو لاکھوں روپے کا سوٹ پہنتا اور کروڑوں کی گھڑی کلائی پر باندھتا تھا، کہاں یہ درویش ہے جس کی صرف شیروانی سلامت ہے، باقی سب کام رفو کا نکلتا ہے۔ خلیفہ نے کپتان کے اسی کرتے سے ایک پارچہ پھاڑ کر رومال بنایا اور اپنی بھیگی آنکھیں صاف کر کے اپنے کوٹ کی دل کے عین اوپر والی جیب میں رکھ کر بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”ادھر داتا دربار تو نہیں لیکن قسطنطنیہ میں ایوب سلطان کا دربار ہے۔ جمعے کا مبارک دن ہے۔ سخی لوگ مدد کریں گے۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کو تبرک بھی مل جائے گا اور معیشت اٹھانے کو چندہ بھی۔ ورنہ اگلی جمعرات کو رومی کے مزار شریف پر قونیہ شریف چلے چلیں گے۔ “
اسی دوران کپتان نے ذکر چھیڑا کہ نواز شریف کو صدر ایردوان نے اپنی بیٹی کے نکاح پر گواہ بنایا تھا۔ کپتان نے اصرار کیا کہ کسی نکاح میں اس کی گواہی بھی ڈلوائی جائے۔ خلیفہ ایردوان فرمانے لگے کہ ان کے سب بچوں کی شادی ہو گئی ہے تو کپتان نے کہا کہ میں نواز شریف سے بڑھ کر ہوں، آپ ہاں کہیے میں بچوں کے نہیں بلکہ آپ کے اپنے نکاح میں گواہ بنوں گا۔
اس پر خلیفہ ایردوان گھبرا گئے اور بولے کہ پہلے ہی ترکی میں ایک بندہ دوسرا نکاح کروانے کے چکر میں قیمہ بن چکا ہے میں یہ رسک نہیں لوں گا۔ ماحول کچھ دیر کشیدہ رہا اور بیسویں صدی کے دونوں عظیم ترین لیڈر کچھ دیر دوسرے نکاح کے مضمرات پر غور کرتے رہے۔ اس کے بعد کپتان نے خلیفہ ایردوان کو دعوت دی کہ وہ پاک پتن شریف پہنچ کر بابا فرید کو سلام کریں تو مشکل کا حل نکل آئے گا، دوسرے کیا تیسرے نکاح کے اسباب بھی غیب سے ایسے پیدا ہوں گے کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ یوں یہ دورہ نئی امیدوں اور ارمانوں کو اپنے پلو میں باندھے اختتام کو پہنچا۔



