وہ سات پھیروں میں ٹیکس بچانا چاہتی تھی


ساڑھے تین لاکھ روپے کا چیک گریچوٹی کی صورت میں وصول کرنے کے بعد مائی جیراں نے ایک گہری سانس بھری اورتشکر بھری الواداعی نگاہ اس فیکٹری پر ڈالی جہاں محنت مزدوری کرتے کرتے اس نے اپنی عمر کے بیس برس گزار دیے تھے۔ اب کل صبح یہ چیک بنک میں جمع کروادوں گی۔ تاکہ بیٹی کا جہیز خریدنے کے لئے جب رقم درکار ہو تو بنک سے نکلوا کر ادائیگی کرسکوں۔ انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی وہ اپنے قدم گھر کے راستے پر خود بخود اٹھاتی چلی گئی۔

اگلی صبح اس نے چیک لے جاکر بنک میں اپنے اکاونٹ میں جمع کروا دیا۔ کاونٹر پر بیٹھے خوش پوش نوجوان نے اسے مطلع کیا۔ دو دن لگیں گے پیسہ ٹرانسفر ہونے میں۔ ٹھیک ہے بیٹا مجھے بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔ مائی جیراں نے طمانیت بھرے لہجے میں جواب دیا۔

چند روز بعد اس نے اپنی بیٹی سے کہا۔ ۔ لڑکے والوں نے تاریخ مانگ لی ہے۔ تیرے جہیز کا فرنیچر اٹھانے کے کے لئے بنک سے پیسہ نکلوانا پڑے گا۔ سوچتی ہوں اپنی گریچوٹی کاجو چیک جمع کروایا تھا وہ رقم نکال لوں۔ بیٹی نے جو خود ایک پرائمری اسکول کی استانی تھی، بچوں کی امتحانی کاپیوں پر جلدی جلدی قلم کے گھسیٹے لگانے کے بعدایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔ اماں تم نے ساری زندگی محنت مشقت کی۔ ابا کے مرنے کے بعد ملازمت کر کے اکیلے مجھے پالا پوسا اب تم اپنی عمر بھر کی کمائی میری شادی پر لگا دو گی تو خود اپنے لئے کیا باقی رکھو گی؟

مائی جیراں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ تو فکر مت کر بیٹا، جس نے چونچ دی ہے وہ چن بھی دے گا۔ ہم غریبوں کے بھاگ میں مرتے دم تک محنت کرنا لکھا ہی۔ ۔ میری ملازمت عمر زیادہ ہونے پر ختم ہوئی ہے۔ میرے ہاتھو ں کا ہنر ختم نہیں ہوا ابھی۔ اپنے گھر میں بیٹھ کر بھی سلائی کڑھائی کرسکتی ہوں۔ تو فکر نہ کر۔ ہو جائے گا کچھ نہ کچھ انتظام۔

اچھا اماں تم سارا پیسہ اکٹھا مت نکلوانا۔ سنا ہے ایک دن میں پچاس ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر ٹیکس لگتا ہے۔ لڑکی نے ا سے ایک نئی تشویش میں مبتلا کردیا۔ کیا مطلب؟ کیسا ٹیکس؟ کتنے پیسے کٹیں گے؟ مائی جیراں نے پریشان ہوکر پوچھا۔ اماں زیادہ تو مجھے بھی نہیں پتا۔ تو کل بنک والوں سے پتا کرلینا۔ لڑکی نے امتحانی کاپیوں میں بے دلی سے قلم چلاتے ہوئے کہا۔ مائی جیراں بستر پر دراز ہو کر دیر تک رقم کٹنے کی فکر میں غلطاں و پیچاں رہی۔ پھر ہمیشہ کی طرح اللہ پر توکل کر کے سو گئی۔

اگلی صبح اس نے روز مرہ کے معمول کے مطابق ناشتہ تیار کیا اور بیٹی کو اسکول روانہ کرکے گھر کو تالا لگا کر بنک کی سمت چل پڑی۔ بنک اس کے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ پیسہ بچانے کے لئے وہ پیدل مارچ کرنا شروع ہوگئی۔ بنک پہنچ کراس نے کیشئر سے دریافت کیا۔ اپنے پیسا نکلوانے پر کتنا ٹیکس لگتا ہے؟ ۔ پچاس ہزار تک کچھ نہیں۔ لیکن پچاس ہزار سے ایک روپیا بھی زیادہ ہو تو اس پر پوائنٹ سکس پرسینٹ لگتا ہے۔

کیشئر نے پیشہ وارنہ سنجیدگی سے جواب دیا۔ مائی جیراں کوکچھ نہ سمجھنے والے انداز میں منہ لٹکائے دیکھ کر اس نے تھوڑی وضاحت کی۔ پچاس ہزار پر صرف تین سو روپے کٹتے ہیں جی۔ تین سو روپے کے حساب سے ساڑھے تین لاکھ پر کتنے کٹیں گے؟ ۔ مائی جیراں نے پوچھا۔ کیشئر نے عادت کے مطابق کیلکولیٹر پر انگلیاں تھرکا تے ہوئے کہا۔ دو ہزار ایک سو روپیہ۔ یہ سن کر مائی جیراں کا سر چکرا گیا۔ یہ ٹیکس کس بات کالے رہے ہیں آپ لوگ؟ اس نے کیشئر سے شکائیتی لہجے میں دریافت کیا۔

یہ تو حکومت نے ٹیکس لگایا ہواہے جی۔ وتھ ہولڈنگ ٹیکس۔ ہمارے نہیں، یہ تو سرکار کے خزانے میں جاتا ہے۔
مائی جیراں یہ سن کر دبے لہجے میں احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگی۔ میں کوئی چیز خرید تو نہیں رہی۔ اپنا پیسا نکلوا رہی ہوں۔ پھر کس بات کا ٹیکس؟ کیشئیر نے اسے پریشان ہوتے دیکھ کر مشورہ دیا۔ آپ ایسا کریں آج پچاس ہزار نکلوالیں۔ پھر اسی طرح روزانہ پچاس پچاس ہزار روپے کر کے اپنی پوری رقم حاصل کرلیں۔ سات پھیروں میں کام ہو جائے گا آپ کا اور ٹیکس بھی نہیں لگے گا۔ مائی جیراں نے امید کی اس کرن کو اپنا سہارا بنایا اور پچاس ہزار روپے نکلوا کر گھر کو واپس لوٹ چلی۔

بیٹی نے جب اس سے بنک کا ماجرا پوچھا تومائی جیراں پھٹ پڑی۔ ارے اپنا پیسہ نکالنے پر بھی ٹیکس دینا پڑرہا ہے۔ کیسی اندھیر مچی ہوئی ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے ہم غریبوں کا۔ بیٹی نے یہ سن کر کہا۔ اماں یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے۔ تو چھوڑ یہ سات پھیروں کو، دو ہزار کی تو بات ہے۔ دفع کر۔ ایک ہی بار میں نکال لے سارا پیسہ۔ مائی جیراں یہ سن کر اور تلملائی۔ ارے کیسے دفع کروں۔ دو ہزار کیا کم ہوتے ہیں؟

۔ اتنے پیسوں میں دس دن کا راشن آجاتا ہے میرے گھر کا۔ پھر اتنی محنت سے کمایا ہوا پیسہ۔ میں کیسے برداشت کرلوں جو میرا ایک روپیا بھی کوئی چھین لے تو؟ میں تو سات پھیرے لگا کر اپنا سارا روپیا نکلوالوں گی۔ بیٹی نے اس کو گلے لگاتے ہوئے تسلی دی۔ اماں تو پریشان مت ہو۔ میری پیاری امی۔ اور تو پیدل اتنی دور چل کر مت جایا کر۔ ویگن میں بیٹھ کر جانا، اچھا۔ مائی جیراں نے اگلے روز دوبارہ بنک کا پھیرا لگایا۔ اور پچاس ہزار مزید نکلوا کر گھر واپس آگئی۔ ایک بار میری عمر بھر کی کمائی مجھے پوری مل جائے۔ پھر تو میں لعنت بھیجوں گی ایسی دنیا کے نظام پر۔ مائی جیراں ہر روز سونے سے پہلے یہ عہد کرتی تھی۔

تیسرے پھیرے میں پچاس ہزار روپے گھر لاتے وقت اسے شبہ ہوا کہ اس کے پیچھے پیچھے کوئی چلا آرہا ہے۔ اس نے اپنے قدموں کی رفتار اور تیز کر لی۔ سڑک پار کر کے اس نے اپنی تکلیف دیتی ہوئی ایڑھی کی پرواہ بھی نہ کی اور گھر پہنچ کر ہی دم لیا۔ جب مائی جیراں نے اس بات کا ذکر اپنی بیٹی سے کیا تو وہ بہت خوفزدہ ہوگئی۔ اماں۔ تو کیا کر رہی ہے؟ لعنت بھیج ایسے ٹیکس بچانے پر۔ اگر کسی نے تجھے لوٹ لیا تو؟ وہ سراسیمگی کے عالم میں اپنی ماں کی منتیں کرنے لگی۔ ارے کچھ نہیں پتر۔ ہوسکتا ہے وہ میرا وہم ہو۔ میں تو بڑی احتیاط سے پیسا چھپا کر لاتی ہوں۔ اور مجھ بڈھی ٹھڈی کو کوئی کیوں لوٹے گا؟ مائی جیراں نے اپنی بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ بس چند پھیروں کی تو بات رہ گئی ہے۔ بیٹی کے دل پر سے تفکرات کے بادل مگر چھٹ نہیں سکے۔

چوتھے، پانچویں اور پھر چھٹے پھیرے میں کامیابی سے پچاس پچاس ہزار روپے گھر تک لانے کے بعد مائی جیراں کا اعتماد مزید بحال ہوگیا۔ بس اب کل آخری پھیرا لگا لوں۔ ساری پریشانی ختم ہوجائے گی۔ مائی جیراں نے اپنے بیٹی کو گلے لگاتے ہوئے یقین دلایا۔ تو اب بالکل فکر مت کر۔

ساتویں پھیرے میں بھی پچاس ہزار روپے نکال کر وہ بڑے اعتماد اوربے خوفی کے ساتھ بنک سے نکلی۔ آج اس نے پچاس روپے کا ایک نوٹ اپنی مٹھی میں دبایا ہوا تھا۔ اس نے سوچا آج آخری پھیرا ہے۔ ویگن میں بیٹھ کر گھر چلی جاتی ہوں۔ جیسے ہی اس نے سڑک پار کر کے ویگن کے اڈے کی طرف قدم بڑھایا۔ ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے کچل کر رکھ دیا۔
مائی جیراں کی مٹھی میں دبا پچاس روپے کا نوٹ اس کی مٹھی کھل جانے کے باعث سڑک پر جاگرا اور اس پر لکھی ہوئی تحریر صاف پڑھی جانے لگی۔ حامل ہذٰا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔

Facebook Comments HS