ٹاک شو کی غبارہ صحافت اور ہمارے اصل مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی کا ایک عرف عام محاورہ ہے جو کہ ایک جیسے مو ضوع کی گھسی پٹی فلموں، کتابوں کی سٹوری کے لیے استعمال ہوتا تھا کہ۔ ۔ اگر آپ نے ایک بوگس فلم دیکھ لی تو سمجھو آپ نے ساری فلمیں دیکھ لیں، کیونکہ وہ سب ایک ہی نوعیت کی ہوں گی۔ بلا مبالغہ پاکستانی میڈیا کا بھی یہ ہی حال ہے۔ اگر ایک چینل دیکھ لیا تو سمجھ جائیں کہ سارے دیکھ لیے۔ موضوعات کی اس قدر کمی ہے کہ سوپ اوپرا کے ڈراموں کی طرح ایک ہی خبر اور بات مختلف طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔

اس قدر بیانیہ پر زور ہوتا ہے کہ خبر کی نوعیت بدل جاتی ہے اور خبر کے اندر کہانی اور سنسنی کا کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ لوگ حقیقت حال بھی اسی خبر کو سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہالو ایفیکٹ نام کی ایک انگریزی اصطلاح بہت مشہور ہے، اس کا عام زبان میں مطلب ہے کہ واقعات کو بڑھا چڑھا کر الفاظ اور بیانیہ کا رنگ پہنا دیا جائے۔ ہالو ایفیکٹ کوئی معمولی شے نہیں یہ ایک سماج کا اجتماعی سوچ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک کافی مشہور مثال ہے جو کہ ہالو ایفیکٹ کو بیان کرتی ہے۔ روڈ ریج کا لفظ انگریزی زبان میں 1988 میں معتارف ہوا اور 1997 تک یہ زبان زد عام ہوچکا تھا۔ روڈ ریج کا تعلق سڑکوں پر جلد بازی اور عدم برداشت کی وجہ سے ہونے والے حادثات سے ہے۔ اس اصطلاح نے تو جیسے امریکی اخبارات اور جرائد کو ایک وبا کی طرح جکڑ لیا۔ صرف ایک سال میں 4000 سے زائد مضامین اس موضوع پر چھپے۔ ؛

تمام عوام پر ایک تاثر بیٹھ گیا کہ روڈ ریج اس وقت ایک شدید سماجی مسئلہ ہے، کافی شاپ، ماہرین نفسیات اور ٹی وی شوز کو تو جیسے ہاٹ کیک مل گیا۔ مگر ایسے ہی کسی یاران نکتہ دان نے جب اعداد وشمار اٹھا کر دیکھے تو پتہ چلا کہ دراصل سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور اموات کی شرح 1988 میں کم تھی اور مزید سالوں میں کمی واقعہ ہوتی گئی۔ لیکن لوگ بیچارے ہالو ایفیکٹ کے تحت خوامخواہ خود کو اور ساتھی ڈرئیوروں کو باولے پن کا شکار سمجھتے رہے۔

اور لکھنے والوں کو ایک مفت کا موضوع ملا ہوا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال وطن عزیز کا بھی ہے۔ بادشاہ سلامت کی عید کی نماز، شہزادی صاحبہ کے جوتے اور ان کی مالیت، پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک خواتین کے لان کے برینڈ، حضور والا کی پسندیدہ پائے کی دکان، جہاں پناہ کی لندن میں سڑک عبور کرنے کی خبر اور دیگر۔ اس کے بعد مارکیٹ میں موجود اس جوتے کے ڈیزائن کی دستیاب کاپیاں اور لوگوں کا ہر کسی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے کا جنون۔

ایسے لگتا ہے جیسے ملک میں اس سے بڑا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سارا دن کا تھکا ہارا یرقان زدہ مزدور بھی صرف اسی ہالو ایفیکٹ کے تحت ٹی وی اور موبائل میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈتا ہے۔ یہ ٹاک شو اور خبریں ایک نشے کی گولی کی طرح اس کو سلا دیتی ہیں۔ وہ اس ہالو ایفیکٹ کے تحت اپنی حیثیت اور حق کو بھول جاتا ہے۔

ایک عام شہری کی طرح اپنی اوقات کا مجھے بھی بہ خوبی اندازہ ہے، اور اس نظام میں مجھ جیسی کسی بھی عورت کی کیا حیثیت ہے۔ ہم صرف اخبار کے قاری ہیں مگر خبر کی شہ سرخی نہیں۔ لیکن یہ سوچ کر بے حد تکلیف ہوتی ہے کہ جس ملک میں دو کروڑ سے زائد بچہ سڑکوں پر رل رہا ہو تو کیا یہ بھی کسی خبر کے قابل توجہ نہیں۔ جنسی تشدد اور باقاعدہ جنسی ورکر کے طور سے برباد ہوتے ہوئے بچے ان پر آج تک کوئی باقاعدہ ڈاکیمنٹری اور تحقیق کسی لوکل صحافی ادارے نہیں کی۔ بی بی سی نے اس سلسلے میں نہایت قابل ذکر ڈاکیومنٹری بنایی جو آج تک مختلف ورک شاپس میں دکھائی جاتی ہے۔ کیا یہ بچے کسی پرائم ٹائم کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ایک عام پاکستانی بچہ کس قدر جنسی ہراسانی کا شکار ہے اعداد وشمار ہوشربا ہیں۔ لیکن کیا ایک بھی تعلیمی اور تحقیقی پروگرام اس سلسلے میں تشکیل دیا گیا۔ ایک نیم سوئے جاگے ڈاکٹر کو مورننگ شوز میں بلا کر کندھوں سے مٹی جھاڑ لی جاتی ہے۔ چائلڈ میریج جیسا خوفناک رواج، سوارا جیسی رسومات ان کا تو کوئی ذکر نہیں۔ لاتعداد بچیوں اور بچوں کا سکول سے ڈراپ آوئٹ ہونا، پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہ کرنا کیا یہ بھی کسی ٹاک شو کے قابل نہیں۔

مسائل بے شمار ہیں مگر ڈرائنگ روم صحافت سے ان پر تحقیق نہیں ہوسکتی ہے۔ شعبہ صحافت میں استاد ہونے کے ناطے میں بچوں کو ذمہ دارانہ صحافت سکھانا چاہتی ہوں۔ لیکن جب ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر موجود واویلا مچاتے ہوئے اپنی صحافی برادری کو دیکھتی ہوں تو بہت سارے پرانے اساتذہ کے پڑھائے ہوئے صحافی اصول یاد آجاتے ہیں۔ آٹے میں نمک کے برابر آج بھی ان اصولوں پر گامزن کچھ قابل عزت نام ہیں۔ سوچتی ہوں انسان کو عزت دو کا نعرہ کب بلند ہوگا اور کیا اس نعرے کو پرائم ٹائم ملے گا!

یا پھر ہم ہالو ایفیکٹ اور اس کے تحت تخلیق کردہ بے سروپا مسائل کی گولی کھا کر سوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •