امریکی یونیورسٹیاں – ہارورڈ یونیورسٹی کی زیارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیو ہیون سے بوسٹن ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ بوسٹن میں ہمارا کمرا بک تھا۔ رات ہوچکی تھی اور میں بھی آٹھ نو گھنٹے ڈرائیو کرکے تھک چکا تھا اس لیے بستر پر گرگے سوگیا۔ بیوی بچے پتا نہیں جاگتے رہے یا جلدی سوئے۔

علی الصباح ہماری آنکھ کھل گئی۔ سب نیا شہر دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔ ناشتہ کرکے ہم نکلے اور پورا بوسٹن چھوڑ کے سیدھے کیمبرج جاپہنچے۔ انگلینڈ کے علاقے کیمبرج کی یونیورسٹی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ انگلینڈ والوں نے بوسٹن کے جس علاقے کو اعلی تعلیمی اداروں کے لیے چنا، اس کا نام بھی کیمبرج رکھا۔

بوسٹن قدیم شہر ہے۔ ایک ایک اینٹ سے پراناپن جھلکتا ہے۔ کیمبرج اور پرانا ہے۔ پرانی اور چکر کھاتی گلیاں۔ سرخ اینٹ سے بنی عمارتیں اور پتھریلے فٹ پاتھ۔ میں نے ایک گلی میں گاڑی کھڑی کی اور چار قدم چلے تو ایک لوہے کا گیٹ آیا۔ اندر بڑے بڑے میدان اور بیچ بیچ میں بلاک بنے ہوئے تھے۔ یہ ہارورڈ یونیورسٹی تھی۔

ہم ناک کی سیدھ میں چلے کیونکہ دور کچھ لوگ ایک مجسمے کے پاس کھڑے تھے۔ وہ سب سیاح تھے جو جان ہارورڈ کے مجسمے کے پاس کھڑے ہوکر اس کا بایاں پیر چھوتے ہوئے تصویریں بنارہے تھے۔ پتا نہیں کس نے اڑا رکھی ہے کہ اس مجسمے کا بایاں پیر چھونے سے قسمت کی دیوی مہربان ہوجاتی ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ قسمت مہربان ہوئی تو آپ یہاں تک پہنچے۔

ہارورڈ یونیورسٹی 1636 میں قائم ہوئی اور یہ امریکا میں اعلی تعلیم کا پہلا ادارہ تھا۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں بش اور اوباما سمیت امریکا کے آٹھ صدور، ہیلن کیلر، بان کی مون، بل گیٹس اور مارک زکربرگ شامل ہیں۔

ہماری بینظیر بھٹو آکسفورڈ سے پہلے ہاوروڈ میں زیر تعلیم رہیں اور یہاں سے بی اے کیا۔ وہ ان چار برسوں کو زندگی کے سب سے خوشگوار دن قرار دیتی تھیں۔ وہ یونیورسٹی آنے والے سیاحوں کی ٹور گائیڈ بھی رہیں۔ میں نے موجودہ طلبہ کو گائیڈ کی خدمات انجام دیتے دیکھا اور سوچا کہ ان میں سے سے بھی کوئی اپنے ملک کا نام روشن کرے گا۔

ہارورڈ میں ایک بہت بڑی گھنٹی رکھی تھی۔ کسی گرجا کی پرانی یادگار۔ ہم نے احتیاطا اس کی تصویر کھینچ لی کہ بعد میں اس کی تاریخی اہمیت معلوم ہوجائے تو عکس بندی نہ کرنے کا دکھ نہ ہو۔

ہارورڈ کے سامنے بک اسٹور تھا جس کی زیارت کرنا ہم پر لازم تھا۔ ییل یونیورسٹی کے بک اسٹور کی طرح یہ بھی دو منزلہ ہے۔ تیزی سے چلیں تو پیروں کے نیچے لکڑی کے تختے چرچراتے ہیں۔

دکان میں درجنوں الماریاں ہیں اور نوع بہ نوع موضوعات پر ہزاروں کتابیں۔ نئی سے نئی کتاب اور پرانی سے پرانی۔ بہت سے کتابوں پر رعایت۔ بے شمار کتابیں کوڑیوں کے دام۔ لیکن سووینئر دوگنا مہنگے۔ سیاح وہی خریدتے ہیں۔

میں نے جدید عراقی فکشن کی انتھولوجی لی جسے بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر شاکر مصطفی نے عربی سے انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ اس میں سولہ عراقی ادیبوں کے تیس سے زیادہ افسانے ہیں۔

بوسٹن آنے سے پہلے سنا تھا کہ ہارورڈ اور ایم آئی ٹی آمنے سامنے واقع ہیں۔ ایسا کچھ نہیں۔ دونوں پڑوسنیں نہیں، محلے دار ہیں۔ ایم آئی ٹی یعنی میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا شمار بھی دنیا کی اعلی ترین تعلیمی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ حسین فوٹو بنوانے میں دلچسپی نہیں لیتا لیکن میں نے اسے ایم آئی ٹی کی عمارت کے سامنے کھڑا کرکے تصویر کھینچی۔ اسے ترغیب دی کہ اگر وہ یہاں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگیا تو یہ تصویر یادگار ہوجائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 165 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi