انضمام صاحب! آپ کا “اینگری ینگ پاکستان” فلاپ ہو گیا

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسد شفیق

Getty Images

ستمبر 2016 میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو لاہور کے دورے پہ تھے۔ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ چیمپئین بنا تھا۔ مصباح الحق چیمئین شپ کا میس وصول کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب پاکستان ٹیسٹ ٹیم کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گی۔

مزید پڑھیے:

پاکستان کو شکست، ٹیسٹ سیریز جنوبی افریقہ کے نام

مکی آرتھر کو چونکہ اس ڈریسنگ روم کا حصہ بنے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا سو وہ آگاہ نہیں تھے کہ یہ ساری ترقی ہوئی کیسے۔ لہٰذا انہوں نے مصباح سے پوچھا کہ اب اس نمبر ون رینکنگ کو برقرار کیسے رکھنا ہے۔ جس پہ مصباح نے جواب دیا کہ یہ بہت آسان ہے، بس اب ہمیں ہر میچ جیتنا ہو گا۔

اس کے بعد صرف تین ماہ کے عرصے میں تین مختلف ٹیموں کے خلاف پاکستان نے آٹھ ٹیسٹ میچز کھیلے اور چھ میچز ہار گیا۔ رینکنگ کی سیڑھی پہ اچانک جیسے چار پانچ ڈنڈے ٹوٹ گئے اور پاکستان پلک جھپکتے نمبرون سے بیچ بازار آ گرا۔

تب مبصرین تو کہہ ہی رہے تھے، مکی آرتھر نے بھی یہ کہا کہ اتنے قلیل وقت میں اس قدر ورک لوڈ کچھ سودمند ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے بجا طور پہ نشاندہی کی کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کی شیڈولنگ بری طرح سے کی گئی جس میں پلئیرزکو تیاری کا مناسب وقت نہیں مل سکا۔

یہ بات تھی بھی درست۔ کیونکہ جس سیریز کی بدولت پاکستان نمبر ون بنا تھا، اس کے لئے مصباح کی ٹیم نے سخت موسم میں دو مہینے ایبٹ آباد کے ٹریننگ کیمپ میں گزارے تھے۔ مگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں سے پہلے اتنا وقت ہی میسر نہ ہو پایا کہ کوئی ٹریننگ کیمپ لگ پاتا۔

کل کیپ ٹاون میں مکی آرتھر پھر یہی دہرا رہے تھے۔ آج میچ کے بعد جب سرفراز سے پوچھا گیا کہ دوسری اننگز میں ان کے بلے بازوں نے بہتر کارکردگی کیسے دکھائی تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ سیریز سے پہلے انہیں صرف ایک پریکٹس میچ کھیلنے کا موقع ملا تھا جو کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کی جگہ اگر دو تین وارم اپ میچ کھیلنے کو مل جاتے تو نتائج بہت مختلف ہوتے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ ایک کی جگہ اگر تین وارم اپ میچز کھیل لئے جاتے تو پاکستان بہتر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آ جاتا۔ مگر یہ طے کرنا نہ تو مکی آرتھر کا کام ہے نہ ہی سرفراز کا، کہ پاکستان کس دورے پہ کتنی جلدی جائے گا اور کتنے پریکٹس میچز کھیلے گا۔ یہ تو پی سی بی کو طے کرنا ہے مگر وہاں بجائے خود کوئی استحکام ہو تو ان مسائل پہ دھیان دھرا جائے۔

مگر یہ طے کرنا تو یقینا مکی آرتھر، انضمام الحق اور سرفراز کے تھنک ٹینک کا ہی کام ہے کہ کون کن وکٹوں کے لئے زیادہ سودمند ثابت ہو گا۔ تجربے اور ٹیلنٹ کا امتزاج کس تناسب میں ہونا چاہئے۔ کس کو میدان میں اتارنا چاہئے اور کس کو بینچ پہ بٹھانا ہو گا۔

جناب! ان باؤنسی وکٹوں پہ وہی ایشین بلے باز کامیاب ہو سکتے ہیں جو ہر طرح کے خوف سے نکل کر اپنا سینہ گیند کے آگے پیش کر دیں جیسے کبھی عمران خان کیا کرتے تھے۔ یا پھر وہ گھاگ کھلاڑی جن کا تجربہ ابھی اظہر علی اور اسد شفیق کی طرح تھکاوٹ میں نہ بدل گیا ہو۔

ایسے میں مکی آرتھر کی پلاننگ، گرانٹ فلاور کی ٹریننگ اور سرفراز کی قائدانہ صلاحیتوں پہ تو سو سوال اٹھتے ہی ہیں، چیف سیلیکٹر سے بھی کافی کچھ پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ حضور جب صرف پاکستان ہی نہیں، پوری دنیائے کرکٹ آپ سے گزارش کر رہی تھی کہ فواد عالم کو لائیں تو آپ فرما رہے تھے کہ ٹیم کو ضرورت ہی نہیں ہے۔

انضمام صاحب! یہ تو آپ ہی کا اختیار ہے کہ فواد عالم کو چنیں یا امام الحق کو، مگر اس بیچ آپ نے سمیع اسلم جیسے دلیر اوپنر کی بھی بَلی چڑھا دی۔ آپ تو شان مسعود کا بھی کرئیر ختم کرنے کو تھے۔ وہ تو قسمت کا کھیل ہوا کہ حارث سہیل کی انجری نے شان کا کرئیر زندہ کر دیا۔

سب آپ سے ملتمس تھے کہ مصباح جا رہا ہے تو کم از کم یونس کو ہی روک لیں۔ آپ نے ایک نہ سنی۔ آپ پہ بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ بوڑھوں کو نکال کر “ینگ ٹیم” بنانی ہے۔

اس میں شبہہ نہیں کہ آپ کی سیلیکشن پالیسی اور آپ کے وژن نے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں پاکستان کی تقدیر بدل دی مگر حضور! ساتھ ہی یہ بھی تسلیم تو کیجئے گا کہ آپ کے اسی وژن نے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کا بیڑہ غرق کر دیا۔

رِیت تو یہی ہے کہ ہر جیت پہ داد و تحسین پلئیرز کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینک بھی خوب بٹورتا ہے۔ اور ہار پہ دشنام طرازی کا رخ صرف پلئیرز کی جانب ہو جاتا ہے۔ مگر جناب! اگر پلئیرز کی نیت میں فتور ہوتا تو اب تک کی چار اننگز میں فخر زمان اور اظہر علی کے سوا سبھی بلے باز ایک ایک تگڑی اننگز کیسے کھیل لئے ہیں؟

مسئلہ آپ کے وژن میں ہے حضور! جو مختصر فارمیٹ میں تو خوب چل گیا مگر ٹیسٹ کرکٹ میں یہ کبھی چلنے والا تھا ہی نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8002 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp