چار ماہ چالیس اقدامات: بلوچستان حکومت کی کارکردگی رپورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان میں حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے جام حکومت کی چار ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کی مالیاتی اصلاحات کے نتیجے میں تین ماہ کے مختصر عرصے میں بلوچستان حکومت کی آمدنی میں چار ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ پسماندگی کے خاتمے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے حکومت بلوچستان کی جانب سے چھ سو ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کا اجرا کا فیصلہ کیا گیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر محمد عظیم کاکڑ نے کوئٹہ پریس کلب میں حکومت بلوچستان کی چار ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بلوچستان حکومت نے تمام سرکاری شعبوں کو فعال کرنے کے لئے اصلاحات کا عمل متعارف کرایا ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے واٹر ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بحالی سرگرمیوں کے لئے پچاس کروڑ روپے جاری کردیے گئے ہیں۔ پانچ کابینہ اجلاس ہوئے جس میں 85 قوانین اور اصلاحات وضح کی گئیں۔ مختلف محکموں میں بیس ہزار خالی آسامیوں پر شفاف انداز سے بھرتی کے لئے فارمولہ طے کیا گیا ہے جس میں بے روزگار زائد العمر افراد کو روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لئے عمر کی بالائی حد 43 سال مقرر کی گئی ہے وزیر اعلی معائنہ ٹیم کو فعال بنایا گیا ہے جو 700 سے زائد ترقیاتی منصوبوں اور محکموں کا دورہ کرکے وزیر اعلی کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی 1961 میں تشکیل دیے گئے ایکٹ کو منسوخ کرکے سرکاری ملازمین کی سہولت کے لئے انڈومنٹ فنڈ بل متعارف کرایا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے گوادر یونیورسٹی کے قیام کے لئے 500 ایکڑ اراضی مختص کرکے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ایک ارب روپے کا اعلان کیا ہے۔ 35000 مشتبہ و بوگس ملازمین کی تصدیق کے لئے جامع میکنزم متعارف کرایا جارہا ہے یہ سسٹم نادرا سے منسلک ہوگا انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے 100 دنوں میں 40 سے اہم فیصلے کیے جو بلوچستان کے عوام کے مفاد میں تھے چار ماہ میں 85 قوانین اور اصلاحات، 20 ہزار خالی اسامیوں کے لئے فارمولا واضح، صوبے کے 700 سے زائد ترقیاتی منصوبوں اور ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے وزیراعظم کے ہمراہ دورہ چین، کوئٹہ اور اسلام آباد میں چینی حکام سے ملاقاتوں کے دوران سی پیک منصوبے میں بلوچستان کے لئے خصوصی 9 فیصد حصے کا مطالبہ اور آٹھویں جے سی سی میٹنگ میں ماہی گیری، معدنیات اوردیگر شعبوں میں معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بلوچستان کے تمام کمشنر اورڈپٹی کمشنرکو خصوصی اختیارات دیے گئے جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کھیل، خشک سالی و دیگرایمرجنسی حالات کے لئے خصوصی فنڈز جاری کرسکتے ہیں اس کے علاوہ تمام اضلاع کے لئے 150 ملین اضافی ترقیاتی فنڈز اور کمشنرز کو 100 ملین تک کے اہم منصوبے بنانے کے اختیارات دیے گئے۔

منرل انڈسٹری، ماہی گیری، محکمہ ماحولیات اور محکمہ حیوانات زراعت و ٹرانسپورٹ کے محکموں کو فعال کرکے ان سے موثر آمدنی بڑھانے کے لئے اہم منصوبہ بندی۔ قوانین کی ترتیب نو کی جارہی ہے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے وزیراعلیٰ شکایات سیل کا قیام، خصوصی کمیٹی کی تشکیل اور مسائل کے حل کے لئے جامع حکمت عملی واضح کی گئی ہے صوبائی دارالحکومت کی صفائی کی خصوصی مہم کے دوران ابتدائی مرحلے میں 20 وارڈ کی صفائی کی گئی سریاب کے لئے 1084 ملین مختص کیے گئے، کچلاک میونسپل کمیٹی کی تشکیل، سبزل روڈ کے لئے 4481 ملین، جوائنٹ روڈ کے لئے 4814 ملین اورسمگلی روڈ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے صوبائی حکومت کی جانب سے معذور فراد کے لئے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا بلوچستان بھر میں ناقص ادویات بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ڈرگ مافیا کے خلاف ایکشن کرکے درجنوں لیبارٹریز، کلینک اور میڈیکل سٹور سیل کردیئے گئے ہیں۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے قواعد میں ترمیم کی منظوری دی گئی 1989 ءکے بعد کمیشن ایکٹ میں تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے جس کے تحت اب خاتون ممبر کے لئے قانون واضح کیا گیا وزیرعلیٰ کی ہدایت پر فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال اور بی ایم سی میں انسیٹریٹر نصب کیے جاچکے ہیں جبکہ کوئٹہ کے دیگر ہسپتالوں میں انسیٹریٹرز کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں سیوریج اوردیگر واٹر پلانٹس پلانٹس کی بحالی جاری ہے وزیراعلیٰ نے کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ کے پلانٹس کا خود دورہ کیا اور 600 ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجرا کی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ بکوچستان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کرکے وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے مختص کوٹہ اور این ایف سی ایوارڈ بڑھانے کی درخواست کی بلوچستان انڈومنٹ فنڈز کا قیام عمل میں لایا گیا بلوچستان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے بلوچستان لازمی ایجوکیشن سروسز بل 2018 ءکی کابینہ نے منظوری دی بلوچستان لینڈ ریونیو و ترمیمی ایکٹ 2018 کابینہ سے منظور کیا گیا 300 میگاواٹ گوادر کول فائرڈ پاور پلانٹ کی بنیاد رکھی گئی جبکہ لینڈ لیز کے لئے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے 23 کروڑ کی منظوری دے دی گئی۔

صوبائی حکومت نے معذور افراد کے لئے اسپیشل ایجوکیشں کالج کوئٹہ کے منصوبے، چائلڈ پروٹیکشن لاءکے باقاعدہ نفاذ کی منظوری بھی دی جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے منصوبے کا اعلان بھی کیا ورلڈ بینک اور ایشیئن بینک کے تعاون سے خصوصی منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے محکمہ فنانس میں بجٹ انڈکیٹو اور مینجمنٹ ماڈیول سسٹم کا اغاز عنقریب کردیا جائے گا حکومت بلوچستاننے آن لائن ٹیکس سسٹم معارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے خود احتسابی عمل کے تحت محکمہ خورک میں 60 افسران کے خلاف کارروائی کی 30 ملازمین کو برطرف جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا غیر ملکی مہمانوں کو شکار کی مشروط اجازت دی گئی تحفظ ماحولیات و جنگلات و جنگلی حیات کے باعث ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد شکار کی اجازت نامہ جاری کیا گیا صوبے میں 68 ہزار درخت لگائے گئے اور 63 ہزار بیج تقسیم کیے گئے بلوچستان میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمے نے نئی رجسٹریشن بک اور نمبر پلیٹس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل درآمد جاری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں