کسے وکیل کریں


پاکستان کا اب ہر ادارہ سمجھ سے باہر ہوتا چلا جارہا ہے۔ اب تو اس بات پر سے بھی اعتبار اٹھتا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کا کوئی آئین بھی ہے یا نہیں۔ بالادستی آئین اور قانون کی ہے یا چند اداروں کے سربراہان کی۔ دیکھا گیا ہے کہ چند مقتدر اداروں کے سربراہوں کے آنے جانے اور تبدیل ہوجانے کی صورت میں آئین و قانون کی تشریحات اور ان پر عمل درآمد پر انتا واضح فرق پڑجاتا ہے کہ پورے پاکستان کا نقشہ ہی بدل کر رہ جاتا ہے۔ کبھی حکومتیں بدلنے سے اور کبھی اداروں کی سربراہوں کی تبدیلی سے پاکستان میں خوشگوار یا نا خوشگوار تبدیلیوں کی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ لیکن جونہی اداروں کے سربراہان تبدیل ہوتے ہیں، پہلے والے سربراہان اپنی اپنی خوشگوار یا نا خوشگوار ہوائیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

چند سال قبل راحیل شریف، نواز شریف اور چودھری افتخار کے شادیانے بجا کرتے تھے۔ ادھر انھوں نے اپنے اپنے عہدوں سے علیحدگی اختیار کی، کچھ اور جہرے خالی کی ہوئی جگہوں پر ابھر آئے۔ نئے، عہدیداروں نے اپنے اپنے انداز اختیار کیے اور اپنی اپنی نئی کارکردگی کے جوہر دکھانے شروع کر دیے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں بالا دستی آئین و قانون کی نہیں بلکہ افراد کی ہے جن کے آنے اور چلے جانے سے حالات کبھی پاکستانی عوام کی حمایت میں چلے جاتے ہیں اور کبھی عوام کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔

ایک سربراہ حکومت ایسا بھی آتا ہے جس کی نظرمیں ائین اور قانون ایک ٹشو پیپر سے بھی کم درجے کی چیز ہوتی ہے۔ وہ اس سے اپنا پسینہ بھی خشک کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اور آئین و قانون کے آخری نگہبان جس کو عدالت کہا جاتا ہے وہ ایسے ہی آئین شکن انسان کے آگے ہاتھ جوڑکر کھڑی دکھائی دیتی ہے اور اس کو غداری قرار دینے کی بجائے اسے تحفظ فراہم کرتی ہے اور اس کے ہر غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دے کر حکومت کرنے تک کا اختیار عطا کر دیتی ہے لیکن جب وہی حکومت عدلیہ کو توڑنے جیسا قدم اٹھاتی ہے تو وہ عوام کی مدد کی طلب گار بن جاتی ہے۔ عوام اس کے لئے ڈھال بن کر جب عدالت کی عظمت کو بحال کرانے اور ایک آمر کے ہر جبر کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہی عدالت پھر کسی چڑھتے سورج کی پوجا میں مصروف ہوجاتی ہے اور عوام کو نا انصافیوں کے جہنم میں جھونکنے لگتی ہے۔

وہ مشرف جس نے عدلیہ کی عظمت کو تار تار کیا، پاکستان کے آئین کو پامال کیا اور جس کی مخالفت کو شعار بنا کر سیاسی پارٹیوں اور خاص طور سے موجودہ حکومت نے عوام میں مقبولیت حاصل کی آج عدالت یا با الفاظ دیگر موجودہ حکومت اپنی ہی کہی گئی باتوں سے انکاری نظر آرہی ہے۔ وہ عدالت جو این آر او کی شدید ترین مخالف کرتی نظر آرہی تھی آج این آر او کی زد میں آنے والوں کے لئے نہ جانے کیوں موم کی طرح پگھلتی نظر آنے لگی ہے۔ عدالت کی نظر میں کل تک جو لائق سزا تھے اور قابل نفرت سمجھے گئے تھے لگتا ہے کہ ان پر پیار برسنے لگا ہے۔

مصدقہ خبروں کے مطابق عدالت عظمیٰ نے سابق صدورمملکت جنرل (ر) پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کردیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے این آر او کیس کی مختصر سماعت کی۔ جس کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف، آصف زرداری اور ملک قیوم کے اثاثوں کی تفصیلات آچکی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فریقین نے جواب جمع کرادیے ہیں، جائداد اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کردی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اومنی گروپ کیس میں بھی پیش رفت ہوچکی ہے۔ چیف جسٹس نے سب کے اکاؤنٹ بحال کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے۔

پاکستان میں معاملات کو سمجھنا بہت ہی پیچیدہ تر ہے۔ کون سی شے کب قانونی ہوجائے گی اور کون سی قانونی شے کب غیر قانونی شکل اختیار کر لیگی، اس کا علم یا تو اللہ کو ہوتا ہے یا پھر اس ادارے کو جس کے پاس کسی فیصلے کی درخواست موجود ہوتی ہے۔

کل تک بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کا مسئلہ بڑی شد و مد کے ساتھ اٹھا ہوا دکھائی دے رہا تھا لیکن ایسا لگا کہ ایک بہت بڑا غبارہ تھا جس کی ہوا نکل گئی اور ایک بہت بڑا پہاڑ رائی کا پربت بن کر رہ گیا۔ یکایک کیا ہو گیا تھا اور یکا یک کیا ہوگیا ہے؟ کسی کو کان و کان خبر نہ ہو سکی۔ اگر معاملہ اتنا سنجیدہ تھا کہ ایک بہت بڑی ریئل اسٹیٹ چلانے والی فرم کے سارے اکاؤنٹ سیل کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے اور اس کا مستقبل تاریک ہوتا ہوا نظر آنے لگاتھا تھا اور ایک دن قبل تک گمان نہیں گزررہا تھا کہ مستقبل قریب میں ملک ریاض کے لئے کوئی اچھی خبر موجود نہیں کہ یکایک ملک ریاض کے سارے بھاگ جاگ اٹھے اور اس کے سارے منجمد اکاؤنٹ بحال کر دیے گئے۔

پاکستان میں نیب ایک قانونی ادارہ ہے اور اس وقت تک یہ ادارہ قائم رہے گا جب تک اس کو کسی قانونی طریقے سے یا تو ختم نہ کر دیا جائے یا پھر اس کے اختیارات میں تبدیلی نہ کردی جائے۔ سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم سمیت متعدد افراد کے کیسز اسی ادارے کو ریفر کرتی رہی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اسی ادارے کو وہ خود ہی مردہ بھی قرار دیتی رہی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کی ایک قانونی حیثیت ہے اور جس میں خود سپریم کورٹ کچھ مقدمات کو ریفر کرتی ہے اور نیب سے تحقیقات کا کہتی ہے اسی پر برہمی کا اظہار بھی کرتی نظر آتی ہے۔

کسی کسی کے لئے تو وہ ہر کارروائی پر خوشی کا اظہار کرتی ہے اور کبھی نیب کی کارروائی اسے نہایت ظالمانہ نظر آتی ہے۔ ایک موقع پر ایک ”ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ کیا نیب کے سوا پورا پاکستان چور ہے؟ ایک درخواست پر پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں، نیکی کا کام ہو رہا ہے نیب ٹانگ اڑا کر بدنامی کر دیتا ہے، سی ڈی اے کے لیے عدالتی حکم اہم ہے یا نیب کا؟ نیب نے عدالتی احکامات کی ہی تذلیل شروع کر دی، کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاک ہیں، ہر معاملے میں نیب انکوائری شروع کر کے سسٹم روک دیتا ہے، کس نے کس نیت سے درخواست دی اور نیب نے کارروائی شروع کر دی، ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی“۔ مزید بر آں ”جسٹس نے چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل کو چیمبر میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا تحقیقات کرنے کا کوئی معیار ہے یا نہیں“۔

ان تمام حالات کو سامنے رکھنے کے بعد یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں قانون حکمران ہے یا اداروں کے سربراہان تفویض کردہ قانون پر حکمران ہیں۔ اداروں کے سربراہان تبدیل ہوجاتے ہیں، ملک میں حکومت تبدیل ہوجاتی ہے یا حالات کوئی اور کروٹ لے لیتے ہیں تو عوام و خواص دونوں کے حالات تبدیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔

دنیا میں ہر ملک اپنے اپنے بنائے ہوئے آئین و قانون کے مطابق ملک میں انتظامی امور چلانے کے لئے کچھ شعبے بناتا ہے تاکہ کاموں کو تقسیم کر لیا جائے۔ کاموں کو جتنا تقسیم کر لیا جاتا ہے ان کی انجام دہی میں سہولت ہوجاتی ہے اور محکموں اور محکموں کے افراد پر کام کا بوجھ لدا ہوا نظر نہیں آتا۔ ایک چھوٹا سا محکمہ بھی اپنے کئی چھوٹے چھوٹے شعبے بنا لیا کرتا ہے جس سے اس کی کارکردگی میں نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک ملک تو پھر بہت بڑی بات ہے۔

پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر محکمے کے دائرہ کار کا تعین کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے تفویض کردہ اختیارات میں رہتے ہوئے اپنے امور انجام بھی دیتا ہے اور اس کا جوابدہ بھی ہوتا ہے۔ محکمے اور ان کے سربراہان پابند ہوتے ہیں اپنے اپنے تفویض کردہ اختیارات کے، اسی لئے ان کے چلے جانے یا تبدیل ہوجانے سے محکمے کی کارکردگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پاکستان میں محکموں، اداروں اور حکومتوں کی ساری کارکردگی کا انحصار افراد پر ہے۔ محکموں کی پالیسیاں اور آئین و قانون ثانوی حیثیت میں نظر آتا ہے۔ یہی دراصل بنیادی خرابی ہے۔ جب تک قانون اور آئین کو بالا دستی حاصل نہیں ہوگی، حالات کا دھارا کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ بات ایک مرتبہ ”الف“ سے ”یے“ تک درست ہوجائے تو یقین مانیے لوگ افراد کی جانب دیکھنا بند کر دیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں