جناح ہاﺅس سے چیئرمین سیکرٹریٹ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی خوش چہرہ سے سیالکوٹی نوجوان کو دیکھ کرفلم ”چن وے “ میں گایا ہوا ملکہ ترنم کایہ گانا ضرور یاد آجاتا ہے۔ ”تیرے مکھڑے دا کالا کالا تِل وے۔ میرا کڈھ کے لَے گیا دل وے۔ وے منڈیا سیالکوٹیا“۔ کالم نگار پی ٹی آئی کے لاہور چیئرمین سیکرٹریٹ میں بیٹھا سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر عمر ڈار کا معصوم چہرہ تک رہا تھا۔ وہاں کوئی تِل نہیں تھا جو دکھائی دیتا۔ البتہ ان کے چہرے پر پاکستان کو کرپشن فری بنانے کا عزم ضرور ظاہر تھا۔ اسی عزم کا نام تحریک انصاف اور عمران خان ہے۔ جنوبی پنجاب میں اک زمانہ میں یہ نعرہ زبان زد عام تھا۔ ’اسیں باغی تخت لہور دے ‘۔ اگرچہ یہ نعرہ ان دنوں ’ساڈا تونسہ تخت لہور اے‘ میں ڈھل چکا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ پنجاب پر وہی حکومت کریگا جوسنٹرل پنجاب پر قابض ہوگا۔

ڈار برادران عمران خان کے کتنے بااعتماد ساتھی ہیں، اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہو ں نے عمر ڈار کو سنٹرل پنجاب کی قیادت سونپی ہوئی ہے اور ان کے چھوٹے بھائی عثمان ڈار کو اپنا مشیر لگا رکھا ہے۔ عمر ڈار کی صدارت سے پہلے چیئرمین سیکرٹریٹ کا افسرانہ سا ماحول تھا۔ گنے چنے ساتھیوں کو شرف ملاقات بخشا جاتا۔ عمر ڈار نے آتے ہی سیکرٹریٹ کے دروازے ہر خاص و عام کیلئے کھول دیئے۔ ’ کوئی آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں‘۔ کارکنوں سے بھرا پڑا دفتر یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے شہر سے مضافات کو جانے والی کوئی بس ہو۔ ایسی سواریوں سے لدی پھندی بس کی چھت بھی مسافروں سے محروم نہیں رہتی۔ کالم نگار کو عمر ڈار کا یوں کارکنوں سے گھلنا ملنا اچھا لگا۔ محبت فاتح عالم ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا :

                کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے

                کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دلنوازی

اک زمانہ میں جب ”مرحوم“ پیپلز پارٹی زندہ تھی تو جہانگیر بدر کے ہاں بھی ایسی عوامی محبوبیت دیکھنے میں آتی تھی۔ عمر ڈار کو اپنے والد محترم امتیاز الدین ڈار سے ورثہ میں ڈھیر ساری دولت اور اس سے بھی زیادہ اپنے ملک سے محبت ہاتھ آئی ہے۔ امتیاز الدین ڈار ایک کامیاب صنعتکار تھے۔ سیالکوٹ کامیاب صنعتکاروں اور بزنس مینوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایسے خالص تجارت پیشہ لوگوں کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ عام طور پر اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت یا پھر حکمران جماعت کے امیدواروں کی الیکشن فنڈ کے نام سے مالی امداد دینے سے آگے نہیں بڑھنے پاتے۔ اس کے برعکس امتیاز الدین ڈار سیاست میں پوری دلچسپی رکھتے تھے۔ اک زمانہ میں وہ سیالکوٹ کے تحصیل ناظم بھی منتخب ہو گئے۔ امتیاز الدین ڈار سیالکوٹ کے پوش ایریا پیرس روڈ کے رہائشی تھے۔ وہ سراپا مسلم لیگی تھے۔ قائد اعظمؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے۔ گھر کے پڑوس میں ایک جناح ہاﺅس بنا رکھا تھا۔ جناح ہاﺅس کے ہال کی دیواریںقائد اعظمؒ کی تصاویر سے مزین تھیں۔ کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر قائد اعظمؒ کی تصاویر اکٹھی کی گئی تھیں۔ شاید ملک بھر میں جناحؒ سے محبت کی یہ ایک انوکھی مثال ہو۔ پھر یہ بات بھی نظر انداز کرنے والی نہیں کہ جناح ہاﺅس ان کی رہائش گاہ ڈار ہاﺅس سے رقبے میں بڑا ہے۔ انہوں نے اپنا گھر فرط ادب میں جناح ہاﺅس سے چھوٹا رکھا ہوا ہے۔

ہمارا آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان ٹاﺅ ن ڈویلپروں کی حرص کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ سرکاری رقبے بااثر لوگوں نے الاٹ کروا لئے۔ ہم بے بسی سے کھیل کے میدانوں سے محروم اپنے بچوں کو ون ویلنگ کی راہ سڑکوں پر مرتے دیکھتے رہتے ہیں۔ صاحب حیثیت امیتاز الدین ڈار نے اپنے بچوں کے لئے اپنی فیکٹری کے ساتھ ایک اسٹیڈیم بنالیا تھا۔ اب ڈار مرحوم و مغفور رہے نہیں، اللہ جانے ان کا اسٹیڈیم بھی رہا ہے یا نہیں۔ پی ٹی آئی کا آج جو چھتنار درخت نظر آرہا تھا یہ بہت سوں کی محنت کا ثمر ہے۔ بہت سے ساتھیوں اور کارکنوں کی محنت اورنگہداشت سے یہ پروان چڑھا ہے۔ اس جماعت پر غیر مقبول دور بھی آتے رہے ہیں۔

یہ غالباً 2010 کی بات ہے۔ کالم نگار نے اپنے ’نوائے وقت‘ میں شائع شدہ کالم میں لکھا تھا کہ ان دنوں پی ٹی آئی صرف ہارون الرشید کے کالموں میں ہی نظر آرہی ہے۔ کالم نگار ہارون الرشید نے اپنے کالموں میں عمران خان کے قد بت اور خدو خال کے ذکر کی تکرار سے اوبھ کر اب ان کے بنی گالہ کے محل کے درو و دیوار اور محراب و طاق کا ذکر شروع کر دیا ہے۔ پھر پی ٹی آئی پر اک زمانہ ایسا بھی آیا جب بقول عمران خان پارٹی کا سال میں ایک ہی جلسہ ہوتا تھا اور وہ بھی ان کی زمان پارک والی رہائش گاہ کے ایک کمرہ میں۔ لیکن پھر ہارون الرشید سے لے کر حسن نثار تک، توفیق بٹ سے لے کر کالم نگار تک، سبھی لکھ لکھ کر تھک گئے۔ آخر کار اللہ نے برکت ڈال دی۔ لوگ ساتھ ملتے گئے۔ اک کارواں بن گیا۔ آج پاکستان میں اس جماعت کی حکومت ہے۔

بات کدھر سے کدھر چلی گئی۔ توفیق بٹ کے نام سے یاد آیا کہ ان ڈار برادران کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے لئے عمران خان سے پہلی ملاقات کا اہتمام توفیق بٹ نے کیا تھا۔ اس روز توفیق بٹ نے اپنی جی او آر ون میں سرکاری رہائش گاہ کالم نگاروں کی عمران خان کے ساتھ گیٹ ٹوگیدر رکھی ہوئی تھی۔ توفیق بٹ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے زمانہ میں درس و تدریس سے وابستہ ایک سرکاری ملازم کا اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایسا سیاسی اجتماع ؟ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ عمرڈار کا جناح ہاﺅس سیالکوٹ سے شروع کیا ہوا سیاسی سفر جاری ہے۔ اس راہ میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدارت بھی آتی ہے۔ سفر کب ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت مانگنی چاہئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں