میری جوان بیٹی کا بوائے فرینڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 7
  •  

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے جب ’ہم سب‘ میں اپنے بیٹے نوید کی گرل فرینڈ کی کہانی سنائی تو چند قارئین کو وہ ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ بیٹے کی کہانی سنانا آسان ہے بیٹی کی کہانی سنائیں تو کوئی بات بنے۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں آپ کو اپنی بیٹی ایڈرئینا اور اس کے بوائے فرینڈ گیورگی کی کہانی سناؤں۔

ایڈرئینا کا تعلق رومانیہ سے ہے۔ 1990 میں جب رومانیہ میں انقلاب آیا تھا تو ہزاروں بچے یتیم خانوں میں پرورش پا رہے تھے۔ اس دور میں کینیڈا میں جن لوگوں نے رومانیہ جا کر چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کو گود لیا تھا ان میں میری دوست بے ٹی ڈیوس بھی تھیں۔ جب بے ٹی ایڈرئینا کو کینیڈا لے کر آئی تھیں تو وہ صرف دو ہفتے کی تھی۔ جب ایڈرئینا سے میری ملاقات ہوئی تو اس کی عمر بارہ برس تھی۔

بے ٹی ڈیوس، ایڈرئینا اور میں پندرہ سال ایک گھر میں اکٹھے رہے۔ ایٖڈرئینا میری بیٹی کی طرح ہے اور وہ بھی مجھے دوست اور باپ کے رشتوں کو محبت سے ملا کر فرینڈلی فادر کہتی ہے۔

ایک سال فادرز ڈے پر ایڈرئینا نے مجھے ایک کارڈ دیا جس میں مندرجہ ذیل خط تھا۔ اس خط سے آپ کو ایڈرئینا کے جذبات اور ہمارے رشتے کی نوعیت اور انفرادیت کا اندازہ ہو جائے گا

DEAR SOHAIL ! I WOULD LIKE TO SAY THANK YOU FOR SUPPORTING ME LIKE A FATHER AND BEING THERE LIKE A FRIEND. I REALLY APPRECIATE THE KINDNESS AND PATIENCE YOU HAVE SHOWN ME WHILE GUIDING ME THROUGH THE MOST DIFFICULT YEARS OF GROWING UP. I KNOW I AM NOT FINISHED BUT I KNOW YOU WILL BE THERE FOR ME UNTIL I REACH MY FULL POTENTIAL. I BELIEVE YOU ARE A VERY UNIQUE PERSON AND I FEEL FORTUNATE TO HAVE YOU IN MY LIFE. HAPPY LIKE A FATHER’S DAY.ADRIANA

پچھلے سال جب بے ٹی ڈیوس اور میں بڑی عزت اور احترام سے دوستانہ طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو میں نے ایڈرئینا سے پوچھا
’بٹیا آپ کس کے ساتھ رہنا پسند کریں گی۔ اپنی امی کے ساتھ یا میرے ساتھ؟ ‘ ۔

ایڈرئینا نے میری طرف دیکھ کر کہا ’آپ کے ساتھ‘ ۔
میں نے بے ٹے ڈیوس کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا ’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ ۔

چنانچہ پچھلے ایک سال سے ہم دونوں ایک تین بیڈروم کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔ ایک کمرہ ایڈرئینا کا ہے۔ ایک کمرہ میرا ہے۔ اور ایک کمرہ مہمانوں کا ہے۔

پچھلے سال جب ڈاکٹر لبنیٰ مرزا مجھ سے ملنے آئیں تو وہ اسی کمرے میں ٹھہریں۔ میں نے ان کا تعارف بے ٹی ڈیوس سے بھی کروایا اور ایڈرئینا سے بھی۔ وہ دونوں میری ’ہم سب‘ کی دوست ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے بہت متاثر ہوئیں۔

ایڈرئینا کا ایک بوائے فرینڈ ہے جس کا نام گیورگی ہے جو بلغاریہ کا ایک ماہرِ اقتصادیات ہے۔ وہ نہایت بھلا مانس انسان ہے اور ایڈرئینا کا بہت خیال رکھتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں۔

جب میری گیورگی سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے کہا ’ایڈرئینا تم سے محبت کرتی ہے اور تم اس سے محبت کرتے ہو۔ مجھے پتہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو اپنا شریکِ حیات بنانا چاہتے ہو۔ تم ہمارے گھر جب چاہو آ سکتے ہو اور جتنا عرصہ چاہو رہ سکتے ہو‘ گیورگی میری بہت عزت کرتا ہے اور بڑے احترام سے پیش آتا ہے۔

پچھلے مہینے جب میں نے ایٖڈرئینا اور گیورگی کو بتایا کہ میں اپنے کزن نوروز عارف، ان کی بیگم چندا اور بیٹے سروش سے ملنے مونٹریال جا رہا ہوں تا کہ ہم سب مل کر نیو ایر کا جشن منائیں تو وہ کہنے لگے ”کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جا سکتے ہیں؟ “ میں نے کہا ”ضرور“۔

چنانچہ میری بیٹی ایڈرئینا اور اس کا بوائے فرینڈ گیورگی میرے ساتھ کار میں مونٹریال گئے بھی اور آئے بھی۔ راستے میں ہم نے اپنا پسندیدہ میوزک سنا اور مونٹریال میں ہم سب نے مل کر بہت خوشگوار وقت گزارا۔

کینیڈا میں نجانے کتنے مشرقی باپ ہیں جن کی بیٹیاں جب جوان ہوتی ہیں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ وہ بیٹیوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ان کے مستقبل کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان لے جا کر ان کی ارینجڈ شادیاں کرنا چاہتے ہیں۔ میں ایسی شادیاں بھی دیکھ چکا ہوں جن میں دولہا کو پاکستان سے امپورٹ کیا گیا لیکن وہ شادیاں زیادہ دیر نہ چل سکیں کیونکہ وہ دولہا کینیڈا کی زندگی کو قبول نہ کر سکا۔

جن جوان بیٹیوں نے کینیڈا میں ڈیٹنگ شروع کی ان کے باپوں کی غیرت جوش میں آگئی۔ بعض نے بیٹیوں کی تذلیل کی، بعض نے مارا پیٹا اور بعض نے تو انہیں غیرت کے نام پر قتل بھی کر دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بیٹیوں کی نجانے کتنی ماؤں نے بیٹی کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔

میرا خیال ہے کہ اکیسویں صدی میں ہم مشرقی باپوں کو اپنی بیٹیوں کی عزت کرنی چاہیے اور ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

میں اپنی بیٹی ایڈرئینا کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔ میں اس کے بوائے فرینڈ گیورگی کی عزت کرتا ہوں اور وہ میری عزت کرتا ہے۔ اسی لیے میرا ایڈرئینا اور اس کے بوائے فرینڈ گیورگی کے ساتھ ایک محبت بھرا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ گرین زون کا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ خلوص، پیار اور دوستی کا رشتہ ہے۔ سب باپوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹیاں اپنی زندگی میں خوش رہیں اور ایسے مردوں کے ساتھ زندگی گزاریں جو ان سے محبت بھی کرتے ہوں اور ان کی عزت بھی کرتے ہوں۔ اگر ہم خود اپنی بیٹیوں کی عزت نہیں کریں گے تو ہم کیسے امید رکھیں گے کہ ان کے شوہر ان کی عزت کریں۔
میں جب بھی اپنی بیٹی کے بارے میں سوچتا ہوں تو میں اپنے آپ کو ایک خوش قسمت باپ تصور کرتا ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 7
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 198 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail