ضرورت ہے سی پیک کے بدلے ایک گیلن پانی کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں طویل خشک سالی کے باعث بیس اضلاع سنگین قحط کی صورتحال سے دوچار ہیں اور لائیو اسٹاک اور زرعی شعبے کی تباہی کے بعد خوراک کی قلت سے مجموعی صورتحال مزید سنگین ہوکر انسانی المیہ جنم لینے کی جانب گامزن ہے ضلع کچھی اور پاکستان کو ایٹمی شناخت دینے والے ضلع چاغی کے کئی دیہات قحط کی وجہ سے ویران ہو چکے ہیں۔ لوگوں کی نقل مکانی کے باعث ماضی کے گنجان آباد علاقے ویرانیوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔ یہاں گھر دکانیں مساجد اور مندر تو موجود ہیں لیکن ان میں بسیرا کرنے والے مکین نہیں رہے۔ آباؤ و اجداد کے گھروں کو نہ چھوڑنے والے رہے سہے افراد مال مویشیوں چرند پرند کی ہلاکتوں کے بعد اب غذائی قلت کے باعث اپنے معصوم بچوں کو بلکتا دیکھ رہے ہیں۔

بلوچستان کے ان قحط زدہ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات اور طبی مشورے کی عدم دستیابی کے باعث صورتحال انتہائی تشویش ناک اور گھمبیر ہے۔ مال مویشیوں کے حوالے سے ملک گیر شہرت کے حامل شہر بھاگ ناڑی میں پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ تالاب اور جوہڑوں میں گزشتہ سال کا جو تھوڑا بہت سبز بدبودار اور آلودہ پانی موجود ہے ایک سو اسی لیٹر کا زہر آلود یہ ڈرم ڈیڑھ سو روپے میں اڑتالیس گھنٹوں کی ایڈوانس بکنگ پر منت ترلوں اور سفارش کے ساتھ ہی ملنا ممکن ہے۔ یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ یہ اسی بھاگ انٹی کا ذکر ہورہا ہے جہاں انسان اور جانوروں کے ایک ساتھ پانی پینے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا اور بلوچستان حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کی اعلی عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں حسب روایت حکام روایتی طفل تسلیوں سے معزز عدالت کو مطمئن کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔

علاقے کی معتبر شخصیت اور بلدیاتی ادارے کے منتخب رکن ارباب قادر بخش ایری نے بتایا کہ قحط سالی کے باعث درجنوں دیہات خالی ہوچکے ہیں خوراک اور چارے کی قلت کے باعث جنگلی حیات تیزی سے معدوم ہورہی ہیں اور سرد موسم کے باوجود کئی کئی میل تک پانی کی عدم دستیابی کے باعث مرے جانور اور بلکتے پرندے جابجا نظر آتے ہیں جانوروں اور چرند پرند کی ہلاکتوں کے باعث اب کسی بھی وقت انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور مارچ کے بعد گرمیوں کی آمد کے ساتھ صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی۔ ارباب قادر بخش ایری کا کہنا تھا کہ بھاگ ناڑی میں آبی قلت کی ایک بڑی وجہ جہاں بارشیں نہ ہونے اور موسمی تبدیلی کے باعث قحط سالی ہے وہاں شہریوں کو متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کی راہ میں مرکزی رکاوٹ انتظامی عدم دلچسپی غفلت اور عدم توجہی بھی ہے۔

بھاگ شہر کو متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کے لئے تین مختلف واٹر سپلائی اسکیمیں موجود ہیں جن میں پٹ فیڈر واٹر سپلائی اسکیم، سنی واٹر سپلائی اسکیم اور شوران واٹر سپلائی اسکیم شامل ہیں تاہم یہ تینوں اسکیمیں عوام کو پانی کی فراہمی میں یکسر ناکام رہی ہیں۔ صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینرنگ کے زیر انتظام ان اسکیمات کے ذمہ دار بجلی کی عدم ترسیل یا وولٹیج کی کمی کا ملبا کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی پر ڈال کر ذمہ داریوں سے مبرا ہوجاتے ہیں تو واپڈا حکام واجبات کی عدم ادائیگی کا ذمہ دار مذکورہ محکمے کو قرار دیتے ہوئے پیاسے عوام کو میدان کربلا کے صبر کی تلقین کرکے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ رہی سہی کسر بھاگ شہر کے نواح میں موجود ان دیہاتوں کے پیاسے عوام پانی چوری کرکے پوری کر دیتے ہیں جو ان واٹر سپلائی اسکیموں کی گزر گاہوں پر واقع ہیں ارباب قادر بخش ایری کا کہنا تھا کہ ان سکیمات کو فعال رکھنے کے لئے ان کا انتظام و نگرانی ایف سی کو دے دی جائے اور تین مقامات سنی۔ میسر۔ اور حاجیجہ میں ایف سی چیک پوائینٹ قائم کرکے صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ارباب کا کہنا تھا کہ ریاست سے ہم پینے کے لئے پانی مانگتے مانگتے بے بس و ہوچکے تو متعلقہ محکمے طفل تسلیاں دیتے دیتے ڈھیٹ اور بے حس ہوچکے ہیں۔ عدالت عظمی کے از خود نوٹس پر عدالت کو مطمئن کرنے کے لئے افسر شاہی وہیں طریقے اپنا رہی ہے جو کوئٹہ سے لے کر اسلام آباد کے ایوانوں تک پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں قحط سالی پر صوبائی حکومت نے محض بلوچستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھاڑتی کے توسط سے محدود راشن کمبل اور خیموں کی وہ روایتی کھیپ پہنچائی ہے جو سیلاب سے لے کر زلزلے اور بارشوں سے لے کر آندھی وطوفان کے مقاصد کے لئے سال میں ایک ہی دفعہ خرید کر سرکاری مال خانے میں اسٹاک کردی جاتی ہیں اور اکثریت میں ان کی تقسیم بھی بھوک و افلاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ عام انتحابات میں ووٹ دینے یا نہ دینے کی سزا یا جزا کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جہاں عالمی تجارتی روٹ سی پیک کی کے تناظر میں بلوچستان کو مستقبل کا شنگائی اور دبئی قرار دیا جارہا ہے وہاں کے باسی حکمرانوں سے ایک گیلن پانی کے طلبگار ہیں تاکہ اپنے بچوں کی پیاس بجھا کر اندون خانہ مسائل سے نمٹ کر گھروں سے نکلیں اور سی پیک کی تعمیر و ترقی میں عالمی تجارتی منڈیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کمربستہ ہوں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں