دماغی صحت کا عالمی دن اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور ہم نے تمہیں اشرف المخلوقات بنایا۔ تمام مخلوقات میں عظیم حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے کام کرنے کے لئے ہاتھ چلنے کے لئے پاؤں اور سوچنے اور سمجھنے کے لئے دل و دماغ دیے۔ دنیا میں رہنے کے کچھ اصول ہے۔ ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ انسان اپنی جسمانی و ذہنی صحت کا خیال رکھے۔ صحت مند وہ ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تندرست ہو اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمیں جب کچھ جسمانی بیماری لاحق ہوتی ہے تو اس کے لئے کسی میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔

اور اس طرح کوئی ذہنی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم اس کے لئے کسی سائیکاٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ یعنی ماہر نفسیات کے پاس نہیں جاتے۔ ماہر نفسیات کے پاس نہ جانا معاشرتی رویہ ہے۔ کیونکہ ہمیں ڈر رہتا ہے کہ لوگ ہمیں پاگل کہہ کر پکاریں گے تب معمولی نفسیاتی بیماری آگے جا کے خطرناک بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہم ایک انتہا پسند معاشرے میں رہتے ہیں اس لئے مریض کو حوصلہ اور ہمت دینے کے بجائے اس کا مرض اور بھی بگاڑ دیتے ہیں۔

میری نزدیک لوگوں کو دماغی صحت کے حوالے سے آگاہی دینا بہت ضرور ی ہے اس حوالے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 10 اکتوبر دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ دن منانے کا مقصد لوگوں ذہنی امرا ض اور دماغی صحت کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن کو بہت احتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر پاکستان میں اس دن کے حوالے سے اتنی کوئی خاص تقاریب نہیں ہوتی۔ اور جو ہوتی ہے اس میں اتنی کشش نہیں ہوتی کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔

ذہنی امراض اور دماغی صحت کے حوالے سے جتنی بھی تقاریب اور مہم چلتے ہیں جو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں نے جس معاشرتی رویہ کی بات کی جو ذہنی مریض کے ساتھ ہماری ہوتی ہے وہ آگاہی مہم بہت کم اور نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔ ہم ہرکا م منفی کام میں آگے اور مثبت کام میں پیچھے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ لوگ لفظ سائیکالوجی کو بول تک نہیں سکتے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ یہ لفظ ”P“ سے شروع ہوتا ہے کہ Sسے۔ تو دماغی صحت اور امراض کو جاننا بہت دور کی بات ہے۔

لفظ سائیکالوجی انگلش میں ”“ Pسے شروع ہوتا ہے۔ اور اُردو میں ”س“ سے۔ ذہنی بیماریوں کے معاملے میں ہم اب بھی اس پتھر کے دور میں رہتے ہیں اس زمانے میں جب کسی انسان کو ذہنی مرض لاحق ہو جاتا تو لوگ اس کو بیماری نہیں بلکہ کسی جن بھوت یا چڑیل کا سایہ کہلاتے۔ اور ان کا علاج اتنی خطرناک طریقوں سے کیا جاتا مثلاً مریض کے سر میں کیل کے ذریعے سوراخ کرتے اور اس دن کا انتظار کرتے جس دن مریض ٹھیک ہو گیا تو سمجھ لو مریض کے سر میں سوراخ کے ذریعے سے سایہ نکل گیا اور جب تک ٹھیک نہیں ہوتا تو وہ یہ عمل بار بار دہراتے۔

اسی طرح ہمارا رویہ ذہنی مریض کے ساتھ بہت برا ہوتا ہے۔ ذہنی مریض کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے مریض کو پورے معاشرے میں تنہا کر دیتے ہیں۔ مارتے بھی ہیں۔ خدا کے لئے اگر کسی کو نفسیاتی مسئلہ پیش آجائے تو اس کو سائیکاٹریسٹ یا ماہر نفسیات یعنی سائیکالوجسٹ سے معائنہ کروائے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق ذہنی بیماریاں بہت تیزی کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور پاکستان سب سے زیادہ اس کا شکار ملکوں میں سے ہیں۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ علاج کے لئے ماہر نفسیات کے پاس جاتے نہیں۔ 2030 تک ڈپریشن دنیا کا سب سے بڑا مرض ہوگا۔ یہاں چونکہ لوگ لوگوں کو مرض کے بارے میں پتہ ہی نہیں۔ کہ مجھے ڈپریشن ہے۔ استاد محترم پروفیسر سر زاہد نظر شعبہ نفسیات لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی عمر دراز رکھے۔ بہت محبت کرنے والے انسان ہے۔ ان کا سایہ ساری عمر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ کہتے ہیں کہ ذہنی امراض کے بارے میں لوگوں کو مقامی زبان میں سمجھاؤ جیسے ڈپریشن ہے تو اس کو غم کی بیماری کہتے ہیں۔

اس میں مریض کو رونا آتا ہے دماغ پر بوجھ محسوس کرتا ہے سر میں درد ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح Anxietyآ ج کل ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ اس کو خوف کی بیماری کہتے ہیں۔ اس میں مریض مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتا ہے اور اس میں فیصلہ کرنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے اس وجہ سے کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس میں اس کو کہیں ناکامی کا سامنانہ کرنا پڑے۔ اس لئے تمام ماہر نفسیات کو چاہیے کہ لوگوں کو ذہنی بیماریوں کے بارے میں اپنی مقامی زبان میں سمجھائے۔

لوگوں میں شعور بیدار کرنے میں ریاست اور حکومت وقت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت وقت کے پاس ذہنی امراض اور دماغی صحت کے حوالے سے کوئی سیٹ اپ ہی نہیں۔ ریاست تو ماں کے جیسی ہوتی ہے۔ اور ادارے اس کے بچے ہوتے ہیں تو ماں ایک بچے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے جو نفسیات کا شعبہ کہلاتا ہے جو کہ بہت ضرور ی ہے تمام ادارے ٹھیک ہونے چاہیے۔ مگر آج کل چونکہ ٹیکنالوجی کا دور ہے انٹرنیٹ، سیلفی ایڈکشن، بیروزگاری اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

جس کی باعث نوجوانوں میں منشیات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کی کاؤنسلنگ کے لئے تعلیمی اداروں میں ماہر نفسیات بھرتی کیے جائے مگر یہ بھرتی کون کریں گا۔ حکومت وقت کو شعبہ نفسیات میں کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ خدا کے لئے اس طرف غورو فکر کریں حالات ہمارے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں۔ حکومت کو تو کوئی دلچسپی نہیں مگر ماہر نفسیات بھی اس سلسلے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ پاکستان میں ماہر نفسیات کا کوئی باقاعدہ تنظیم ڈھانچہ نہیں۔

اور ان میں اتنا دم نہیں کہ بنا سکے۔ اور اگر کوئی چھوٹا تنظیم ہے بھی تو اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔ پاکستان میں جتنے بھی ماہر نفسیات ہے ان کو چاہیے کہ اپنا کوئی فعل تنظیم بنائے۔ جس میں تمام صوبوں کے ماہر نفسیات اور سائیکاٹرسٹ کو شامل کریں اور حکومت کے سامنے اپنے تجاویز رکھے۔ کہ ہر سکاری سکول کی سطح پر ماہر نفسیات کو بھرتی کریں۔ چونکہ بچوں کی ابتدائی تعلیم جب ماہر نفسیات کی زیر نگرانی ہوگی تو بچوں کو اپنی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی گی۔

پورے پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ مختلف کاؤنسلنگ سنٹر قائم کیے جائے جس میں لوگوں کو دماغی صحت کے حوالے سے لیکچر دیے جائے۔ موجود حکومت ویسے بھی انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے وزیر اعظم عمران خان صاحب اپنے ہر تقریر میں یہی بات دہراتے ہیں کہ جن ملکوں نے انسانوں پر پیسہ خرچ کیا یعنی انسانوں کے فلاح و بہبود کے لئے کام کیے تو ان قوموں نے ترقی بھی کی۔ یورپ ہم سے ذہنی امراض کے علاج میں بہت آگے ہیں۔

وہاں پر ماہر نفسیات سے ملنے کے لئے چار چار مہینے کا انتظار کرنا پڑھتا ہے تبی ان قوموں نے ترقی کی وہ لوگ ذہنی مریض کو مریض کہتے ہیں جب کہ ہم ذہنی مریض کو پاگل کہہ کر پکارتے ہیں۔ بس یہی فرق ہے ہم میں اور اُن میں۔ اور یہی ہماری اصلیت ہے۔ اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ پاکستان میں ہر صوبے میں باقاعدہ طور پر ایک مینٹل ہسپتال قائم کیا جائے جس میں تمام سہولیات موجود ہو۔ ہمیں ایک مثبت ماحول بنا نا ہوگا اور مثبت انداز میں کام کرنا ہوگا یہ ملک ہمارا ہے۔ اس لئے

اس کو ٹھیک کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ پروفیسر سر ولیم جیمز مشہور ماہر نفسیات کہتے ہیں

کہ حالات انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ اس کے بارے میں مثبت سوچیں گا تو مثبت ہوگا اور اگر وہ منفی سوچتا ہے تو منفی ہوگا۔ اس لئے ہمیں اپنا ماحول مثبت بنانا ہوگا۔ تب یہ ملک ترقی کرے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  
جنید احمد کی دیگر تحریریں
جنید احمد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں