بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 7
  •  

بلتستان طول تاریخ میں وقتا فوقتا مقامی راجاوں کی جنگوں کا مسکن رہا ہے۔ ڑگیالفو علی شیر خان انچن کی سلطنت لداخ سے لے کر چترال تک پھیلا ہوئی تھی۔ یہاں کی مفصل تاریخ مختلف کتب میں درج ہیں۔ ذیل میں بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ انگریز مصنف جی ٹی وین کے سفر نامے سے خلاصتا ماخوذ ہیں جو کہ انہوں نے آخری مقپون راجہ ڑگیالفو احمد شاہ کی زبانی اپنی کتاب میں تحریر کی۔ جی ٹی وین نے (سن 1835 تا 1838 ) بلتستان کے آخری ڑگیالفو احمد شاہ کی دعوت پر سکردو، شگر، خپلو، کھرمنگ کے دورے کیے۔

ڑگیالفو علی شیرخان انچن کی سلطنت بلتی یول/ لٹل تبت ان کے بیٹے احمد خان کی وفات کے بعد دوسرے بھائیوں عبدال اور آدم خان کی آپس کی چپقلش کی نذر ہوگیی۔ عبدال خان نے پڑوس کے راجاوں کو دبانا چاہا تو مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیرنے ان کی مدد کے لئے کشمیر سے لشکر بھجوادی۔ عبدال خان تسلیم ہوگئے اور دونوں بھائیوں نے مغل دربار میں حاضری دی۔ مغل شہنشاہ نے سلطنت کو آپس میں تقسیم کرنے کا کہا، مگر وہ ہندوستان سے واپسی پر کشمیر میں فوت ہوگئے۔

[ یہاں انگریز مصنف کی تحریر میں درج نہیں کہ شاہ مراد کیسے بلتستان کا راجہ بن گیا] احمد خان کے بیٹے شاہ مراد کو مغلوں نے کشمیر میں جاگیر سے نوازا، جبکہ شاہ مراد کے بعد رفیع خان جانشین بنے اور ان کے بعد سلطان مراد، جنہوں نے لداخ پر دوبارہ قبضہ کرلیا جوکہ علی شیرخان انچن کے بیٹوں کی حکمرانی کے دوران چھن چکا تھا۔ ان کی سلطلنت میں گلگت، نگر، ہنزہ اور چترال بھی شامل رہا۔ ظفر خان کے زمانے میں سکردو قلعے کو آگ لگا کر تباہ کردیا گیا اور تمام قیمتی چیزیں اس آگ کی نذر ہوگئیں جن میں قدیم کتب بھی شامل تھیں۔ کھیلونچے جن کا تعلق پوریک سے تھا، انہوں نے سکردو تخت کو اکھاڑ دیا۔ ظفر خان تخت سکردو کو پوریک کے شہنشاہ کھیلونچے سے واپس لینے میں کامیاب ہوئے اور غازی قرار پائے۔

موجودہ راجہ ( احمد شاہ 1835 ) کے والد علی شاہ خان نے شگر قلعہ پر قبضہ کرلیا اور اسے لداخی حملہ آوروں کے لئے زندان بنا دیا۔ جب احمد شاہ اپنے والد کے ولیعہد کے طور پر پہچانے جاننے لگے تب وہ بہت چھوٹے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دربار کے عہدیدار ان کی ناتجربہ کاری اور کم عمری کی وجہ سے پریشان کرتے۔ یہاں تک کہ قلعہ شگر گیارہ سال تک ان کے خلاف رہے، اور بالآخر تسلیم ہونے پر مجبور ہوگئے۔ حکمرانی کے شروع کے سال ان کے ساتھ بہتری میں گزرگئے۔

علی شاہ خان کے دو بیٹے احمد شاہ، والی سکردو اور غلام شاہ والی پرکوتہ ( مہدی آباد) ، کو سلطنتیں ان کے والد سے ترکے میں ملیں اس طرح ڑگیالفو احمد شاہ کی حکمرانی خپلو، شگر، کریس، کرتخشہ ( کھرمنگ) ، طولتی، پرکوتہ، اور روندو پر مشتمل علاقوں پر ہے۔ جبکہ اس دوران لداخ جموں کے راجہ کی حکمرانی میں ہے، جسے مہاراجہ جموں گلاب سنگھ کے وزیر زور آور سنگھ نے حملہ کرکے فتح کیا۔ (محض چند سال بعد زور آور سنگھ کی فوج بلتستان پر حملہ آور ہوئے اور سو سال سے بھی زیادہ عرصہ کے لئے احمد شاہ کی سلطنت ڈوگروں کے قبضے میں چلی گئی۔ جبکہ احمد شاہ کو فیملی سمیت کشمیر کی جنگلات میں جلاوطن کردیا، جن کی اولاد اب بھی وہیں بس رہے ہیں ) ۔

ڑگیالفو احمد شاہ کے پانچ یا چھے بیٹے ہیں۔ سب سے بہادر اور بڑے بیٹے شاہ مراد فوت ہوگئے۔ جبکہ اس کے بھائی محمد شاہ کسی قابل شاہ مراد کے پلے کا نہیں۔ ان کی ناقابلیت کے سبب ان کی جگہ احمد شاہ نے دوسرے بیٹے محمد علیخان کو ولیعہدی کے لئے آگے کیا۔ محمد علیخان راجہ شگر کی بیٹی کے بطن سے تھا۔ جبکہ شاہ مراد اور محمد شاہ راجہ کرتخشہ کی بیٹی کے بطن سے۔ مصنف کے بقول چونکہ سکردو کے ڑگیالفو ولیعہدی کے لئے کرتخشہ (کھرمنگ) کی ڑگیالمو (رانی) کی بطن سے ہونیوالے بیٹے کا انتخاب کرتے تھے۔

اور راجہ کرتخشہ کے نواسے ہونے کے ناطے محمد شاہ ولیعہدی کو اپنا حق سمجھتا تھا، اس لیے اپنی سبکی برداشت نا کرسکے۔ اپنے والد کے ساتھ بغاوت کردی، اور انہوں نے گلاب سنگھ کے لیفٹننٹ کے پاس پوریک قلعہ میں پناہ لے لیا۔ گلاب سنگھ نے اپنے پپٹ کے طور پراستعمال کرتے ہوئے محمد شاہ کو سکردو کا گورنر بنانے کا جھانسہ دیا اور احمد شاہ کو پریشان کرنا شروع کردیا۔

ڑگیالفو احمد کی جانب سے انگریز مصنف کو بلتستان دورے کی دعوت در اصل کشمیری سکھوں اور جموں کے ڈوگروں کی خوف کی وجہ سے تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہوں۔ کیونکہ یہی ایک صورت تھی جس سے وہ کشمیر اور جموں سرکار کے حملوں سے محفوظ رہ سکتے تھے لیکن ان کی یہ خواہش خواہش ہی رہ گئی۔ بظاہر محمد شاہ کی ایمإ پر ڈوگرہ سپہ سالار وزیر زور آور سنگھ نے لداخ اور پوریگ پر قبضے کے بعد سن 1840 میں بلتستان پر حملہ کیا اور احمد شاہ کی جگہ اس کے بیٹے محمد شاہ کو راجہ سکردو مقرر کیا۔

ڈوگروں کا بلتستان پر قبضہ بعد ازاں گلگت تک پھیل گیا۔ کئی بغاوتیں ہوئیں۔ جس میں راجہ شگر حیدر خان اماچہ اور غذر کے والی گوہر امان کی طرف سے مزاحمت قابل ذکر ہیں۔ در اصل بلتستان کے علاقوں پر قبضے کے بعد ڈوگروں نے سن 1846 میں انگریزوں سے کشمیر کو خرید لیا۔ جبکہ مختلف علاقوں میں انگریز اپنی کٹھ پتلی گلاب سنگھ کی سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لئے اپنی فوج مامور کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ گلگت اور ملحقہ افغان اور چائینہ سرحدی علاقوں تک میں برصغیر کی تقسیم تک انگریز فوج اور انتظامی اہلکار تعین رہے۔

والیِ کرتخشہ ( کھرمنگ ) علی شیر خان، خوش شکل اور مضبوط جوان ہیں، ڑگیالفو احمد شاہ کے داماد اور بھتیجے ہیں۔ مصنف دو یا تین مرتبہ ان سے ملے۔ ہمیشہ بہت خوش دلی اور مروت کساتھ ملے اوردریائے سندھ کے ساتھ بنے ان کے باغ میں انہوں نے انگور اور خوبانی ساتھ کھائے۔ مصنف کے بقول لداخ سرحد کی جانب ڑگیالفو احمد شاہ کا اخری مضبوط ترین قلعہ کرتخشہ ہے۔ یہاں کے باسی کٹر شیعہ ہیں۔ انگریز مصنف لکھتے ہیں کہ انہیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ دو مرتبہ وہ اپنے ٹینٹ میں غمزدہ سوز اور نوحوں کی وجہ سے جاگ گئے تھے جوکہ قریبی مسجد میں ”حسن اور حسین“ کی آوازوں کے ساتھ گونج رہے تھے۔

Book : Travels in Kashmir، Ladak، Iskardo

Volume۔ 2

By: G۔ T۔ Vigne 1842

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 7
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں