ہوٹل مینیجمنٹ کی تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے دور میں تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ نوکری کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور ہر قسم کی نوکری کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ اس کے علاوہ غریب نوجوان کے پاس کوئی اور آپشن موجود نہیں۔ نوکری چاہے جیسی بھی ہو بس تنخواہ ایک اچھی رقم کے ساتھ وقت پر ملنی چاہیے۔

’ہوٹل مینجمنٹ‘ ایک ایسی تعلیم ہے جس میں غریب نوجوانوں کو امیر مہمانوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور انہیں مطمعئن کرنے کا طریقہ کار سکھایا جاتا ہے۔ امیروں کی خدمت کرنے والے غریب طالب علموں کو استاد کی جانب سے ابتداء میں ہی واضح طور پر سمجھا دیا جاتا ہے کہ کام پر آنے سے پہلے اپنی تمام طر پریشانیاں راستے میں کسی نالے میں پھینکتے ہوئے آنا تاکہ تمہارے عجیب و غریب چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نظر آسکے کیونکہ تم نے ہوٹل میں آنے والے امیر مہذب گھرانوں کے مہمانوں کو اپنے والد اور دادا سے بھی زیادہ عزت دیتے ہوئے ان سے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بات کرتے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا ہے۔ انہیں کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع ہر گز نہیں دینا اور مہمانوں کی تمام الٹی سیدھی خواہشات کا مکمل طور پر احترام کرنا ہے کیونکہ ”customers are always right“ کسٹمر تو ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔

دور جدید میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی جنم لے رہی ہیں ویسے ہی دور جدید میں ماضی کے ادوار کی نسبت جدید قسم کی پریشانیاں بھی جنم لے رہی ہیں اور ان جدید پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے بھی جدید طریقہ کار متعارف کیے جارہے ہیں۔ ہوٹل مینیجمنٹ کے غریب طالب علموں کو ان تمام پریشان کن مہذب گھرانوں کے امیر مہمانوں کو خوش رکھنے کے لیے مختلف قسم کے طریقہ کار سکھائے جاتے ہیں۔

ہوٹل مینیجمنٹ کے غریب طالب علم جن کا اٹھنا بیٹھنا عموما ملنگ طبقے کے ساتھ ہوتا ہے مگر جب ان کے سامنے معزز گھرانوں کے بڑے لوگ تشریف لاتے ہیں تب انہیں ان کے سامنے سر جھکانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ یہ وہی غریب طالب علم ہیں جو بچپن میں اپنے اسکول میں اس وقت ہاتھ کھڑا کرتے تھے جب استانی یہ سوال پوچھا کرتی تھی کہ ”کون بچہ بڑے ہوکر ڈاکٹر بنے گے“ مگر زمینی حقائق معلوم ہونے کے بعد آج وہ بچے جدید طرز میں اٹھانے کے طریقہ کار سیکھ رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کا علم حاصل کرنے کے بعد سمجھ رہے ہیں کہ وہ جتنا اچھے طریقے سے اٹھانے یعنی کہ ہاسپٹیلٹی کی رسم و رواج سمجھ جائیں گے تب وہ اتنا ہی بہتر سے بہتر ہوٹل میں بہتر سے بہتر نوکری حاصل کر سکیں گے کیونکہ بہتر سے بہتر ہوٹل میں بہتر سے بہتر معزز مہمان تشریف لاتے ہیں اور جب انہیں بہتر سے بہتر ہاسپٹیلٹی سروس سے نوازا جائے گا تب وہ اتنا ہی بہترین رقم وصول کرسکیں گے۔
مگر ان غریب طالب علموں کو پریشانی یہ پیش آرہی ہے کہ اگر وہ وی آئی پی افراد سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھ گئے تو پھر شاید اپنے جیسے ملنگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی عادت ختم ہوجائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •