احتساب کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا نیب کے علاؤہ سارے چور ہیں، نیب جب چاہتا ہے ایک درخواست کی بنیاد پر ہر کسی کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے نجانے کتنے ریمارکس نیب، نیب چیئرمین اور نیب کے ادارے کے طریقۂ کار کے متعلق مختلف اوقات میں عدالت عظمیٰ اور عالیہ کے معزز ججز وقتاً فوقتاً دیتے رہے ہیں۔ احتساب بیورو سے قومی احتساب بیورو کے قیام تک نیب احتساب سے زیادہ سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے، ان کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے لئے ہی استعمال ہوا ہے۔
اس قانون کی وجہ سے ارض پاک میں بدعنوانی کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ نیب کا موجودہ قانون ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قبضہ کرنے کے بعد فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے لاگو کیا جب کہ اس میں ترامیم کے موجد وزیراعظم صاحب کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر صاحب ہیں جنہوں نے اس قانون کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے، اپنے مقاصد کے حصول کے مطابق انتہائی سخت، ظالمانہ اور استبدادانہ بنا دیا جس کی وجہ سے چیئرمین نیب ملک کے چیف ایگزیکٹو سے بھی زیادہ طاقتور بن گئے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار کے آٹھ ساڑھے آٹھ سال میں نیب پیٹریاٹ بنانے کے لئے پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال ہوا، مسلم لیگ ق بنوانے کے لئے مسلم لیگ ن کے خلاف استعمال ہوا نیز ہر اس سیاستدان اور سیاسی کارکن کے خلاف استعمال ہوا جس کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کے مطلق العنان جابرانہ، غیرآئینی اقتدار کو ذرا سا بھی خطرہ لاحق ہوا۔ نیب کا قانون یا تو سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے خلاف حرکت میں آیا یا پھر عام پاکستانیوں کے جن میں سرکاری ملازمین سے لے کر کاروباری افراد تک ہر طبقے کے افراد شامل تھے ماسوائے عدلیہ اور افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کے۔
نیب کا سیاسی کردار 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو سیاسی معاملات اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے حوالے سے بہت کم ہوگیا تھا، اسی طرح مسلم لیگ ن کے دور اقتدار 2013 میں نیب کا سیاسی کردار ایک بار پھر ابھر کر سامنے آنا شروع ہوا مگر اس میں وہ تیزی و تندی نہیں نظر آئی جو ماضی میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے حوالے سے نیب کا خاصہ رہی۔ اس دوران نیب مختلف سرکاری اداروں اور سرکاری افسران و نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے اشخاص کے خلاف سرگرم عمل رہا اس دوران نیب کبھی کبھار سیاسی اکابرین کے خلاف بھی کچھ ہاتھ پیر مارتا نظر آیا جس پر یک زبان ہوکر ن لیگی وزراء یہاں تک کہ میاں صاحب خود کبھی نیب کو پگڑیاں اچھالنے کے طعنے دے کر ڈراتے تو کبھی خود کو لوہے کے چنے کہہ کر نیب کو دھمکاتے، نیب بھی اپنے تیئں سیاسی قیادت اور ان کے ہمنواؤں کو اپنی پھرتیاں دکھا کے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
نیب کا مکروہ کردار سب سے پہلے سیف الرحمان اور پھر جنرل مشرف کے دور میں عیاں ہوا جب اسے صرف اور صرف سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا گیا۔ نیب کے وجود میں آنے سے اب تک سزاؤں کی شرح انتہائی شرمناک حد تک کم ہے۔ نیب اہلکار انکوائری کرنے کے بہانے مختلف سرکاری اداروں میں ہلہ بول دیتے ہیں سرکاری ملازمین کے ریوڑ کے ریوڑ انکوائریوں کی آڑ میں طلب کیے جاتے ہیں پھر بھاری نذرانے لے کر رشوت دینے والے بری الزمہ قرار پاتے ہیں باقیوں کو ریفرنسز میں شامل کردیا جاتا ہے، عقوبت خانوں میں بدترین ذہنی جسمانی تشدد کے ذریعے ان سے ناکردہ جرم قبول کروائے جاتے ہیں۔
انتہائی جھوٹی شہادتوں کی بنیاد پر دائر کیسز اس سے بھی زیادہ کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے عدالتوں میں نیب کی ہذمیت و رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ جس کے سبب نیب بحیث ادارہ دن بدن اپنی اہمیت، حیثیت اور افادیت کم کرتا جا رہا ہے۔ نیب میں خان صاحب کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور جھوٹے کیسز بنانے کا بیانیہ ایک بار پھر تقویت پاتا جا رہا ہے، عدالت عظمیٰ سے لے کر صوبائی اعلیٰ عدلیہ اکثر نیب کی نا اہلی اور کردار پر نیب کی سخت سرزنش کرتے نظر آتے رہے ہیں، سابقہ چیئرمین نیب قمر الزماں چودھری کو طلب کرکے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ان کے بارے میں جو ریمارکس دیے تھے وہ نیب کی بدترین کارکردگی ان کی اہلیت اور جانبداری پر سوالیہ نشان کی طرح اپنی جگہ پر موجود ہے۔
آج ایک بار پھر نیب عوامی کٹہرے میں کھڑی ہے، ان کی کارروائیوں کا ہدف صرف اور صرف اپوزیشن جماعتوں کی قیادت ہی نظر آ رہی ہے، انہیں زبیدہ جلال کے خلاف توانا پاکستان کرپشن کیس، جہانگیر ترین کے اربوں روپے کے ناجائز اثاثے، علیم خان کی اربوں روپے کی لوٹ مار، فہمیدہ مرزا کے معاف کروائے گئے اربوں کے قرضے، متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی حیدرآباد کے بلدیاتی اداروں کے عوامی فنڈز میں اربوں کھربوں روپے کی لوٹ مار، پرویز خٹک، پرویز الٰہی، اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم عمران خان خود اور ان کی بہن علیمہ خان کی خیراتی اداروں کے نام پر اربوں روپے کی غیر قانونی جائدادیں نجانے کیوں نظر نہیں آ رہی ہیں۔
اللہ رب العزت روز قیامت جب حساب لے گا تو اس کی مضبوط پکڑ میں سب سے پہلے انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے منصف آئیں گے، پھر ناپ تول میں بے ایمانی کرنے والے، پھر حاکم وقت، اس کے بعد رعایا کی عزت، جان و مال اور ملکی سرحدوں اور سلامتی کے محافظوں کی پکڑ ہوگی، ہمارے ملک میں حاکموں کو تو ہر دور میں احتساب کے شکنجے میں کس دیا جاتا ہے لیکن آج تک انصاف کی کرسی پر بیٹھے منصف اور ملک کی سرحدوں کے محافظ کبھی احتساب کے شکنجے میں نہیں آئے ایک سابق کمانڈو بھی ہر قسم کے احتساب سے بالاتر عدالتوں میں پیش ہونے کے بجائے اپنی جمع کی ہوئی اربوں روپے کی جائیدادوں کے مزے اڑا رہا ہے۔
پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ ملک میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا، احتساب ویسے ہی بلا امتیاز ہوگا جیسے قرآن پاک و سنت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں احتساب قرآنی تعلیمات اور سنت کے مطابق ہوتا رہا ہے، جب کائنات کے مالک کے نزدیک کسی کو امیری غریبی، رنگ و نسل، حیثیت و مرتبے، قوم و قبیلے کی بنیاد پر استثنا حاصل نہیں ہے تو ایسے ملک میں جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر وجود میں آیا اس میں احتساب میں امتیاز کیوں برتا جاتا ہے۔
جب ملک کے حاکم سے لے کر عام رعایا تک سب قابلِ احتساب ہیں تو کیوں کچھ لوگ، کچھ طبقات کچھ ادارے احتساب سے بالاتر ہیں۔ پاکستان میں اب تک نیب جس طرح کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے ان کا احتساب کون کرے گا۔ نیب اہلکاروں کی اکثریت اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے، لوٹ کے پیسے میں اپنا حصہ بٹورنے میں ملوث ہیں ان کی اپنی پکڑ کا کیا مکینزم ہے یہ اب تک واضح نہیں ہے۔ نیب چیئرمین کا یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں، جس کے خلاف چاہیں، جیسے چاہیں کارروائی کا حکم صادر فرما سکتے ہیں جو کسی طور بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرگز نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کو اصل اسلامی جمہوری مملکت بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں احتساب، بلا امتیاز اسلامی قوانین، قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں نافذ کیا جائے ایسا قانون جس پر ایمانداری اور خلوصِ نیت سے عملدرآمد کیا جائے جس میں کسی بھی شخص کو اپنی حیثیت و مرتبے کی بنیاد پر استثنا حاصل نہ ہو تب ہی پاکستان میں احتساب کی حیثیت، اہمیت اور شفافیت پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے گا۔


